03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آپس کی لڑائی میں مارے جانےوالے کاحکم
79653قصاص اور دیت کے احکامقسامت یعنی کسی پائے جانے والے مقتول پر اہل محلہ سے قسم لینے کا بیان

سوال

قوم فریق A اور قوم فریقBکی معمولی بات پر آپس میں خفگی ہوگئی۔

2۔درمیان میں ثالثان آئے اور فیصلہ سنانے کے واسطے اگلا دن مقرر کیا۔

3۔اگلے دن ثالثان فیصلہ سنانے کے واسطے آئے اور قوم فریق Aکی بیٹھک میں بیٹھ گئے۔

4۔تھوڑی دیر بعد فریقA کا ایک بندہ بیٹھک کی طرف دوڑتا ہوا آیا اور ثالثان  اور دوسرے لوگوں کی موجودگی میں اپنے لڑکوں کو حکم جاری کیاکہ قوم فریق Bپر حملہ کرو،کیونکہ انہوں نے ہماری لڑکیا ں اسکول سے واپس کی ہیں،وہاں موجود ثالثان  اور دوسرے لوگوں نے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی ،لیکن ناکام رہے۔

(لڑکیوں  کو اسکول سے واپسی کے متعلق فریقB کو پتہ نہیں تھا،تاہم  بعدمیں پتہ چلا کہ فریق Bکی ایک استانی  اسکول انچارج ہے،گاؤں میں 2/3 دن کسی کی شادی تھی ،یہ لڑکیاں ان دنوں  اسکول نہیں آئیں،اس کے علاوہ جس دن اسکول آئیں تو اسکول کے کپڑوں کے بجائے شادی میں پہنے ہوئے کپڑوں میں آئیں،جس کی وجہ سے استانی نے یہ لڑکیاں اسکول سے واپس گھر بھیج دی۔)

5۔فریقA کے لڑکوں نے اسلحہ اٹھایا  اور فریق B کے گھروں کے پاس جاکر ان پر فائرنگ شروع کی ۔

6۔فریقBکے گھروں میں ایک خالی گھر تھا اور اس خالی گھر میں ایک برج تھا،فریق Aکے دولڑکے اس برج میں چڑھ گئےتھے اور وہاں سے فریق B کے گھروں پر فائرنگ کررہے تھے ۔

7۔فریق B کے لڑکے اس برج کی طرف دفاعی /جوابی فائرنگ شمال اور مشرق کی جانب سے کررہے تھے جبکہ فریق B کے لڑکے بھی اس برج کی طرف مغرب اور جنوب کی طرف سے فائرنگ کررہے تھے ،کیونکہ  فریقA کو یہ پتہ نہیں کہ فریق B کے برج میں ہمارے اپنے لڑکے  ہیں  اور فریق B پر فائرنگ کرر ہے ہیں۔

8۔اس فائرنگ کے دوران فریقAکے دو بندوں میں سے ایک بندہ مرگیا،جبکہ دوسرا بندہ فائرنگ کے دوران برج سے نیچے آکر بھاگ گیا۔

9۔ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق ایک گولی اس بندے کے اوپر چہرے پر لگی ہے اور نیچے گلے کی طرف نکلی ہے،جس سے وہ ہلاک ہوگیاہے۔

10۔خدا جانے کہ اس بندے کو مخالف فریق Bکی گولی لگی ہے یا اپنے فریقA کی گولی لگی ہے،کیونکہ فریقB اس برج  کی طرف شمال اور مشرق کی جانب سے فائرنگ کر رہے تھے جبکہ اس مرحوم بندے کا اپنا فریق A بھی اس برج کی طرف مغرب اور جنوب جانب سے فائرنگ کر رہے تھے ،اس کے علاوہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس بندے کو اس کے ساتھ برج میں موجود ساتھی نے گولی ماری ہو۔

11۔فریق Aنے دعوی فریقBپر کیا ہے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ

1۔فریقB کی صفائی کے متعلق کیا حکم ہے؟کیونکہ فریق B کو بھی پتہ نہیں ہے کہ لڑکا برج میں کس کی گولی سے ہلاک ہوا؟جبکہ فریقA نے فریقB پر دعوی کیا ہے۔

2۔اس مرحوم کے قصاص اور دیت کے متعلق کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ قسامت کا معاملہ ہے،قسامت سے مراد یہ ہے کہ جس محلہ میں مقتول پایا جائے وہاں کے پچاس افراد اللہ تعالی کے نام کی قسم کھائیں کہ ہم نے نہ اس کو قتل کیا ہے اور نہ اس کے قاتل کے بارے میں ہمیں علم ہے۔اس میں خواتین،بچے اور پاگل شامل نہیں ہوں گے۔اگر پچاس کی تعداد مکمل نہ ہو تو قسم مکرر ہوگی،جب مدعی علیہان قسم  اٹھا لیں تو وہ دیت ادا کرنے  کے پابند ہوں گے۔اگر قسم لینے سے انکار کردیں تو اس صورت میں احناف کے نزدیک ان کو قسم اٹھانے تک قید میں رکھا جائے گا جب تک وہ قسمیں نہ اٹھائیں۔ قسامت کی وجہ سے قصاص میں شبہ پیدا ہوتا ہے اس لئے چاہے دعوی قتل عمد کا ہو یا قتل خطا کا ہر دو صورتوں میں دیت ہی ہو گی ۔یہاں چونکہ قتل عمد ہے،اور شبہ کی وجہ سے  قصاص ساقط ہوگیا ہے،اس لیے ان متعین کیے گئے افراد پر دیت لازم ہوگی،جو وہ تین سال کی مدت میں اداکریں گے،البتہ اگر دیت کی مقدار سے کم پر فریقین کی صلح ہوجائے تو اس میں بھی حرج نہیں۔  دیت کی تین صورتیں ہیں۔

