| 80418 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
Fiverr فری لانسنگ کا ایک پلیٹ فارم ہے، جہاں پر مختلف خدمات(Services) فراہم کی جاتی ہیں، ہم جو بھی خدمات فراہم کرتے ہیں وہ Gigs کی شکل میں پوسٹ کرتے ہیں،جسے دیکھ کر گاہک(Client) ہم سے رابطہ کرتا ہے، باقاعدہ ایجاب و قبول ہونے کے بعد اجرت طے ہوتی ہے۔Fiverr اپنا پلیٹ فارم مہیا کرنے کی وجہ سے ہر آرڈر پر بیس سے پچیس فیصد فیس کاٹتاہے۔رہنمائی فرمائیں کہ شرعی لحاظ سے یہ کام جائز ہے یا ناجائز؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ انٹرنیٹ پر موجود مختلف فری لانسنگ پلیٹ فارمز جہاں پر مختلف قسم کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں، یہ ویب سائٹس خریدار اور فرخت کنندہ کے درمیان واسطے کا کردار ادا کرتی ہیں جس کے عوض فیس لیتی ہیں، اس طرح کی ویب سائٹس کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اگر کسی نے مذکورہ ویب سائٹ کے ذریعے کوئی ایسا کام کیا جس میں شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ ہو، تو اس کی کمائی شرعاً حلال ہوگی۔
لہذامذکورہ ویب سائٹ پر ذکرکردہ اصول کے تحت کام کرنا جائز ہے، البتہ مذکورہ پلیٹ فارم چونکہ یہودیوں کاہے اس لیے اس حوالے سے اجتناب کا مشورہ ہے، ہاں! جہاں ضرورت ہو اور دوسری جگہ سے وہ ضرورت پوری نہ ہو رہی ہو تو اس حد تک اس کا استعمال کیا جاسکتاہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 47)
قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل.
عدنان اختر
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
۲۱؍ذوالقعدۃ ؍۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عدنان اختر بن محمد پرویز اختر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


