| 80097 | وقف کے مسائل | مدارس کے احکام |
سوال
ہمارا مدرسہ وقف زمین پر بنایا گیا ہے، جس کا انتظام اور انصرام با اعتماد اشخاص کی کمیٹی کے پاس ہے، جس میں خزانچی اور صدر سب شامل ہیں۔ یہ کمیٹی مدرسہ کے لئے فنڈ جمع کرتی ہے اور اس کے پاس چندہ رسید اور سارے مالی معاملات ہوتے ہیں۔کمیٹی اس فنڈ سے مدرسین اورناظمین کی تنخواہیں دیتی ہے۔
ناظمِ تعلیمات نے کمیٹی کی اجازت کے بغیر اپنی طرف سے اسی مدرسہ کے نام سے چندہ کی رسید چھپوائی اور اس پر مخیّر حضرات سے چندہ جمع کرتا رہا۔ ان میں سے بعض بدعنوانیوں کا علم کمیٹی کو ہوا اور اس سے پوچھ گچھ ہوئی تو جواب میں کہا کہ یہ رقم میرے ذمہ قرضِ حسنہ ہے، حالانکہ وہ لاکھوں روپیہ ہے اور زکوة کی رقم ہے۔
اہلِ شوری کا پوچھنا یہ ہےکہ مذکورہ زکوۃ ادا ہوئی ہے یا نہیں؟ اور شریعت کی رو سے ایسے ناظمِ مدرسہ کو رکھنا چاہیےیا برطرف کرنا چاہیے؟ اربابِ فتویٰ کے فیصلہ کا انتظار رہے گا۔ جزاکم اللہ خیرا
وضاحت:سائل نے بتایا کہ کچھ معطین معلوم ہیں اور کچھ نامعلوم ہیں اور ان کے رابطہ نمبرکابھی علم نہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگرمدرسہ کی کمیٹی کی جانب سے ناظمِ تعلیمات کو چندہ کی رسید بنوانے اور فنڈ وصول کرنے کی اجازت نہیں تھی تو اس صورت میں یہ شخص مستحقِ زکوة طلباء کی طرف سے زکوة وصدقاتِ واجبہ وصول کرنے کا وکیل نہیں تھا، بلکہ یہ صرف زکوة وصدقات دینے والوں کا وکیل تھا اور معطی یعنی زکوة دینے والے کا وکیل جب تک زکوة کی رقم مستحق شخص تک نہ پہنچائے اس وقت تک زکوة ادا نہیں ہوتی، لہذا زکوة کی جتنی رقم اس نے کمیٹی کی اجازت کے بغیر وصول کر کے اپنے ذاتی مفادات میں خرچ کی ہے اتنی مقدار میں زکوة ادا نہیں ہوئی اور اس شخص کے ذمہ اتنی رقم کا ضمان واجب ہے۔
اب ان لوگوں کی زکوة کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے نام اور پتہ معلوم ہے ان کوان کی رقم واپس کی جائے، تاکہ وہ اپنی زکوة خود ادا کریں یا ان سے دوبارہ اجازت لے کر مذکورہ رقم زکوة کی مد میں جمع کروائے تو ان کی زکوة ادا ہو گی،کیونکہ معطین کا علم ہونے کی صورت میں چندہ دینے والوں کی دوبارہ اجازت اور ان کے علم میں لائے بغیراز خود اتنی رقم مدرسہ میں جمع کروانے سے زکوة ادا نہیں ہو گی، چنانچہ فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات میں تصریح ہے کہ جب وکیل نے وہ رقم اپنی ذاتی ضرورت میں خرچ کر ڈالی تو وکالت کا معاملہ ختم ہو گیا، اس کے بعد جب یہ شخص معطین(چندہ دینے والوں)کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے رقم ادا کرے گا تو یہ متبرع شمار ہو گا۔
