| 82186 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک عالم دین ہوں میرے لئے کسی بیان کی یا نعت یا تلاوت کی ویڈیو بناکر یوٹیوب پر اپلوڈ کرنا کیسا ہے جس میں موبائل کے ذریعہ جاندار انسان کی تصویر یا ویڈیو لی جائے کیا یہ ممنوع تصویر میں داخل ہوگا یا اس کی گنجائش ہے
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ڈیجیٹل تصویراور ویڈیوز شرعا تصویر کے حکم میں ہیں یا نہیں؟ اس مسئلے میں علماء کی آراء مختلف ہیں:
۱ـ یہ عام پرنٹ تصویر کی طرح ہے۔ لہذا صرف ضرورت کے وقت جائز ہے۔
۲ـ یہ عام تصویر کے حکم میں نہیں، بلکہ سایہ ، پانی یا آیئنہ میں دکھائی دینے والے عکس کے مانند ہے۔ لہذا جس چیز کا عکس دیکھنا جائز ہے اس کی تصویر یا ویڈیو بنانا یا دیکھنا بھی جائز ہےاور جس چیز کا عکس دیکھنا جائز نہیں اس کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور دیکھنا بھی جائز نہیں۔
۳ـ اگرچہ یہ اپنی حقیقت کے لحاظ سےتصویر ہی ہے ، لیکن اس کے تصویر ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں علماء کی آراء مختلف ہیں، اس لیے صرف شرعی ضرورت جیسا کہ جہاد کی ضرورت، دین کے خلاف پروپیگنڈوں سے دفاع اور صحیح دینی معلومات کی فراہمی کی خاطر یا اس کےعلاوہ کسی اور دینی یا دنیوی مصلحت کی خاطر ایسی چیزوں اور مناظر کی ڈیجیٹل تصویر اور ویڈیو بنانے کی گنجائش ہے جن میں تصویر ہونے کے علاوہ کوئی اور حرام پہلو مثلا: عریانیت، موسیقی یا غیر محرم کی تصاویر نہ ہو۔
ہمارے نزدیک تیسری رائے راجح ہے۔ لہذا اس رائے کے مطابق تلاوت، نعت اور امت کی رہنمائی کے لیے بیان وغیرہ کی ویڈیو بنائی جاسکتی ہے۔
حوالہ جات
روى البخاري رحمه الله عن عبيد الله بن عبد الله، أنه سمع ابن عباس رضي الله عنهما يقول: سمعت أباطلحةيقول:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة تماثيل"( صحيح البخاري:3/ 1179)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله: وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها. ( رد المحتار :1/ 647)
قال العلامة تقي العثماني حفظه الله: أما الصور الشمسية التي تسمى الفوتوغرافية، فهل لها حكم الصور المرسومة أو لا؟ اختلف فيها المعاصرون. وقد ألف العلامة محمد بخيت مفتي مصر رحمه الله رسالة بإسم " الجواب الشافي في إباحة التصوير الفوتوغرافي" ذهب فيها إلى أن الصورة بالفوتوغرافيا الذي هو عبارة عن حبس الظل با لوسائط المعلومة لأرباب هذه الصناعة: ليس من التصوير المنهي عنه. (تكملة فتح الملهم:96/4)
عبدالہادی
دارالافتاء،جامعۃالرشید، کراچی
06جمادی الاخری1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالهادى بن فتح جان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


