| 80389 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
سوال السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب ہمارے گاؤں میں جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں لیکن جمعہ اداکیاجاتاہے، ایسی صورت میں اگرکوئی شخص جمعہ کی نماز نہ پڑھتا ہوتو گناہگار ہوگاکیا؟ شرائط مثلاً شہر نہیں ہے لیکن آبادی زیادہ ہے، اور زندگی کی سہولیات مثلاً ڈاکخانہ ، پولیس تھانہ، بازار اور ضرورت کی ساری دکانیں ہسپتال ،ہائی سکول،پکی سڑک اور باقی پوری سہولیات موجود نہیں ہیں۔راہنمائی فرماکر دونوں سوالات کےجواب عنایت فرمائیں ۔جزاکم اللہ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جمعہ اورعیدین کی شرائط صحت میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جس جگہ جمعہ اداکیاجارہاہے کہ وہ شہریاقصبہ کبیرہ ہو،چھوٹے گاؤں اورایسے دیہات جن میں شہرکی لازمی خصوصیات موجودنہ ہوں توایسے گاؤں میں جمعہ کی نمازدرست نہیں ہوتی،لہذاصورت مسؤلہ میں علماء کوجمع کرکے حکمت اورمصلحت کے ساتھ مسئلہ سمجھانے کی کوشش کی جائے،اگرمسئلہ حل نہ ہواورجمعہ بندکرانے کی صورت میں فتنہ وفسادکاقوی اندیشہ ہوتوایسی صورت میں حکومت کی طرف سے مقررکردہ ایسے لوگ جن کواحکامات نافذکرنے اورلوگوں کے معاملات میں فیصلہ کرنے کااختیار ہوتاہے،جیسے ڈی پی او،آئی جی اورسیشن جج وغیرہ کی اجازت سے جمعہ برقراررکھاجاسکتاہے،جب تک حکومت کی طرف سے اجازت نہ ملے توجمعہ میں شرکت نہ کی جائے،ظہرکی نمازاداکی جائے،اسی طرح عیدین کی نمازکاحکم ہے۔
حوالہ جات
فی كتاب المبسوط للشيباني (ج 1 / ص 183):
الجمعة هل تجب على أهل السواد وأهل الجبال قال: لا تجب الجمعة إلا على أهل الأمصار والمدائن قلت: أرأيت قوما من أهل السواد اجتمعوا في مسجدهم فخطب لهم بعضهم ثم صلى بهم الجمعة قال: لا تجزيهم صلاتهم وعليهم أن يعيدوا الظهر۔
وفی رد المحتار (ج 6 / ص 41):
وفي القهستاني : إذن الحاكم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعة اتفاقا على ما قاله السرخسي وإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه فليحفظ۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۲/ذی قعدہ ۱۴۴۴ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


