| 78936 | خرید و فروخت کے احکام | دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت |
سوال
زید نے حامد سے دس لاکھ کا گھر خریدا اور قبضہ سے پہلے حامدکوواپس تیرہ لاکھ کا بیچا تو کیا زید کے لئے قبل القبض حامد کو واپس بیچنے کی یہ صورت جائز ہے؟ مندرجہ بالا مسئلہ کے بارے میں ہدایہ اور اس کی شروحات اسی طرح قدوری اور اس کی شروحات میں مطلقاً لکھا گیا ہے کہ زمین کی بیع قبل القبض جائز ہے،جس میں اسی بائع کو بیچنا اور بائع کے علاوہ کسی اور کو بیچنا دونوں صورتیں آجاتی ہیں، اسی طرح ہدایہ کی کتاب الدعوی میں باب ما یدعیہ الرجلان میں ایک مسئلہ کے ضمن میں صاحبِ ہدایہ نے زمین کی اسی بائع پر بیع قبل القبض کو جائز بتلایا ہے، فتح القدیر، بنایہ،البحر الرائق اور بدائع الصنائع کی کتاب الدعوی میں اور اسی طرح شامی کی کتاب الدعوی میں بھی اس کو جائز بتلایا ہے، لیکن علامہ شامی رحمہ اللہ نے کتاب البیوع میں اس صورت کو ناجائز کہا ہے، جس پر علامہ رافعی رحمہ اللہ نے نقد بھی فرمایا ہے کہ عدم جواز کا قول اصول کے خلاف ہے تو آیا علامہ شامی رحمہ اللہ کے کتاب البیوع کےعدمِ جواز کے قول پر فتویٰ دیا جائے گایاعام اصول کے تحت جواز کا حکم لگے گا۔
وضاحت: سائل نے بتایا کہ چھ ماہ بعد زمین حامد کو بیچی گئی ہے، جبکہ قیمت بھی ادا کر دی گئی تھی اور پہلے سے طے بھی نہیں تھا کہ گھر واپس حامد کو ہی بیچا جائے گا، بلکہ اتفاقا ایسا ہو گیا، کیونکہ اس گھر میں ان کا ایک کمرہ تھا، جس میں ان کا کوئی ملازم وغیرہ رہتا تھا، اس لیے شاید ان کو ضرورت پیش آئی تو انہوں نے کہا کہ واپس ہمیں تیرہ لاکھ میں بیچ دو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زمین اور گھر وغیرہ پر قبضہ سے کرنے سے پہلے آگےبیچنے میں فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کے درمیان اختلاف ہے، حضراتِ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک عام حالات میں زمین کو قبضہ سے پہلے بیچنا جائز ہے، البتہ اگر کوئی زمین دریا وغیرہ کے کنارے پر ہواور اس کے ضائع ہونے کا امکان ہو تو ایسی صورت میں قبضہ سے پہلےاس کی خریدوفروخت جائز نہیں۔جبکہ حضرت امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک زمین کی خریدوفروخت قبضہ سے پہلے بہر صورت ناجائزہے، انہوں نے قبضہ سے قبل بیچنے کی ممانعت سے متعلق حدیث کے اطلاق کا اعتبار کرتے ہوئے منقولی اورغیر منقولی اشیاء دونوں میں قبضہ سے پہلے آگے بیچنے کو ناجائز قرار دیا ہے، حنفیہ کی اکثرعبارات میں یہ اختلاف ذکر کیا گیا ہے، البتہ ان میں حضراتِ شیخین رحمہما اللہ کے قول کو راجح اورمفتی بہ قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں تصریح کی گئی ہے، نیز بعض متون میں بغیر کسی اختلاف کےحضراتِ شیخین کے مذہب کے مطابق صرف یہی مذکور ہے کہ زمین کی خریدوفروخت قبضہ سے قبل جائز ہے۔
جہاں تک واپس بائع کو بیچنے کا تعلق ہے تو اکثر متون میں زمین کی خریدوفروخت کو حضراتِ شیخین رحمہما اللہ کے مسلک پر قبضہ سے پہلےبائع اور غیر بائع کو بیچنے کے فرق کےبغیر مطلقاً جائز قرار دیا ہے، جیسا کہ قدوری، کنز، بدایة المبتدی، ملتقی الابحر اور الاختیار وغیرہ میں مذکورہے، البتہ بعض متون جیسے امام ابو الحسن قدوری کی کتاب " التجرید" اور الدر المختار للحصکفی كی عبارت ميں قبضہ سے پہلےواپس بائع کو بیچنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔
التجريدللقدوري (5/ 2424) (المتوفى: 428 هـ) مركز الدراسات الفقهية:
بيع العقار قبل قبضه من بائعه: قال أبو حنيفة، وأبو يوسف: يجوز بيع العقار قبل قبضه من بائعه.
