03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گرافک ڈیزائننگ میں مذہبی عناصر کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا
80453جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا گرافک ڈیزائننگ میں مذہبی عناصر کو تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کرنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذہبی عناصر سے اگر مذہبی شعائر اور کلمات مراد ہیں اور ان کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے ان کے ذریعے تشہیر اور مارکیٹنگ کرنا مراد ہے تو فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس کو مکروہِ تحریمی اور ناجائز قرار دیا ہے، اور اس کی علت اور وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ اس کو تجارت اور کمائی کا ایک ذریعہ بنا رہا ہے جو کہ جائز نہیں۔

فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ اس علت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر تشہیر اور مارکیٹنگ میں مذہبی شعائر یا آیات اور کلمات لکھنے اور پیش کرنے کا مقصودِ اصلی اپنی تجارت کو فروغ دینا اور گاہک (Customers) کی توجہ حاصل کرنا نہ ہو یعنی انہیں محض تشہیر (Marketing) کا وسیلہ (Tool) نہ بنایا جا رہا ہو، بلکہ اصل مقصد اس تجارت سے متعلق شرعی تصور یا شرعی حکم کی تبلیغ ہو، یا لوگوں کے ذہنوں اور لاشعور میں مذہب اور اس کے شعائر کی اہمیت اور جاذبیت پیدا کرنا مقصودِ اصلی ہو تو اس کی گنجائش ہونی چاہیے۔ تاہم چونکہ یہ نیت کا معاملہ ہے اور نیتوں سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہیں؛ اس لیے ایسے معاملات میں کسی مستند عالمِ دین اور اللہ والے سے مشاورت اور اپنی نفس کی نگرانی ضروری ہے۔  

حوالہ جات

صحيح البخاري (1/ 6):

إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى……. الحدیث

فتاوى قاضيخان (3/ 259):

الحارس في الحراسة إذا قال: لا اله إلا الله أو ما أشبه ذلك، أو الفقاعي يقول عند فتح الفقاع للمشتري: صلى الله على محمد قالوا يكون آثما، بخلاف العالم إذا قال في المجلس: صلوا على النبي علیه الصلاة والسلام؛ فإنه یثاب علی ذلك، وکذا الغازي إذا قال: کبروا یثاب علیه؛ لأن الفقاعي والحارس يأخذ بذلك عوضا.  رجل جاء إلى تاجر ليشتري منه ثوبا فلما فتح المتاع قال: سبحان الله! أو قال: اللهم صل على محمد، إن أراد بذلك إعلام المشتري بجودة ثوبه ومتاعه كره.

الفتاوى الهندية (3/ 215):

ولا يحلف لترويج السلعة. وعن أبي بكر البلخي يأثم الفقاعي بالصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم عند فتح الفقاع، وكذا الحارس بقوله لا إله إلا الله عند الحراسة، كذا في التتارخانية.

الدر المختار (1/ 518):

ثم قال: فتكون (أي الصلاة علی النبي) فرضا في العمر، وواجبا كلما ذكر على الصحيح، وحراما عند فتح التاجر متاعه ونحوه.

رد المحتار (1/ 518):

قوله ( وحراما إلخ ) الظاهر أن المراد به كراهة التحريم لما في كراهية الفتاوى الهندية: إذا فتح التاجر الثوب فسبح الله تعالى أو صلى على النبي يريد به إعلام المشتري جودة ثوبه فذلك مكروه، وكذا الحارس؛ لأنه يأخذ لذلك ثمنا. وكذا الفقاعي إذا قال ذلك عند فتح فقاعه على قصد ترويجه وتحسينه يأثم وعن هذا يمنع. إذا قدم واحد من العظماء إلى مجلس فسبح أو صلى على النبي إعلامًا بقدومه حتى يفرج له الناس أو يقوموا له يأثم ا هـ

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       23/ ذو القعدۃ/1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب