| 80144 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے دادا جناب خلیل 1959 میں فوت ہوئے۔ وفات کے وقت ان کی ایک بیوی، پانچ بیٹے اور سات بیٹیاں زندہ تھیں۔ ان کی وفات کے سات سال بعد ان کی بیوی یعنی میری دادی کا بھی انتقال ہو گیا۔ اس کی موت کے بعد پانچ بیٹوں نے جائیداد آپس میں بانٹ لی اور سات بہنوں کو کوئی حصہ نہیں دیا، میرے والد ان پانچ بیٹوں میں سے ایک تھے۔ اس وقت میرے والد اور ان کے تین بھائی بھی فوت ہو چکے ہیں، صرف ایک چچا زندہ ہے، سات بہنوں میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہے، حال ہی میں میرے والد کی وفات کے بعد مجھے اپنے والد کی وراثت ملی۔ میرے والد کی وراثت ان کے اصل حصے اور سات بہنوں کے واجب حصے پر مبنی ہے۔ موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق میرے والد کی طرف سے سات بہنوں کو ادا کیا جانے والا حصہ تقریبا 2600000 روپے ہے۔ میں اپنے والد کی بہنوں کے حصے کے طور پر یہ 2600000 روپے ان سات بہنوں کے وارثوں کو دینا چاہتا ہوں، واجب الادا رقم کی تقسیم کے بارے میں شکوک و شبہات پر خود کو مطمئن کرنے کے لئے مجھے مندرجہ ذیل سوالات پر رہنمائی کی ضرورت ہے۔
پہلا سوال: کیا اس سے میرے والد کو آخرت کی زندگی میں کوئی فائدہ ہوگا کہ میں ان سات بہنوں کے وارثوں کو 2600000 روپے ادا کروں جو اب فوت ہو چکی ہیں؟
دوسراسوال : چونکہ سات بہنیں مر چکی ہیں، ان کے کچھ بیٹے اور بیٹیاں زندہ ہیں اور کچھ مر گئی ہیں (لیکن ان کی اولاد زندہ ہے)۔ اس صورت حال میں میں سمجھتا ہوں کہ سات بہنوں کے وہ بیٹے اور بیٹیاں جو آج زندہ ہیں وہ اس رقم میں حصہ حاصل کرنے کے اہل ہیں جو میں تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، لیکن سات بہنوں کے مرنے والے بیٹوں اور بیٹیوں کی اولاد کا کیا ہوگا؟ کیا وہ بھی اپنے مرحوم والدین کا حصہ حاصل کرنے کے اہل ہیں؟
تیسرا سوال: ان سات بہنوں کے بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم کا کیا حصہ ہوگا جو آج زندہ ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مرد کا حصہ عورت کے برابر یا دوگنا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔ ایسی صورت میں آ پ کےمرحوم والدبہنوں کو حصہ میراث نہ دینےکی وجہ سے ہونےوالے اخروی عقاب وگرفت سے بچ جائیں گے اوراس حوالے سےاللہ تعالی سےمغفرت کی امیدہے۔
۲۔ سات بہنوں میں سے ہر ایک بہن کو جو حصہ ملے گا وہ حصہ اس بہن کی وفات کے وقت اس کی زندہ اولاد میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا اورپھران اولاد میں سے ہر ایک کا حصہ اس کی وفات کے وقت اس کےزندہ ورثہ میں تقسیم ہوگا۔
۳۔ان ساتھ بہنوں کے وفات کے وقت اگر ان کے شوہر بھی موجود تھے تو اول ان کوکل ترکہ کا چوتھائی حصہ ملے گا اور اس کے بعدباقی ترکہ اولاد میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ لڑکے کو لڑکی کا دوگنا حصہ ملے گا۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۷شوال۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


