| 80531 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نےاپنی بیٹی کی منگنی بڑے بھائی کے بیٹے سے کرائی تھی( نکاح نہیں ہوا تھا صرف منگنی ہوئی تھی)۔ اب کسی ناراضگی کی بناء پر اس نے طلاق کے لفظ کو تین بار دہرا کر رشتہ ختم کردیا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اب ان کے درمیان رشتہ برقرار ہے یا ختم ہوگیا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
منگنی نکاح کا وعدہ ہے اور بغیر کسی شرعی اور معقول عذرکے وعدہ اورمعاہدہ کوتوڑنا شرعاً اور اخلاقاً انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے، حدیث شریف میں ہے کہ اس شخص کا کوئی دین نہیں جس میں عہد کی پاس داری نہیں۔ البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو تو منگنی توڑنا جائز ہے۔ نیز واضح رہے کہ منگنی نکاح کی طرح طلاق کے الفاظ سے ختم نہیں ہوتی۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 11)
قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح.
عنایت اللہ عثمانی
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
29/ذی قعدہ/ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


