| 80409 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہم سات بہن اور ایک بھائی ہیں اور ہماری والدہ بھی زندہ ہیں، ہماری میراث کی شرعی تقسیم کس طرح ہونی چاہیے، ہر ایک کا کتنا کتنا حصہ ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں مرحوم کی وفات کےوقت تمام مملوکہ جائیدادکوترکہ میں شمارکیاجائےپھر میت کے کل ترکہ سے تجہیز و تکفین مسنون کا خرچ نکالنے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو اس قرض کی ادائیگی کی جائے، پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی تک اسے پورا کیا جائے۔ پھر جو ترکہ باقی بچ جائے اس کے کل 72 حصے کئے جائیں اور انہیں درج ذیل طریقے کے مطابق ورثاء میں تقسیم کیا جائے ۔
|
نمبرشمار |
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
۱ |
بیوہ |
9 |
12.5% |
|
۲ |
بیٹا |
14 |
19.444444% |
|
۳ |
بیٹی |
7 |
9.722222% |
|
۴ |
بیٹی |
7 |
9.722222% |
|
۵ |
بیٹی |
7 |
9.722222% |
|
۶ |
بیٹی |
7 |
9.722222% |
|
۷ |
بیٹی |
7 |
9.722222% |
|
۸ |
بیٹی |
7 |
9.722222% |
|
۹ |
بیٹی |
7 |
9.722222% |
|
کل |
72 |
100% |
|
حوالہ جات
القران الکریم(النساء:12)
"وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّھُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْنَ بِھَآ اَوْ دَيْنٍ ۭوَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ اَوْ دَيْنٍ ۭ"
[النساء: 11]:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}
ولی الحسنین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
23 ذو القعدہ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ولی الحسنین بن سمیع الحسنین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