البتہ جن چندہ دینے والوں کا علم نہیں ہے اور ان کو تلاش کرنا بھی مشکل ہےتو ایسی مجبوری کی صورت میں یہ شخص اتنی رقم ان کی طرف سے مدرسہ میں جمع کروا ئے تو دلالتاً اجازتِ سابقہ کی وجہ سے ان لوگوں کی زکوة کی ادائیگی کا حکم لگانے کی گنجائش ہے ، کیونکہ ہمارے عرف میں زکوة دینے والوں کا اصل مقصد زکوة کی ادائیگی ہوتا ہے، لہذا مجبوری کی صورت میں رقم خرچ ہونے کے بعد ان لوگوں کی طرف سے دلالتاً گزشتہ اجازت کو معتبر مانا جا سکتاہے اور دلالتاً گزشتہ اجازت کے برقرار رہنےکی وجہ سے سابقہ وکالت ختم نہیں ہو گی، لہذا ان کی دوبارہ اجازت کے بغیر زکوة کی ادائیگی درست ہو گی، چنانچہ حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ زکوة کی رقم تبدیل کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:
"زکوة بہرحال ادا ہو جائے گی البتہ تبدیلی کا جواز اس پر موقوف ہے کہ موکل کی طرف سے تبدیل کا اذن صراحتاً یا دلالتاً موجود ہو، موجود عرف میں اس کی اجازت ہے، اس لیے صراحتاً اذن کی ضرورت نہیں، معہذا صراحتاً اجازت لے لینا بہتر ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم" (احسن الفتاوی:ج:4،ص:300)
اسی طرح علامہ سرخسی رحمہ اللہ کی ایک عبارت بھی سے استیناس کیا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ اگر کسی شخص کو مسجد بنانے کے لیے کسی نے رقم دی، اس شخص نے وہ رقم اپنے ذاتی مصرف میں خرچ کر لی تو اگر چندہ دینے والے شخص کا علم نہ ہو اور یہ شخص اپنی طرف سے اتنی رقم لگا کر مسجد تعمیر کر دے تو یہ شخص دیانتاً برئ الذمہ ہو جائے گا اور فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اس کو استحسان قرار دیا ہے۔ البتہ قضاءً بری نہیں ہو گا، یعنی اگر چندہ دینے والا شخص قاضی کی عدالت میں دعوی دائر کرے کہ اس نے میری اتنی رقم اپنے ذاتی مصرف میں خرچ کی ہے تو اس شخص پرقضاءً اتنی رقم مالک کو واپس کرنا ضروری ہو گا۔
جہاں تک اس شخص کو برطرف کرنے یا مدرسہ میں برقراررکھنے کا تعلق ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ شخص کمیٹی کے سامنے اپنی اس خیانت پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ کرتا ہے اور کمیٹی کو اس پر اعتماد آجاتا ہے تو اس کو برقرار رکھنے میں حرج نہیں، البتہ آئندہ کے لیے کمیٹی کو چاہیے کہ مدرسہ کے مالی معاملات یعنی پیسوں کی آمد وخرچ کی اچھی طرح نگرانی کرے، تاکہ آئندہ کے لیے کوئی شخص مدرسہ کے لیےآنے والے مال میں اس طرح کی خیانت کا ارتکاب نہ کرے۔
حوالہ جات
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 227) دار الكتاب الإسلامي:
وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا اهـ. إلا إذا قال ضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه كذا في الولوالجية.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 227) دار الكتاب الإسلامي:
وبه يعلم حكم من يجمع للفقراء، ومحله ما إذا لم يوكلوه فإن كان وكيلا من جانب الفقراء أيضا فلا ضمان عليه فإذا ضمن في صورة الخلط لا تسقط الزكاة عن أربابها فإذا أدى صار مؤديا مال نفسه كذا في التجنيس .
فتاوى قاضيخان (3/ 168):
رجل جمع مالاً من الناس لينفقه في بناء المسجد وأنفق من تلك الدراهم في حاجة نفسه ثم رد بدلها في نفقة المسجد لا يسعه أن يفعل ذلك وإذا فعل إن كان يعرف صاحب المال رد الضمان عليه أو يسأله ليأذن له بإنفاق الضمان في المسجد، وإن لم يعرف صاحب المال يرفع الأمر إلى القاضي حتى يأمره بإنفاق ذلك في المسجد فإن لم يقدر على أن يرفع الأمر إلى القاضي قالوا نرجو له في الاستحسان أن ينفق مثل ذلك من ماله في المسجد فيجوز ويخرج عن الوبال فيما بينه وبين الله تعالى، وفي القضاء يكون ضامناً فيكون ذلك ديناً عليه لصاحب المال، وهو نظير ما ذكر في الأصل الوكيل بقضاء الدين إذا صرف مال الموكل في حاجة نفسه ثم قضى بمال نفسه دين الموكل يكون متبرعاً في قضاء دين الموكل.
حاشية ابن عابدين (2/ 269) دار الفكر-بيروت:
قوله ( ضمن وكان متبرعا ) لأنه ملكه بالخلط وصار مؤدياً مال نفسه، قال في التاترخانية: إلا إذا وجد الإذن أو أجاز المالكان آه، أي أجازا قبل الدفع إلى الفقير لما في البحر: لو أدى زكاة غيره بغير أمره فبلغه فأجاز لم يجز لأنها وجدت نفاذا على المتصدق لأنها ملكه ولم يصر نائبا عن غيره فنفذت عليه اه، لكن قد يقال تجزي عن الآمر مطلقاً لبقاء الإذن بالدفع ……قوله ( لولده الفقير) …. وهذا حيث لم يأمره بالدفع إلى معين إذ لو خالف ففيه قولان حكاهما في القنية ، وذكر في البحر أن القواعد تشهد للقول بأنه لا يضمن لقولهم "لو نذر التصدق على فلان له أن يتصدق على غيره" آه , أقول: وفيه نظر لأن تعيين الزمان والمكان والدرهم والفقير غير معتبر في النذر لأن الداخل تحته ما هو قربة وهو أصل التصدق دون التعيين فيبطل وتلزم القربة كما صرحوا به وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره، كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل…...… قوله
( ولو تصدق الخ ) أي الوكيل بدفع الزكاة إذا أمسك دراهم الموكل ودفع من ماله ليرجع ببدلها في دارهم الموكل صح بخلاف ما إذا أنفقها أولاً على نفسه مثلا ثم دفع من ماله فهو متبرع.
الفتاوى الهندية (2/ 480):
رجل جمع مالاً من الناس لينفقه في بناء المسجد فأنفق من تلك الدراهم في حاجته، ثم رد بدلها في نفقة المسجد لا يسعه أن يفعل ذلك، فإن فعل فإن عرف صاحب ذلك المال رد عليه أو سأله تجديد الإذن فيه، وإن لم يعرف صاحب المال استأذن الحاكم فيما يستعمله، وإن تعذر عليه ذلك رجوت له في الاستحسان أن ينفق مثل ذلك من ماله على المسجد فيجوز، لكن هذا واستئمار الحاكم يجب أن يكون في رفع الوبال، أما الضمان فواجب كذا في الذخيرة.
المحيط البرهاني (6/ 130):
في «فتاوي أبي الليث:»رجل جمع مالاً من الناس لبقعة في بناء المسجد فأنفق في حاجته من تلك الدراهم ثم رد بدلها في نفقة المسجد لا يسعه أن يفعل ذلك، فإن فعل فإن عرف صاحب ذلك المال رد عليه أو سأله تجديد الإذن؛ لأنه دخل في ضمانه فلا يبرأ عنه إلا بالرد إلى المالك وإلى بانيه ولم يوجد، وإن لم يعرف صاحب المال استأمر الحاكم فيما يستعمله، وإن تعذر عليه ذلك رجوت له في الاستحسان أن ينفق مثل ذلك من ماله على المسجد فيجوز ذلك، هذا واستئمار الحاكم يجب أن يكون في دفع الوبال، أما الضمان فواجب؛ فإنه ذكر في وكالة «المبسوط»أن الوكيل بقضاء الدين إذا صرف مال الموكل إلى قضاء دين نفسه ثم قضى دين الموكل من ماله ضمن وكان متبرعاً في قضاء دينه.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
19/شوال المکرم 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