اسی طرح بعض شروح جیسے ہدایہ، بنایہ، بدائع الصنائع اور البحر الرائق وغیرہ میں کتاب الدعوی کے ایک مسئلہ کے تحت ذکر کی گئی تفصیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک قبضہ سے پہلے واپس بائع کو بیچنا درست ہے، اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ اگر قابض اور غیرقابض کا کسی چیز کی ملکیت میں جھگڑا ہوااور دونوں نے اس بات پر گواہ پیش کیے کہ اس نے یہ چیز دوسرے شخص یعنی اپنے مقابل فریق سے خریدی ہے تو اس میں حضرت امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک خارج کے حق میں جبکہ حضراتِ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک قابض کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا اور اس کی توجیہ یہ کی گئی ہے کہ گویا خارج (غیرقابض) نے پہلے وہ چیز صاحبِ ید (قابض )سے خریدی اورپھر اس نے قبضہ کرنے سے پہلے دوبارہ وہ چیز صاحبِ ید یعنی قابض کو بیچ دی اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس طرح زمین پر قبضہ کرنےسے پہلے واپس بائع کو بیچنا جائز ہے۔ خود علامہ شامی رحمہ اللہ نے بھی اس مسئلہ کے تحت یہی تفصیل ذکر کی ہے، دیکھیے عبارات:
الاختيار لتعليل المختار (2/ 117) دار الكتب العلمية، بيروت:
ولهما أن شراء كل واحد من الآخر اعتراف بكون الملك له، فكأن البينتين قامتا على الاعترافين وإنه موجب للتهاتر؛ لأنه لا يتصور أن يكون كل واحد بائعا ومشتريا في حالة واحدة، ولا دلالة على السبق ولا ترجيح فيتعذر القضاء أصلا، ثم هذا شيء بناه على أصله، فإن عندهما يجوز بيع العقار قبل القبض، فجاز أن يكون الخارج اشتراه أولا ثم باعه قبل القبض لذي اليد فيكون لذي اليد، ومع الاحتمال لا يثبت الملك وإن وقتا، فإن كان الخارج أولا قضى بهما
ويكون لذي اليد، وإن كان ذو اليد أولا قضى بهما أيضا والملك للخارج بالإجماع.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 171) دار احياء التراث العربي – بيروت:
قال: "وإن أقام كل واحد منهما البينة على الشراء من الآخر ولا تاريخ معهما تهاترت البينتان وتترك الدار في يد ذي اليد" قال: وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف. وعلى قول محمد يقضي بالبينتين ويكون للخارج لأن العمل بهما ممكن فيجعل كأنه اشترى ذو اليد من الآخر وقبض ثم باع الدار لأن القبض دلالة السبق على ما مر، ولا يعكس الأمر لأن البيع قبل القبض لا يجوز وإن كان في العقار عنده. ولهما أن الإقدام على الشراء إقرار منه بالملك للبائع فصار كأنهما قامتا على الإقرارين وفيه التهاتر بالإجماع، كذا هاهنا، ولأن السبب يراد لحكمه وهو الملك ولا يمكن القضاء لذي اليد إلا بملك مستحق فبقي القضاء له بمجرد السبب وأنه لا يفيده. ثم لو شهدت البينتان على نقد الثمن فالألف بالألف قصاص عندهما إذا استويا لوجود قبض مضمون من كل جانب، وإن لم يشهدوا على نقد الثمن فالقصاص مذهب محمد للوجوب عنده. ولو شهد الفريقان بالبيع والقبض تهاترتا بالإجماع، لأن الجمع غير ممكن عند محمد لجواز كل واحد من البيعين بخلاف الأول. وإن وقتت البينتان في العقار ولم تثبتا قبضا ووقت الخارج أسبق يقضى لصاحب اليد عندهما فيجعل كأن الخارج اشترى (من صاحب اليد كذا في الهامش) أولا ثم باع قبل القبض من صاحب اليد، وهو جائز في العقار عندهما.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 272) دار الفكر،بيروت:
