| 80515 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
اسلام علیکم 1 شخص جس نے قبل الموت اپنے والداوراولاد کو وصیت کی ۔ کہ میری جائیداد میں سے فلاں مکان فلاں مسجد اور مدرسہ کو دے دینا۔ انتقال کے بعد اولاد اور بیوی مطالبہ کر رہی ہے کہ ہمارا حق ہمارے حوالے کیا جائے کیونکہ میت نے اپنی حیات میں مسجد اور مدرسہ کے نام نہیں لگوایا بلکہ زبانی کلامی ہی وصیت کی کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ؟ انکا حق انکے حوالے کیا جائے یا کسی بھی طرح سے مسجد اور مدرسہ کے حوالے کیا جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہر شخص کو اپنے مال کے ایک ثلث میں وارثوں کے علاوہ کے لیے جائز وصیت کرنے کا اختیار ہے، اور ورثا پر اس وصیت کے مطابق عمل واجب ہے۔
صورتِ مسئولہ میں میت نے جو زبانی وصیت کی ہے کہ میرا فلاں گھر مسجد اور مدرسہ کو دے دینا، یہ وصیت جائز ہے، وصیت کا تحریری ہونا یا وصیت کر کے زمین اور گھر اپنی زندگی میں ہی موصیٰ لہ ( جس کے لیے وصیت کی گئی ہے) کے نام کروانا ضروری نہیں ہے۔ اسی لیے ورثاء میں سے کسی کا اس وصیت کے مال میں وراثت کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے، البتہ وصیت کل ترکہ میں سے تجہیز و تکفین کے اخراجات اور قرض ہونے کی صورت میں قرض کی ادائیگی کے بعد ایک تہائی حصے میں پوری کی جائے گی، اور اگر وصیت ایک تہائی حصے سے زائد ہو تو ورثاء کی اجازت کے بغیر اسے نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اگر ایک تہائی حصے سے زائد حصے کی وصیت میں بالغ ورثہ نے اجازت دی تو بالغ ورثہ کے حق کے بقدر اسے نافذ کیا جائے گا، ورنہ ایک تہائی حصے سے زائد حصے کی وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 650):
"(وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته)"
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (14/ 275):
"وفي التبيين لو علق الوقف بموته ثم مات صح ولزم إذا خرج من الثلث لأن الوصية بالمعدوم جائزة كالوصية بالمنافع ويكون ملك الواقف باقيا فيه حكما يتصدق منه دائما وإن لم يخرج من الثلث يجوز بقدر الثلث ويبقى الباقي إلى أن يظهر له مال أو تجيز الورثة"
الفتاوى الهندية (48/ 17)
ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة ، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته ، كذا في الهداية
احمد الر حمٰن
دار الافتاء، جامعۃ الرشید کراچی
27/ذو القعدہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احمد الرحمن بن محمد مستمر خان | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


