| 79310.62 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
اگر کوئی شخص اپنی سگی پھوپھی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرلے،اس کے بعد وہ شخص اپنی یا اپنے بہن، بھائیوں کی اولاد کا نکاح اپنی سگی پھوپھی یا چاچا کی اولاد کے ساتھ کرا سکتاہے؟
کیا ایسا کرنے سے اس شخص کے والدین کے نکاح پڑ کوئی فرق پڑے گا اور یہ شخص اپنے نکاح کے وقت اپنے نام کے ساتھ اپنے والدین کا نام لگا سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس جرم کی قباحت وحرمت کے حوالےسے جواب نمبر تین ملاحظہ ہو، باقی نفسِ مسئلہ کی رو سے حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص زنا کرلے، تو صرف زنا کرنے والے مرد اور عورت کے اصول(والدین دَر والدین) اور فروع(اولاد دَراولاد) زانی اورمزنیہ پر حرام ہوجاتے ہیں۔
لہٰذاصورتِ مسئولہ میں ایسا شخص (جس نے اپنی پھوپھی کے ساتھ زنا کیا تھا) اپنی اولاد یا اپنے بہن، بھائیوں کی اولاد کا نکاح اُس پھوپھی کی اولادیا چاچا کی اولاد کے ساتھ کرا سکتا ہے۔ نیز زنا کے عمل سے زانی کے والدین کے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑتا،اور اِس شخص کا نکاح کے وقت اپنے نام کے ساتھ والدین کا نام لگانا بھی درست ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 28)
(قوله: قرابة) كفروعه وهم بناته وبنات أولاده، وإن سفلن، وأصوله وهم أمهاته وأمهات أمهاته وآبائه إن علون وفروع أبويه، وإن نزلن فتحرم بنات الإخوة والأخوات وبنات أولاد الإخوة والأخوات، وإن نزلن وفروع أجداده وجداته ببطن واحد فلهذا تحرم العمات والخالات وتحل بنات العمات والأعمام والخالات والأخوال.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 32)
(قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ.
عدنان اختر
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
۱۰؍رجب ؍۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عدنان اختر بن محمد پرویز اختر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