(قال) أي القدوري في مختصره: (وإن أقام كل واحد منهما) أي من الخارج وذي اليد (البينة على الشراء من الآخر) أي أقام الخارج البينة على أنه اشترى هذه الدار مثلا من ذي اليد وأقامها ذو اليد على أنه اشتراها من الخارج (ولا تاريخ معهما تهاترت البينتان وتترك الدار في يد ذي اليد) بغير قضاء (قال) أي المصنف (وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف. وعلى قول محمد يقضي بالبينتين وتكون)..............الخ
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 233) دار الكتب العلمية،بيروت:
(وجه) قول محمد أن التوفيق بين الدليلين واجب بقدر الإمكان وأمكن التوفيق هنا بين البينتين بتصحيح العقدين بأن يجعل كأن صاحب اليد اشتراه أولا من الخارج وقبضه ثم اشتراه الخارج من صاحب اليد ولم يقبضه حتى باعه من صاحب اليد فيوجد العقدان على الصحة لكن بتقدير تاريخ وقبض وفي هذا التقدير تصحيح العقدين فوجب القول به ولا وجه للقول بالعكس من ذلك بأن يجعل كأن الخارج اشترى أولا من صاحب اليد ولم يقبضه حتى باعه من صاحب اليد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وإن وقتت البينتان ووقت الخارج أسبق فإذا لم يذكروا قبضا
يقضي بالدار لصاحب اليد عندهما وعند محمد يقضى للخارج لأن وقت الخارج إذا كان أسبق جعل كأنه اشترى الدار أولا ولم يقبضها حتى باعها من صاحب اليد عند أبي حنيفة وأبي يوسف وعند محمد يقضى للخارج لأن وقت الخارج إذا كان أسبق جعل كأنه اشترى الدار أولا ولم يقبضها حتى باعها من صاحب اليد وبيع العقار قبل القبض لا يجوز عند محمد وإذا لم يجز بقي على ملك الخارج وعندهما ذلك جائز فصح البيعان ولو ذكروا القبض جاز البيعان ويقضى بالدار لصاحب اليد بالإجماع لأن بيع العقار بعد القبض جائز بلا خلاف فيجوز البيعان.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 576) دار الفكر-بيروت:
(وإن برهن كل) من الخارجين أو ذوي الأيدي أو الخارج وذي اليد عيني (على الشراء من الآخر بلا وقت سقطا وترك المال) المدعى به (في يد من معه) وقال محمد: يقضى للخارج. قلنا: الإقدام على الشراء إقرار منه بالملك له ولو أثبتا قبضا تهاترتا اتفاقا درر.
قال ابن عابدين:قوله: قلنا:( الإقدام) أي من الخارج على الشراء الذي ادعاه والإقدام من ذي اليد على الشراء الذي ادعاه، قوله: (إقرار منه ) أى من القادم بالملك له للآخر فصارت بينة كل واحد منهما كأنها قامت على إقرار الاخر، وفيه التهاتر بالإجماع لتعذت الجمع ، قوله :(لو أثبتا قبضا تهاترتا)اتفاقالأن الجمع غير ممكن عند محمد لجواز كل واحد من البيعين، بخلاف الأول وهذا في غير العقار أما في العقار فإن وقتت البينتان ولم يثبتا قبضا، فإن كان وقت الخارج أسبق: يقضى لصاحب اليد عندهما فيجعل كأن الخارج اشترى أولا ثم باع قبل القبض من صاحب اليد وهو جائز في العقار عندهما وعند محمد يقضي للخارج لأنه لا يصح بيعه قبل القبضفبقي على ملكه.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 171) دار احياء التراث العربي – بيروت:
ولو شهد الفريقان بالبيع والقبض تهاترتا بالإجماع، لأن الجمع غير ممكن عند محمد لجواز كل واحد من البيعين بخلاف الأول. وإن وقتت البينتان في العقار ولم تثبتا قبضا ووقت الخارج أسبق يقضى لصاحب اليد عندهما فيجعل كأن الخارج اشترى أولا ثم باع قبل القبض من صاحب اليد، وهو جائز في العقار عندهما. وعند محمد يقضي للخارج لأنه لا يصح له بيعه قبل القبض فبقي على ملكه، وإن أثبتا قبضا يقضي لصاحب اليد لأن البيعين جائزان على القولين، وإن كان وقت صاحب اليد أسبق يقضى للخارج في الوجهين فيجعل كأنه اشتراها ذو اليد وقبض ثم باع ولم يسلم أو سلم ثم وصل إليه بسبب آخر.
