03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین دن سے کم میں قرآن مجید ختم کرنے کا حکم
79536جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اکثر لوگوں سے ، اماموں سے ، صحابہ کرام سے ثابت ہے کہ رات کو عبادت شروع کی ہے اور فجر سے پہلے قرآن ختم کر دیتے تھے، کیا یہ قرآن کے ادب کے خلاف نہیں؟ کیوں کہ اتنے کم وقت میں کیسے سکون اور اچھے انداز میں تلاوت کر سکتےہیں؟ میں نے پڑھا ہے کہ سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ" اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی چیز پر اس قدر کان نہیں دھرا ( توجہ سے نہیں سنا) جتنا کسی خوش آواز نبی کی آواز پر کان دھرا جس نے خوش الحانی سے قرآن پڑھا"،سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بیان ہی سے ایک اور فرمان نبوی یوں مروی ہےکہ جو قرآن کی خوش کن آواز سے تلاوت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں،سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے بارے میں پوچھا گیا ،تو انھوں نے فرمایا: رسول اللہ سلم کھینچ کر پڑھتے تھے، پھر انھوں نے "بسم الله الرحمن الرحيم"پڑھ کر بتلایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم" بسم اللہ" کو لمبا کر کے پڑھتے ، پھر "الرحمن" کو، پھر"الرحيم"کو کھینچ کر پڑھتے تھے ،قرآنِ کریم میں ہے"وَرَتِّلِ الْقُرْآن ترتيلا " قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھیے،ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا : " قرآن مجید کی تلاوت مہینے میں ( مکمل ) کیاکرو ، صحابی نے عرض کیا : میں ( اس سے زیادہ کی ) قوت پاتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیس راتوں میں پڑھ لیا کرو ۔ " میں نے عرض کی : میں (اس سے زیادہ کی ) قوت پاتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سات دنوں میں پڑھ لیا کرو " اور اس سے زیادہ ( قراءت ) مت کرنا"۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عام حالات میں عام لوگوں کے لیے  حکم یہ ہے  کہ وہ تین دن سے کم میں قرآن مجید ختم نہ کریں ،لیکن جن کے ساتھ اللہ تعالی کا خصوصی معاملہ ہو،یعنی ان کے وقت میں برکت  دی گئی ہواور وہ باہمت بھی ہوں تو ایسے لوگوں کے لیے ایک رات میں پورا قرآن مجید ختم کرنا نہ صرف یہ کہ منع نہیں، بلکہ مندوب ومستحسن بھی ہے۔البتہ اس کے لیے اہل علم نے متعدد شرائط ذکر فرمائی ہیں جن کی تفصیل علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ تعالی نے اپنے رسالہ"اقامۃ الحجۃ علی ان الاکثار فی التعبد لیس ببدعۃ " کے آخرمیں لکھی ہے۔

حوالہ جات

مشكاة المصابيح  شرح مرقاة المفاتيح (4/ 1502):

وعن عبد الله بن عمرو أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: " «لم يفقه من قرأ القرآن في أقل من ثلاث» " رواه الترمذي، وأبو داود، والدارمي.( وقال الالبانی رحمہ اللہ تعالی: صحیح)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 1502):

(وعن عبد الله بن عمرو) بالواو (أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: (لم يفقه) ، أي: لم يفهم فهما تاما (من قرأ القرآن) ، أي: ختمه (في أقل من ثلاث) ، أي ليال، وقال ابن حجر: أي من الأيام وفيه بحث لأنه إذ ذاك لم يتمكن من التدبر له والتفكر فيه بسبب العجلة والملالة، قال الطيبي: أي لم يفهم ظاهر معاني القرآن، وأما فهم دقائقه فلا تفي الأعمار بأسرار أقل أية بل كلمة منه، والمراد نفي الفهم لا نفي الثواب، ثم يتفاوت الفهم بحسب الأشخاص والأفهام، وقال ابن حجر: أما الثواب على قراءته فهو حاصل لمن فهم ولمن لم يفهم بالكلية للتعبد بلفظه بخلاف غيره من الأذكار فإنه لا يثاب عليه إلا من فهم ولو بوجه ما، وفيه نظر ; لأن نفي الثواب يحتاج إلى نقل من حديث، أو كتاب، والقياس أن لا فرق بينهما في أصل الثواب وإن كان يتفاوت بين القرآن وغيره وبين من فهم وبين من لم يفهم، وعليه عمل الصلحاء من جعل الأدعية والأذكار الواردة وغيرها أورادا ويواظبون عليها، وما حسن المسلمون فهو عند الله حسن، وفضل الله واسع، ثم جرى على ظاهر الحديث جماعة من السلف فكانوا يختمون القرآن في ثلاث دائما وكرهوا الختم في أقل من ثلاث، ولم يأخذ به آخرون نظرا إلى أن مفهوم العدد ليس بحجة على ما هو الأصح عند الأصوليين، فختمه جماعة في يوم وليلة مرة وآخرون مرتين، وآخرون ثلاث مرات، وختمه في ركعة من لا يحصون كثرة وزاد آخرون على الثلاث، وختمه جماعة مرة في كل شهرين، وآخرون في كل شهر، وآخرون في كل عشر، وآخرون في كل سبع، وعليه أكثر الصحابة وغيرهم، وروى الشيخان: «أنه - صلى الله عليه وسلم - قال لعبد الله بن عمرو: (اقرأه في سبع ولا تزد على ذلك» ) ويسمى ختم الأحزاب، وترتيبه الأصح ; بل الوارد في الأثر ما يؤخذ من قول منسوب إلى علي - كرم الله وجهه - (فمي بشوق) أشار بالفاء إلى الفاتحة المفتوحة بها الجمعة، وإلى ميم المائدة، ثم إلى ياء يونس، ثم إلى باء بني إسرائيل، ثم إلى شين الشعراء، ثم إلى ق، ثم إلى آخر القرآن،

قال النووي: المختار أن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص ; فمن كان يظهر له بدقيق الفكر اللطائف والمعارف فليقتصر على قدر يحصل كمال فهم ما يقرؤه، ومن اشتغل بنشر العلم، أو فصل الخصومات من مهمات المسلمين فليقتصر على قدر لا يمنعه من ذلك، ومن لم يكن من هؤلاء فليستكثر ما أمكنه من غير خروج إلى حد الملالة، أو الهذرمة وهي سرعة القراءة، قال النووي: كان السيد الجليل ابن كاتب الصوفي يختم بالنهار أربعا والليل أربعا، أقول: يمكن حمله على مبادي طي اللسان وبسط الزمان، وقد روى عن الشيخ موسى السدراني من أصحاب الشيخ أبي مدين المغربي: أنه كان يختم في الليل والنهار سبعين ألف ختمة، ونقل عنه أنه ابتدأ بعد تقبيل الحجر وختم في محاذاة الباب بحيث سمعه بعض الأصحاب حرفا حرفا، وبسط هذا المبحث في كتاب نفحات الأنس في حضرات القدس (رواه الترمذي، وأبو داود، والدارمي)

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۶رجب۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب