| 80488 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
مکس مارشل آرٹس کے بارے میں سوال پوچھنا ہے، اس میں تمام کھیلوں کا مجموعہ بنا کر کھیلا جاتا ہے۔ جس میں کراٹے، کشتی، مکا بازی وغیرہ سب شامل ہیں۔ اس کھیل میں دوسرے فریق سے کسی بھی طرح پوائنٹ لینا مقصود ہوتا ہے، چاہے اس طریقے سے سخت تکلیف ہی کیوں نہ ہو۔ پوائنٹ لینے کے لیے چہرے پر مارنا، گلے کو مضبوطی سے جکڑنا اور اس جیسے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔چہرے پر مارنے سے ناک کا ٹوٹنا، ہڈی کا ٹوٹنا، بے ہوش ہونا کثرت سے ہوتا ہے۔ اسی طرح گلے کو جکڑنے سے بھی بے ہوش ہونا اور کبھی کبھار موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔
اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
موجودہ زمانہ میں باکسنگ، مُکّا بازی، فری اسٹائل فائٹنگ، اسی طرح مارشل آرٹس کے جو مقابلے منعقد ہوتے ہیں، وہ شریعتِ اسلامی میں بالکل حرام ہیں، اسے جائز ورزش کا نام نہیں دیا جاسکتا، ایسے باکسنگ مقابلوں کو ٹی وی پر براہِ راست نشر کرنا بھی جائز نہیں؛ کیوں کہ اس میں فریق مقابل کو شدید جسمانی اذیت پہنچانے کو جائز تصور کیاجاتا ہے؛ جس سے ہوسکتا ہے کہ مدِمقابل اندھے پن، سخت نقصان، دماغی چوٹ یا گہرے ٹوٹ پھوٹ؛ بلکہ موت سے بھی دوچار ہوجائے۔جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے۔اس میں مارنے والے پراس نقصان کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے، جیتنے والے کے حامیوں کو اس کی جیت پر خوشی اور مقابل کی اذیت پر مسرت ہوتی ہے، جو اسلام میں ہرحال میں حرام اور ناقابل قبول ہے۔ کئی سارے مفاسد کی وجہ سے اس کی شریعت میں گنجائش نہیں۔
حوالہ جات
{وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَة} [البقرة: 195]
الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 105)
الضرر يزال أصلها : قوله عليه الصلاة و السلام : [ لا ضرر ولا ضرار ] أخرجه مالك في الموطأ عن عمرو بن يحيى عن أبيه مرسلا وأخرجه الحاكم في المستدرك و البيهقي و الدارقطني من حديث أبي سعيد الخدري وأخرجه ابن ماجه من حديث ابن عباس و عبادة بن الصامت رضي الله عنهم .
وفسره في المغرب بأنه لا يضر الرجل أخاه ابتداء ولا جزاء.
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
27/ذو القعدہ/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