جہاں تک شامیہ کی عبارت کا تعلق ہے تو علامہ شامی رحمہ اللہ نے یہ بات طحطاوی علی الدر کے حوالے سے نقل کی ہے، جبکہ طحطاوی میں اس عبارت کی کوئی دلیل نہیں ذکر کی گئی اور نہ ہی کسی امام یا فقیہ کا حوالہ ذکر کیا گیا ہے، خصوصاً جبکہ الدر المختار کی عبارت کا سیاق وسباق اس مفہوم کی نفی کر رہا ہے، کیونکہ الدر کی عبارت سے اس صورت کا جواز معلوم ہوتا ہے، اس لیے علامہ رافعی رحمہ اللہ کا شامیہ کی عبارت پر نقد وارد کرنا درست ہے، کیونکہ عام طور پر زمین میں ہلاکت کا اندیشہ نہیں ہوتا، نیز شامیہ اور طحطاوی کی عبارت میں بائع اور غیرِ بائع کو بیچنے کے درمیان فرق کی کوئی وجہ بھی ذکر نہیں کی گئی۔
مجلة الاحکام العدلیہ کی عبارت "للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا" میں "لآخر" کی قید سے استدلال کرتے ہوئے علامہ خالد اتاسی اور علامہ علی حیدر رحمہما اللہ نے لکھا ہے کہ فروخت کنندہ کو واپس زمین بیچنا جائز نہیں اور علامہ خالد اتاسی رحمہ اللہ نے بھی اس کے عدمِ جواز پر طحطاوی کا ہی حوالہ ذکر کیا ہے، دوسرا انہوں نے خانیہ کے جزئیہ سے استدلال کیا ہے کہ اگر کسی نے قبضہ سے پہلے مبیع بیچ دی تو یہ دوسری بیع فاسد ہوگی اور علامہ خالد اتاسی سے مبیع سے منقولی اور غیرمنقولی دونوں قسم کی چیزیں مراد لی ہیں، جبکہ خانیہ کی عبارت میں عقار کی تصریح نہیں ہے، خلاصہ یہ کہ فروخت کنندہ کو واپس زمین بیچنے کے عدمِ جواز کا مدار صرف طحطاوی علی الدر کی عبارت پر ہے، اس کے علاوہ ہمیں کوئی صریح عبارت نہیں ملی، جس میں زمین کو قبضہ سے پہلے واپس بائع کو بیچنے کا عدمِ جواز معلوم ہوتا ہو، جبکہ علامہ احمد بن محمد طحطاوی (متوفی:1231ھ) تیرہویں صدی ہجری کے عالم ہیں، اس لیے ان کی بات بغیر کسی دلیل اور حوالے کے حنفیہ کے متون اور امام قدوری اور علامہ حصکفی رحمہ اللہ کی تصریح کے خلاف قبول نہیں کی جا سکتی، شاید اسی لیے علامہ رافعی رحمہ اللہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔نیز حضراتِ شیخین رحمہما اللہ کے قول کو مطلقاً (بائع اور غیر بائع کو بیچنے کی تفصیل ذکر کیے بغیر)مفتی بہ قرار دیا گیا ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ قبضہ سے پہلے فروخت کنندہ کو بھی واپس زمین بیچنا جائز ہے، بشرطیکہ اس میں بیع عینہ یعنی سود کے حیلہ کی صورت اختیار نہ کی گئی ہو، لہذا طحطاوی علی الدرکی عبارت کو تسامح پر محمول کرنا اور حنفیہ کے متون کے اطلاق، امام قدوری رحمہ اللہ کی تصریح اور علامہ رافعی رحمہما اللہ کی رائے کے مطابق حکم بتانا بہتر ہے، خصوصاً جبکہ اس قول میں توسّع بھی ہے اور معاملات میں توسّع والے قول پر فتوی دینا بہتر قرار دیا گیا ہے، تاکہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا ہو۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرخریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان زمین کی خریدوفروخت کرتے وقت پہلے سے یہ طے نہیں تھا کہ یہ گھر فروخت کنندہ کو ہی واپس بیچا جائے گا اور سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق زمین کی قیمت بھی خریدار مکمل ادا كرچکا ہے تو ایسی صورت میں وہ گھر واپس فروخت کنندہ کو بیچنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 55) دار احياء التراث العربي، بيروت:
وعندهما في شرط الزيادة يكون بيعا؛ لأن الأصل هو البيع عند أبي يوسف رحمه الله وعند محمد رحمه الله جعله بيعا ممكن فإذا زاد كان قاصدا بهذا ابتداء البيع، وكذا في شرط
الأقل عند أبي يوسف رحمه الله؛ لأنه هو الأصل عنده.............والإقالة قبل القبض في المنقول، وغيره فسخ عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله وكذا عند أبي يوسف رحمه الله في المنقول لتعذر البيع، وفي العقار يكون بيعا عنده لإمكان البيع، فإن بيع العقار قبل القبض جائز عنده.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 59) دار احياء التراث العربي، بيروت:
ويجوز بيع العقار قبل القبض عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمه الله. وقال محمد رحمه الله: لا يجوز" رجوعا إلى إطلاق الحديث واعتبارا بالمنقول وصار كالإجارة، ولهما أن ركن البيع صدر من أهله في محله، ولا غرر فيه؛ لأن الهلاك في العقار نادر، بخلاف المنقول.
الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (5/ 147) دار الفكر،بيروت:
(صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار، حتى لو كان علوا أو على شط نهر ونحوه كان كمنقول ف (لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه كما سيجيء.
قال ابن العابدين: (قوله: من بائعه) متعلق بقبض لا ببيع؛ لأن بيعه من بائعه قبل قبضه فاسد كما في المنقول ويراجع ط.
قال الرافعي رحمه الله :قوله: (لأن بيعه من بائعه قبل قبضه فاسد الخ) لا يظهر وجه فساد بيع العقار للبائع قبل قبضه والعلة المذكورة للفساد في المنقول وهي الغرر غير متحققة في هذه المسئلة.
الطحطاوي على الدرالمختار: (ج:9ص:369):
(قوله: من بائعه) متعلق بقوله: (قبضه)لا ببيع؛ لأن بيعه من بائعه قبل قبضه فاسد كما في المنقول ويراجع. قوله (لعدم الغرر) أى لعدم غرر الانفساخ على تقدير الهلاك وعلّله بقوله: (لندرة هلاك العقار).
مجلة الأحكام العدلية (ص: 52) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
(المادة 253) للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا وإلا فلا.
شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي (ج:2ص:174) مكتبة رشيدية:
والتقييد بكون البيع لآخر احترازا عن بيعه لبائعه قبل قبضه، فإنه فاسد كما في المنقول، ويراجع (طحطاوي) قلت: ويؤيّده ما في الخانية: باع المبيع من البائع قبل القبض، لايجوز البيع الثاني، ولا ينفسخ الأول. ولو وهب من البائع لاتجوز الهبة، وينفسخ الأول اه فقوله "الأول" يعم العقار والمنقول.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام لعلي حيدر(236/1)دار الجيل:
أما إذا كان العقار على شاطئ البحر بحيث لا يأمن أن تهدمه الأمواج أو كان من العلو بحيث لا يؤمن من سقوطه فلا يجوز بيعه قبل القبض (الدر المختار)، وقول المجلة (لآخر) معناه لغيرالبائع لأنه لا يجوز للمشتري أن يبيع العقار من بائعه قبل القبض وإذا فعل فالبيع فاسد كما في بيع المنقول كما لا يجوز له أن يهبه أو يرهنه بائعه فإذا وهبه منه أو يرهنه بائعه فإذا وهبه منه وقبل البائع كان إقالة (انظر المادة 119) وكذلك ليس للمشتري أن يؤجر المبيع من بائعه قبل القبض فإن أجره لم تلزمه الأجرة (انظر شرح المادة 85 والمادة 275).
الفتاوى الهندية (3/ 109) دار الفكر،بيروت:
دفع أرضه إلى رجل معاملة بالنصف على أن يغرس فيها فغرس توتا ثم باع صاحب الأرض أرضه ونصيبه من الأغراس بعد مضي المدة صح فلو باع المشتري من آخر فسد البيع وهذا يجب أن يكون على قول محمد - رحمه الله تعالى- وأما على قولهما فيصح لأن بيع العقار قبل القبض جائز عندهما وعليه الفتوى كذا في المضمرات.
الاختيار لتعليل المختار (2/ 8) دار الكتب العلمية – بيروت:
ولا يجوز بيع المنقول قبل القبض، ويجوز بيع العقار قبل القبض (م) ، ويجوز التصرف في الثمن قبل قبضه، وتجوز الزيادة في الثمن.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
21/جمادى الاخرى 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالمنعم بن سونا | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


