| 81243 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
انگلینڈ کی ایک فائنانسنگ کمپنی ہے جو کہ رجسٹرڈ ہے اور ٹیکس دیتی ہے۔ یہ کمپنی بہت سارے کام کرتی ہے، جن میں سے ایک ہے برج فائنانسنگ، جس میں کریڈٹ کارڈ کے وہ صارفین جن کے ٹائم پر کریڈٹ کارڈ کے بل واپس بینک کو یا کسی بھی مطلوبہ ادارے کو ادا نہ ہوئے ہوں، تو اِس کمپنی کی وساطت سے ڈیلر جمع کیے جاتے ہیں جو اس طرح کے صارفین کے قرضے ادا کرتے ہیں جس پر اُن کو کمپنی کی طرف سے ایک فیصد کمیشن ملتا ہے اور اپنے پیسے بھی واپس ملتے ہیں۔ میں نے کمپنی سے پوچھا کہ یہ جو ایک فیصد کمیشن ہے کیا یہ سود ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں کیونکہ ہم بینک نہیں ہیں اور یہ ایک فیصد کمیشن ہم بطور تنخواہ دیتے ہیں، کیونکہ ہر بندہ دن میں کچھ ٹاسک کر سکتا ہے جیسا کہ 10 یا 12 ۔ اس بارے میں براہ کرم رہنمائی فرما دیجئے کیونکہ اس میں انویسٹمنٹ ہے اور ایک پارٹ ٹائم جاب ہے جس کو بندہ ایک گھنٹہ کر کے اپنے اکاؤنٹ کے مطابق کما سکتا ہے۔
وضاحت: سائل نے ایک وائس میسج بھیجا جس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ کا صارف وقت پر ادائیگی نہ کرسکے تو اس کی طرف سے ہم ادائیگی کردیتے ہیں جس پر 1فیصد کمیشن ملتا ہے اور کچھ وقت بعد جو قیمت ادا کی ہوتی ہے وہ بھی واپس مل جاتی ہے۔ کسی کے اکاؤنٹ میں مثلا 1ہزار ڈالر ہیں تو وہ 100ڈالر والے دس لوگوں کی ادائیگی کر کے نفع حاصل کر سکتا ہے، جتنے زیادہ پیسے اکاؤنٹ میں ہونگے اتنے زیادہ ٹاسک(لوگوں کی طرف سے ادائیگی) کرسکتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہ صورت میں قرضہ ادا کرنے والا (ڈیلر) ان لوگوں کا وکیل ہے جو کریڈٹ کارڈ کا بل وقت پر ادا نہیں کرسکے، اور اس معاملہ کا مقصد یہ ہے کہ بینک کا قرضہ چکا کر اس سے جان چھڑائی جائے کیونکہ کریڈٹ کارڈ کا بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے بینک جو سود لگاتا ہے وہ زیادہ ہوتا ہے اور ہر ماہ اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ جبکہ مذکورہ معاملہ کرنے کی صورت میں بینک کے مقابلے کم قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ اور اضافی رقم جس کو کمیشن سے تعبیر کیا گیا ہے یہ سود ہے، یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے بینک کریڈٹ کارڈ کا بل وقت پر ادا نہ کرنےکی صورت میں اضافی رقم لے رہا ہےلہٰذا مذکورہ طریقے پر سرمایہ کاری کر کے نفع حاصل کرنا جائز نہیں اس سے بچنا لازم ہے۔
حوالہ جات
الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم (17/ 364)
وإنما يختلف فيه إذا كان من قرض فاتفق على جوازه في الزيادة في الصفة إذا كان بغير شرط ولا عادة ولا قصد من المقرض للزيادة لقوله صلى الله عليه وسلم: "كل قرض جر نفعًا فهو ربا" اهـ مفهم.
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 430)
بحر وفي الخلاصة: القرض بالشرط حرام، والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه.
وفي الاشباه كل قرض جر نفعا حرام.
عمر فاروق
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
۱۷/صفر الخیر/۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


