| 80505 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
شوکت نے طلاق کے جھوٹے اقرار کی نیت سے کہا "نجمہ اب میری بیوی نہیں ہے وہ اس گھر سے جا سکتی ہے۔نجمہ پہلے میری بیوی تھی چونکہ وہ گالیاں نکالتی ہے اس وجہ سے میں تنگ آ گیا ہوں،اب اسے گھرمیں نہیں رکھ سکتا،اس سے میرا تعلق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی رشتہ ہے" یہ تمام الفاظ شوکت نے اس وقت کہے جب وہ غصے میں نہ تھا نہ ہی نجمہ کی جانب سے طلاق کا مطالبہ تھا اورنہ ہی گھر کا ایسا ماحول تھا جب کوئی لڑائی جھگڑا چل رہا تھا ۔شوکت نے نجمہ کو ڈرانے کے لیےایسا تاثر دیا کہ وہ طلاق دے چکا ہے،لیکن اس نے طلاق کا کوئی صریح جملہ نہیں بولا اس نے تمام ان جملوں کا انتخاب کیا جو طلاق کے لیے کنایہ ہیں۔ نجمہ نے اگلے روز دریافت کیا کہ شوکت نے کیاطلاق دے دی ہے؟شوکت نے جواب میں نہیں کہا ۔نجمہ نے قرآن پر حلف دلوایا اس نے حلف دے دیا۔ شوکت پر کیا حکم لاگو ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شوکت نے یہ جملہ"نجمہ اب میری بیوی نہیں ہے،وہ اس گھر سے جاسکتی ہے۔نجمہ پہلے میری بیوی تھی چونکہ وہ گالیاں نکالتی ہے۔۔۔۔اس سے میرا تعلق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی رشتہ ہے"اگر طلاق کی نیت سے نہیں کہا تواس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور وہ عورت بدستور شوکت کے نکاح میں ہے۔
حوالہ جات
الفتاوي الهندية: (الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، 375/1، ط:دار الفكر)
ولو قال لامرأته: لست لي بامرأة أو قال لها: ما أنا بزوجك أو سئل فقيل له: هل لك امرأة ؟ فقال: لا، فإن قال أردت به الكذب يصدق في الرضا والغضب جميعاً ولا يقع الطلاق، وإن قال: نويت الطلاق يقع في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالي.... كذا في البدائع.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) 3/ 296
(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
البحر الرائق: (باب الكنايات في الطلاق، 330/3، ط:دار الكتاب الاسلامي)
(قوله: وتطلق بلست لي بامرأة أو لست لك بزوج إن نوي طلاقا) ... ودخل في كلامه ما أنت لي بامرأة وما أنا لك بزوج ولا نكاح بيني وبينك... قيد بالنية لأنه لا يقع بدون النية اتفاقا لكونه من الكنايات ولا يخفى أن دلالة الحال تقوم مقامها حيث لم يصلح للرد والشتم ويصلح للجواب فقط وقدمنا أن الصالح للجواب فقط ثلاثة الفاظ ليس هذا منها فلذا شرط النية للإشارة الى أن دلالة الحال هنا لا تكفي.
محمدمصطفیٰ رضا
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
28/ذو القعدہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


