| 80423 | نماز کا بیان | نماز کےمفسدات و مکروھات کا بیان |
سوال
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ تین اور چارکعت والی نماز میں دورکعت کے بعد قعدہ میں بیٹھنے کی بجائے سیدھا کھڑا ہوگیا تو کیا اسکے بعد واپس لوٹنا جائز ہےیانہیں ؟ اگر مکمل کھڑے ہونے کے بعد واپس لوٹ آیا اس کا کیاحکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تین اور چار رکعات والی فرض وتر کی واجب نماز یا چاررکعت والی سنت مؤکدہ کاحکم یہ ہے کہ اگر دورکعت کے بعد قعدہ اولی میں بیٹھنا بھول گیا کھڑا ہونے لگا اگر گھٹنے سیدھے کرنے سے پہلے یاد آگیا تو واپس بیٹھ جائے التحیات پڑھ کر کھڑا ہوجائے اوربقیہ نماز مکمل کرے ،ایسی صورت میں سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا ۔ اوراگر قعدہ اولی چھوڑ کر بلکل سیدھا کھڑا ہوگیا تو قعدہ اولی کے لئے واپس نہ لوٹے کیونکہ قیام فرض ہے اور قعدہ اولی میں بیٹھنا واجب ہے ، بلکہ ایسی صورت میں اس پر لازم ہے کہ بقیہ نماز پوری کرکے آخر میں سجدہ سہو کرے ، لیکن اگر قیام سے لوٹ آیا اور التحیات کے لئے بیٹھ گیا تو اس نےاگر چہ گناہ کاکام کیا لیکن ایسی صورت میں بھی آخر میں سجدہ سہو کرنے سے راجح قول کے مطابق نماز درست ہوجائے گی ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 83)
(سها عن القعود الأول من الفرض) ولو عمليا، أما النفل فيعود ما لم يقيد بالسجدة (ثم تذكره عاد إليه) وتشهد، ولا سهو عليه في الأصح
(ما لم يستقم قائما) في ظاهر المذهب، وهو الأصح فتح (وإلا) أي وإن استقام قائما (لا) يعود لاشتغاله بفرض القيام (وسجد للسهو) لترك الواجب (فلو عاد إلى القعود) بعد ذلك (تفسد صلاته) لرفض الفرض لما ليس بفرض وصححه الزيلعي (وقيل لا) تفسد لكنه يكون مسيئا ويسجد لتأخير الواجب (وهو الأشبه) كما حققه الكمال وهو الحق بحر، وهذا في غير المؤتم؛ أما المؤتم فيعود
(قوله ولو عمليا) كالوتر فلا يعود فيه إذا استتم قائما. وعلى قولهما يعود لأنه من النفل ط
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۵ ذی قعدہ ١۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


