03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ میں موجود گھر میں سے اپنا حصہ معاف کرنا
81250میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان صاحبان وراثت کے اس مسئلہ میں کہ آج سے تقریبا 39 سال قبل میرے سسر کا انتقال ہوا،اس وقت ان کا ایک آبائی مکان تھا جو اب بھی ہے،اُس وقت ورثا کی تعداد کچھ اس طرح تھی کہ 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں تھیں۔اس کے بعد ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا،پھر کچھ عرصہ کے بعد میری ساس فوت ہوگئیں اور اب میرے شوہر عرصہ 2 سال قبل وفات پاگئے۔واضح ہو کہ بڑے بیٹے کی بیوی عدت کے بعد میکے چلی گئی اور وہاں اس نے کسی اورسے عقدِ نکاح کرلیا۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ میرے شوہر مرحوم نے باقی دونوں بھائیوں سے یہ کہا تھا کہ ہمارا آبائی گھر جو ہے میں اس میں سے اپنا حصہ نہیں لوں گا،اب یہ آپ دونوں کا ہے،آیا ان کا اس طرح کہنا ٹھیک تھا؟ کیا ہمیں یا میرے بچوں کو ترکہ دینا چاہیے یا نہیں؟شرعی طریقہ تقسیم وراثت کیسے درست ہوگا؟مرحوم کا یا ہمیں کچھ گناہ تو نہیں ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ فقہاءِ شریعت کے مطابق وراثت ایک اضطراری حق ہے،جس کو لازمی حق بھی کہا جاتا ہے۔اضطراری حق کا مطلب یہ ہے کہ وارث کے نہ چاہتے ہوئے بھی وراثت اس کی ملکیت میں شامل ہوجاتا ہے۔جب وراثت کا حق اضطراری حق ہے تو اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ میراث کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ سے بلا عوض دست بردار ہوکر دوسرےورثا کے لیے چھوڑنا شرعاً معتبر نہیں ہے،لیکن اگرکوئی وارث ترکہ میں سے کوئی چیز لےکر صلح کرلے اور ترکہ میں سے اپنے باقی حصہ سے دست بردار ہوجائے تو یہ درست ہے، اسے فقہی اصطلاح میں " تخارج" کہتے ہیں۔لہذا اگر کوئی وارث عوض لیے بغیر اس طرح کہے کہ میں میراث میں سے اپنا حصہ معاف کرتا ہوں تو میراث میں سے اس کا حق ختم نہیں ہوجاتا۔ البتہ اگر ترکہ تقسیم ہوکر ہر وارث کو اس کا حصہ دیا جائےتو پھرکوئی وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے  کے بعد بغیر کسی دباؤ کے اپنی رضامندی سے کسی کو بطور ہبہ دینا چاہےتو یہ شرعاً جائز اور  معتبر ہے۔

صورتِ مسئولہ میں آپ کے شوہر نے تقسیمِ میراث سے پہلے ترکہ میں موجود گھر میں سے اپنا حصہ اپنے بھائیوں کے لیےبلا عوض چھوڑ دیا تھا یہ شرعا معتبر نہیں،آپ کے شوہر کا موجودہ گھر میں شرعی حصہ برقرار ہے۔لہذا مذکورہ گھر آپ کے سسر کے انتقال کے وقت موجود ورثا میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔اُن ورثا میں سے اگر کسی کا انتقال ہوگیا ہو تو اُس کا حصہ اُس کے ورثا کو ملے گا جو ان کے درمیان شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

 (تکملہ رد المحتار: کتاب الدعوی، باب دعوة النسب، 12/ 116)

"لو قال ترکت حقي من المیراث ،أو برئت منہا ومن حصتي لا یصح، وھو علی حقہ ؛ لأن الإرث جبري ،لا یصح ترکہ."

(غمز عیون البصائر فی شرح الأشباہ والنظائر 3/ 354)

" لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَکْتُ حَقِّی لَمْ یَبْطُلْ حَقُّہُ؛ إذْ الْمِلْکُ لَا یَبْطُلُ بِالتَّرْک(الأشباہ)

قولہ: لو قال الوارث: ترکت حقی إلخ. اعلم أن الإعراض عن الملک ،أو حق الملک ضابطہ أنہ إن کان ملکا لازما لم یبطل بذلک کما لو مات عن ابنین ،فقال أحدہما: ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل؛  لأنہ لازم لا یترک بالترک، بل إن کان عینا فلا بد من التملیک، وإن کان دینا فلا بد من الإبراء."

( لسان الحكام :1 / 236)                                        

"وفي جامع الفتاوى: ولو قال تركت حقي من الميراث، أو برئت منه، أو من حصتي لا يصح، وهو على حقه ؛ لأن الإرث جبري ،لا يصح تركه.".

(شريفيه شرح سراجیه ،باب التصحیح ، فصل في التخارج: ص:73الناشر:قدیمی کتب خانہ)

"فصل في التخارج و هو تفاعل من الخروج و المراد به ههنا أن يتصالح الورثة على اخراج بعضهم عن الميراث بشيئ معلوم من التركة ، و هو جائز عند التراضي."

(الفتاوى الهندية :ج 32 / ص 288)

"( الباب الخامس عشر في صلح الورثة، والوصي في الميراث ،والوصية )  إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح، قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا."

ابرار احمد صدیقی

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

      ۲۳/صفر/١۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابراراحمد بن بہاراحمد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب