| 79082 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
اگر کسی شخص کی وفات ہوجائے تو اس کے لیے ایصال ثواب کرنے سے کیا مرنے والے کو فائدہ ہوتا ہے یانہیں ؟رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جو لوگ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ان کے لیے ایصال ثواب کرنا شرعا درست ہے ، اور اس سے میت کو فائدہ ہوتا ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا : میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے اپنے پیچھے مال چھوڑا ہے، لیکن کوئی وصیت نہیں کی ، اگر میں ان کی جانب سے صدقہ خیرات کردوں، کیا ان کے گناہوں کے لیے معافی کا ذریعہ ہوجائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہاں! تمہارے صدقات سے ان کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایصال ثواب کا میت کو فائدہ ہوتا ہے۔
حوالہ جات
عن أبي هريرة، أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم: إن أبي مات وترك مالا، ولم يوص، فهل يكفر عنه أن أتصدق عنه؟ قال: نعم.( صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1630 )
وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: إذا تصدق بصدقة تطوعاً أن یجعلها عن أبویه فیکون لهما أجرها، ولاینتقص من أجره شیئا . )مجمع الزوائد ،رقم: 4769)
والأصل فیه أن الإنسان له أن یجعل ثواب عمله لغیره صلاةً أو صوماً أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذکراً أو حجاً أو غیر ذلك عند أصحابنا بالکتاب والسنة. ( البحرالرائق : 3/ 59)
محمدادریس
دارالافتاء،جامعۃ الرشید، کرچی
21/جماد ی الآخرہ /1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