1۔دس ہزار درہم چاندی یا اس کی قیمت۔(34.020کلوگرام چاندی)

2۔ایک ہزار دینار سونا یا اس کی قیمت(4.868کلو گرام سونا)

3۔سو اونٹ یا ان کی قیمت ۔

سرکاری طور پر دیت کی مقدار43 لاکھ 18 ہزار 524  ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (6/ 77):

(الباب الخامس عشر في القسامة) هي الأيمان تقسم على أهل المحلة الذين وجد القتيل فيهم كذا في الكافي.وسببها وجود القتيل في المحلة أو ما في معناها من الدار أو الموضع الذي يقرب من المصر بحيث يسمع الصوت منه كذا في النهاية. إذا وجد قتيل في محلة قوم، وادعى ولي القتيل على جميع أهل المحلة أنهم قتلوا وليه عمدا أو خطأ، وأنكر أهل المحلة، فإنه يحلف خمسون رجلا منهم كل رجل بالله ما قتلته، ولا علمت له قاتلا، ولا يحلف بالله ما قتلنا والخيار في التعيين إلى ولي القتيل إن كانوا أكثر من خمسين رجلا، وإن كانوا أقل من خمسين، فإنه يكرر اليمين على بعضهم حتى يتم خمسين يمينا، فإن حلفوا غرموا الدية، وإن نكلوا، فإنهم يحبسون حتى يحلفوا، ولا يحلف المدعي أن أهل المحلة قتلوا وليه سواء كان الظاهر شاهدا للمدعي بأن كان بين المقتول، وبين أهل المحلة عداوة ظاهرة أو لم يكن شاهد للمدعي بأن لم يكن بين المقتول، وبين أهل المحلة عداوة ظاهرة ثم تجب الدية على عاقلة أهل المحلة في ثلاث سنين، وإن ادعى القتل على بعض أهل المحلة لا بأعيانهم.فكذا الجواب تجب القسامة، والدية على أهل المحلة، وكذا الجواب إذا ادعى على بعض أهل المحلة بأعيانهم استحسانا، وإن ادعى القتل على واحد من غير أهل المحلة لم يكن على أهل المحلة قسامة، ولا دية،

العناية شرح الهداية (10/ 388):

قال (وإذا التقى قوم بالسيوف فأجلوا عن قتيل فهو على أهل المحلة) لأن القتيل بين أظهرهم والحفظ عليهم (إلا أن يدعي الأولياء على أولئك أو على رجل منهم بعينه فلم يكن على أهل المحلة شيء) لأن هذه الدعوى تضمنت براءة أهل المحلة عن القسامة. قال (ولا على أولئك حتى يقيموا البينة) لأن بمجرد الدعوى لا يثبت الحق للحديث الذي رويناه، أما يسقط به الحق عن أهل المحلة لأن قوله حجة على نفسه.

العناية شرح الهداية (10/ 388):

وقوله (فأجلوا عن قتيل) أي: انكشفوا عنه وانفرجوا، وقوله (لأن القتيل بين أظهرهم) أي وجد بين أظهرهم يعني بينهم والظهر والأظهر يجيئان مقحمين كما في قوله - صلى الله عليه وسلم - «لا صدقة إلا عن ظهر غنى» أي: صادرة عن غنى. فإن قيل: الظاهر أن قاتله من غير أهل المحلة، وأنه من خصمائه. أجيب بأنه قد تعذر الوقوف على قاتله حقيقة فيتعلق بالسبب الظاهر وهو وجوده قتيلا في محلتهم. وقوله (لأن بمجرد الدعوى لا يثبت الحق) أي الاستحقاق عند إنكار المدعى عليه للحديث الذي رويناه: أي في أوائل باب القسامة،

وأوله قوله - صلى الله عليه وسلم - «لو أعطى الناس بدعواهم لادعى قوم دماء قوم وأموالهم لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر» لا يقال الظاهر أنهم قتلوه لما علمت غير مرة أن الظاهر لا يصلح حجة للاستحقاق.

بدائع الصنائع (10/311) :

وأما  بيان من تجب عليه الدية فالدية تجب على القاتل؛ لأن سبب الوجوب هو القتل، وإنه وجد من القاتل، ثم الدية الواجبة على القاتل نوعان: نوع يجب عليه في ماله، ونوع يجب عليه كله، وتتحمل عنه العاقلة، بعضه بطريق التعاون إذا كان له عاقلة، وكل دية وجبت بنفس القتل الخطأ أو شبه العمد تتحمله العاقلة، وما لا فلا.

الفتاوی الھندیۃ(6/3،24):

وكل دية وجبت بنفس القتل  يقضى من ثلاثة أشياء في قول أبي حنيفة رحمہ اللہ تعالى  : من الإبل مائة، ومن العين ألف دينار، ومن الورق عشرة آلاف، وللقاتل الخيار يؤدي أي نوع شاء .كذا في محيط السرخسي."

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

23/رجب1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب