03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پشتو میں “کلہ ھم” کے الفاظ کے ساتھ طلاق کی تعلیق کا حکم
81252طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میری عمر تقریباً 34 سال ہے اور تقریبا 14 سال پہلے میری شادی ........ ایک شخص کے ساتھ ہوئی۔شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ جہاں میری رہائش تھی وہاں قریب میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں رہتا تھا اور میرے شوہر رات کو اکثر دیر سے گھر آتے تھے۔ ہمارے پڑوس میں ایک عورت رہتی تھی اور میں رات کو اکثر ان کے گھر جاتی تھی۔  ایک دن میرے شوہر نے غصے میں کہا کہ اگر تم دوبارہ  ان کے گھر گئی تو تمہیں طلاق ہے۔ پھر ایک دفعہ میرے اوپر جنات آگئے اور میں اپنے ہوش وحواس میں نہیں رہی، اسی حالت میں میں اس گھر چلی گئی۔ وہاں جانے کے بعد مجھے ہوش آیا تو سب سے پہلے اپنے شوہر کی بات یاد آئی ۔ اس کے بعد میں ایک گھنٹہ اس گھر میں رہی اور میں باقاعدہ پورے ہوش میں تھی۔ میرے شوہر نے ایک مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تمہاری بیوی کو ایک طلاق ہوگئی ہے، رجوع کرو۔ میرے شوہر نے رجوع کر لیا اور ہم میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہتے رہے۔

کچھ عرصے بعد میرے شوہر نے  غصے میں مجھے کہا کہ میں نے جب بھی تمہارے لیے سلنڈر بھروایا تو تمہیں طلاق ہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ تک میں اپنے خرچے سے سلنڈر بھرواتی رہی۔ پھر میرا شوہر مجھے دوسرے گھر لے گیا جہاں میری ساس بھی میرے ساتھ رہتی تھی۔ اس گھرمیں میرا شوہر سلنڈر بھرواتا تھا۔ شاید اس کا خیال ہو کہ وہ اپنی والدہ کے لیے بھرواتا ہے۔ پھر مئی 2019ء میں ایک دوسرے گھر میں شفٹ ہو گئی جہاں میری ساس ہمارے ساتھ نہیں رہتی تھی، بلکہ میں اکیلی اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ اس گھر میں میرے شوہر نے متعدد مرتبہ میرے لیے سلنڈر بھروایا۔ جب میں نے اپنے شوہر کو ان کے الفاظ یاد دلائے اور کہا کہ کسی مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھیں تو انہوں نے بات ٹال دی۔ مارچ 2020ء کے بعد سے میں اپنے والدین کے گھر میں ہوں اور میرا اپنے شوہر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔

 آپ سے دریافت طلب امر یہ ہے کہ مجھ پر کل کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ نیز یہ بھی وضاحت  فرمائیے کہ میرے والدین میرا نکاح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کیا موجودہ صورتِ حال میں میرا کسی دوسرے شخص سے نکاح شرعا جائز ہے؟

وضاحت: سائلہ کے والد نے فون پر بتایا کہ سلنڈر بھروانے پر طلاق کی جو تعلیق کی تھی، یہ بات انہوں نے پشتو میں کی تھی، پشتو کے الفاظ یہ تھے "ما کہ تا لہ  کلہ ھم سلنڈر را ڈک کو نو تہ بہ پہ ما باندی طلاقہ یے"۔  مئی 2019ء کے بعد جب یہ میاں بیوی دوسرے گھر میں منتقل ہوئے اور شوہر نے پہلی دفعہ سلنڈر بھروایا تو اس کے بعد اس نے عدت کے اندر رجوع کے کوئی الفاظ نہیں کہے، البتہ یہ دونوں میاں بیوی کی طرح ساتھ رہتے رہے اور میاں بیوی والا تعلق قائم رہا۔ سائلہ جب شوہر سے کہتی کہ آپ نے تو سلنڈر بھروالیا ہے، مسئلہ پوچھ لیں تو وہ کہتا کہ دو طلاقیں ہوگئی ہیں، ایک طلاق ابھی باقی ہے۔ پھر ان کے درمیان لڑائی ہوگئی اور سائلہ مارچ 2020ء میں والدین کے گھر آگئی۔ وہ عالمہ ہے، کہتی ہے کہ اس نے تو کئی دفعہ سلنڈر بھروایا ہے، اس نے مجھے ناجائز طریقے سے اپنے پاس رکھا۔  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں پڑوسن کے گھر جانے پر طلاق کی تعلیق کے بعد جب آپ اپنی اس پڑوسن کے گھر گئی تو آپ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی، اس کے بعد جب آپ کے شوہر نے عدت کے اندر رجوع کرلیا تو وہ رجوع درست ہوگیا تھا۔

جہاں تک شوہر کے پشتو الفاظ "ما کہ تا لہ  کلہ ھم سلنڈر را ڈک کو نو تہ بہ پہ ما باندی طلاقہ یے" کا تعلق ہے تو ہمارے خیال میں اس کا صحیح اردو ترجمہ یہ بنتا ہے کہ: میں نے تمہارے لیے جب کبھی بھی سلنڈر بھروایا تو تم میرے اوپر طلاق ہوگی، یعنی تمہیں طلاق ہوگی۔ اور پشتو زبان میں یہ جملہ عمومِ زمان کا معنی ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، عمومِ افعال کے لیے نہیں، یعنی یہ "کلما" کے معنی میں نہیں، بلکہ "متیٰ ما" کے معنی میں ہے اور  اس سے ایک ہی دفعہ طلاق کی تعلیق منعقد ہوئی ہے۔ لہٰذا یہ الفاظ کہنے کے بعد جب آپ کے شوہر نے پہلی دفعہ آپ کے لیے سلنڈر بھروایا تھا، اس سے آپ پر دوسری طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی، اس کے بعد سلنڈر بھروانے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

 پہلی دفعہ سلنڈر بھروانے کے بعد اگر شوہر نے عدت کے اندر اندر رجوع کرلیا تھا تو وہ رجوع درست تھا۔ رجوع قول اور فعل دونوں سے ہوسکتا ہے۔ قول سے رجوع بیوی کے سامنے کرنا ضروری نہیں، شوہر اکیلے میں بھی کرسکتا ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ دو عادل آدمیوں کے سامنے رجوع کرکے ان کو گواہ بنادیں، اور بیوی کو بھی اس کی اطلاع کردیں۔ فعل سے رجوع کرنے سے مراد یہ ہے کہ عدت کے اندر اندر کوئی بھی ایسا کام کیا جائے جس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہو، مثلا شہوت کے ساتھ چھونا یا ازدواجی تعلقات قائم کرنا۔ سائلہ کے والد نے جو وضاحت بتائی ہے، اس کی روشنی میں شوہر نے عدت کے اندر (کم از کم) فعل کے ذریعے رجوع کرلیا تھا، شوہر کا یہ کہنا کہ "دو طلاقیں ہوگئی ہیں، ایک طلاق ابھی باقی ہے" بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ اگر صورتِ حال یہی ہے تو پھر آپ دونوں کا نکاح باقی ہے اور فی الحال آپ دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔

حوالہ جات

فتاوى قاضيخان (1/ 235):

رجل حلف بالفارسية وقال هر كاه كه من اين كاركنم فكذا، فهذه جملة ألفاظ الفارسية هر وقت وهر كاه وهر چه كاه وهر زمان وهمي وهميشه وهر بار، في واحدة منها يتكرر الحنث بتكرار الفعل في قولهم وهو قوله هربار، كما لو قال بالعربية: كلما دخلت الدار فامرأته طالق، فدخل الدار مراراً يتكرر الطلاق بتكرر الدخول، وفيما سواها من ألفاظ هرزمان وهركاه لا يتكرر الحنث بتكرار الفعل، ولا يحنث إلا مرة واحدة، كما لو قال: متى دخلت الدار أو متى ما دخلت الدار فامرأته طالق فإنه لا يحنث إلا مرة واحدة. وقال بعضهم في قوله هر زمان وهركاه يتكرر الحنث بتكرر الفعل؛ لأن قوله "هر" تفسير قوله "كل و كلما"، فيوجب الإحاطة والتعميم، وقال بعضهم لا يتكرر الحنث إلا في قوله "هر بار"، وعليه الاعتماد. وذكر محمد بن مقاتل الرازي في ترجمة قوله هر بار وهرزمان وهر كاه شبيه بكل مرة، وبكلما فيحنث في كل مرة.

الفتاوى الهندية (1/ 415):

 ألفاظ الشرط إن وإذا وإذا ما وكل وكلما ومتى ومتى ما. ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت؛ لأنها لاتقتضي العموم والتكرار، فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين، فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما؛ لأنها توجب عموم الأفعال، فإذا كان الجزاء الطلاق والشرط بكلمة كلما يتكرر الطلاق بتكرار الحنث، حتى يستوفي طلاق الملك الذي حلف عليه.

الدر المختار (3/ 398- 397):

باب الرجعة: ( هي استدامة الملك القائم ) بلا عوض ما دامت ( في العدة ) أي عدة الدخول حقيقةً؛ إذ لا رجعة في عدة الخلوة ، ابن كمال .  وفي البزازية: ادعى الوطء بعد الدخول وأنكرت فله الرجعة لا في عكسه ، وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطأ ( بنحو ) متعلق باستدامة  (راجعتك ورددتك ومسكتك ) بلا نية؛ لأنه صريح ( و ) بالفعل مع الكراهة ( بكل ما يوجب حرمة المصاهرة ) كمس ولو منها اختلاسًا أو نائما أو مكرهًا أو مجنونًا أو معتوهًا إن صدقها هو أو ورثته بعد موته، جوهرة ...…( إن لم يطلق بائنًا ) فإن أبانها فلا ……. ( وندب إعلامها بها ) لئلا تنكح غيره بعد العدة، فإن نكحت فرق بينهما وإن دخل، شمني ( وندب الإشهاد)   بعدلین ولو بعد الرجعة بالفعل (و) ندب عدم دخوله بلا إذنها علیها) لتتأهب وإن قصد    رجعتها؛ لکراهتها بالفعل، کما مر.

رد المحتار (3/ 398):

قوله ( مع الكراهة ) الظاهر أنها تنزيهية، كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء، رملي. ويؤيده قوله في الفتح عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء: إنه عندنا يحل؛ لقيام ملك النكاح من كل وجه، إنما يزول عند انقضاء العدة، فيكون الحل قائما قبل انقضائها ا هـ، ولا يرد حرمة السفر بها؛ لأن ذلك ثابت بالنص على خلاف القياس، كما يأتي، ويؤيده قوله في الفتح: والمستحب أن يراجعها بالقول، فافهم.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        22/صفر المظفر/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب