| 80706 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
جناب مفتی صاحب طلاق کے حوالے سے مسئلہ کا جواب درکار ہے۔
میری دو شادیاں ہیں۔ پہلی بیوی سے اولاد نا ہونے کی وجہ سے والدین کی اجازت کے بغیر اور پہلی بیوی کی اجازت سے دوسرا نکاح کیا۔ ایک سال تک والدین کو اس کا علم نا تھا۔ جب والدین کو علم ہوا تو انہوں نے دوسری بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا جس سے میرے دو بیٹے بھی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ میری دو بہنیں میری پہلی بیوی کے بھائیوں کے نکاح میں ہیں اور ان کی دو بہنیں ہم دو بھائیوں کے نکاح میں ہیں۔ جب میری پہلی بیوی کے بھائیوں کو میرے دوسرے نکاح کا علم ہوا تو ان دونوں نے میری بہنوں کو طلاق کی دھمکی دی اس وجہ سے والدین نے مجھے حکم دیا اور مجبور کیا کہ میں دوسری بیوی کو طلاق دوں۔ والدین کے حکم پر میں نے اسٹام پیپر پر طلاق نامہ لکھوا کر دوسری بیوی کے گھر بھیج دیا اور اس وقت بیوی حاملہ بھی تھی اور اس بات پر میں اور میری بیوی مطمئن اور راضی ناتھے اور میں بیوی سے رابطے میں بھی تھا اور اسے ساری صور تحال بتادی کہ والدین کے زبر دستی حکم کی وجہ سے یہ طلاق نامہ بھیجا ہے نا کہ رضا مندی سے، صرف والدین کو دکھانے کے لیے اور ہم نے آپس میں رجوع بھی کر لیا اور تعلقات بھی بحال رہے۔ پھر ایک ماہ بعد دوسرا پیپر لکھوا کر بھیجا وہ بھی والدین کے حکم اور زبردستی کی وجہ سے اور رجوع بھی کر لیا۔ پھر تیسرا پیپر سات ماہ بعد بھیجا والدین کے زبر دستی کی وجہ سے اور اس میں میں نے ایک دفعہ بھی طلاق کا لفظ نہیں بولا اور ناپڑھا اور نا سوچا ۔ ہر بار میں نے رجوع کیا اور دوسری بیوی بھی طلاق پر راضی نا تھی ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ آیا والدین کے زبر دستی حکم کی وجہ سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
وضاحت: سائل سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ تیسرے طلاق نامے پر بھی ان کے اور گواہوں کے دستخط موجود تھے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں اگر آپ کو یقین یا غالب گمان تھا کہ وہ میری دونوں بہنوں کو واقعتاً طلاق دے دیں گے تو ان طلاق ناموں سے آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، لیکن اگر آپ کو یقین یا غالب گمان تھا کہ وہ طلاق نہیں دیں گے محض مجھے دھمکا رہے ہیں تو ان طلاق ناموں سے آپ کی بیوی پر تین طلاق واقع ہوگئی ہیں۔ بغیر حلالہ شرعیہ کے تجدید نکاح نہیں ہوسکتا ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 236)
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا،
الفتاوى الهندية (1/ 379)
رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 128)
الإكراه. (هو لغة حمل الإنسان على) شيء يكرهه وشرعا (فعل يوجد من المكره فيحدث في المحل معنى يصير به مدفوعا إلى الفعل الذي طلب منه) وهو نوعان تام وهو الملجئ بتلف نفس أو عضو أو ضرب مبرح وإلا فناقص وهو غير الملجئ. (وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع) كشرب الخمر والزنا
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 246)
[مطلب في الطلاق بالكتابة]
(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة...... ولا يحتاج إلى النية في المستبين المرسوم، ولا يصدق في القضاء أنه عنى تجربة الخط بحر، ومفهومه أنه يصدق ديانة في المرسوم رحمتي.
عنایت اللہ عثمانی عفی اللہ عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
30/ذی الحجہ/ 1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


