03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کو سونادیکررقم لیا اوراب ان کی وفات کے چار سال بعد سونےکے رہن/قرض ہونے کا دعوی کرنا
81259میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے  میں کہ

 بھائی یعقوب نے والدِ محترم کے پاس امانت کے طور پر تقریباً 8 تولہ سونا  رکھوایا تھا اور اسکی مدمیں 510000(پانچ لاکھ دس ہزار روپے)  وصول کئے تھے اس وقت سونے کی قیمت 70000 ہزار روپے تھی ،اسی اثنا میں والد محترم کا انتقال ہوگیا،والد صاحب کے انتقال کے 4 سال کے بعد بھائی یعقوب صاحب آکر وارثین سے سونے کا تقاضہ کرتے ہیں، اب سونے کی قیمت تقریباً 215000 ۔دو لاکھ پندرہ ہزار روپے چل رہی ہے،تمام وارثوں کے علم میں تویہ  بات تھی کہ بھائی یعقوب صاحب نے سونا  والدِ محترم کو فروخت کیا تھا،اس دوران بھائی یعقوب صاحب نے اور ان کی اہلیہ اور بچوں نے بھی ہم وارثوں سے نہ والد صاحب کی زندگی میں کہا تھا کہ یہ امانت ہے اور نہ ہی والد کے انتقال کے بعد ہم سے رجوع کیا تھا،تقریباً پانچ سال کے بعد آکر جبکہ سونے کی قیمت 215000 دولاکھ پندرہ ہزار روپے چل رہی ہے اس وقت آکر کہتے ہیں کہ ہمارا سونا واپس کردو ،وارث نے مجبوری کے تحت سونا فروخت کردیا تھا اس نیت سے کہ سونا ہمارا ہے،نہ کہ امانت ہے،شریعت میں ہمارے لئے کیا حکم ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مدعی (بھائی یعقوب) کے علاوہ اگر دوسرے ورثہ مدعی کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتے کہ یہ سونا بطورامانت تھااوروہ باقی ورثہ اس پر قسم اٹھانے کےلیے بھی آمادہ ہوں کہ ان کے علم میں یہ بات نہیں کہ والد صاحب کویہ سونا بطورامانت یا رہن دیا گیا تھا تو اس صورت میں بھائی یعقوب کا دعوی قابلَ تسلیم نہیں ہوگااوراس سونے کو اس رقم کے عوض فروخت شدہ سمجھا جائے گا،کیونکہ اس وقت کے حساب سے یہ رقم اس سونے کی قیمت کے طورپر قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے نیز والد صاحب کی وفات کے چارسال بعد فروختی کا دعوی کرنا بھی اس امانت والے دعوے کو مشکوک بناتا ہے۔

ہاں اگر سونا رکھواتے وقت بھائی یعقوب نے دومرد یا ایک مرد اوردو قابلِ بھروسہ عورتوں کو اس بات پر گواہ بنایا ہو کہ میں یہ سونا والد صاحب کے پاس بطورقرض یا رہن رکھ رہا ہوں اوروہ گواہ اس کی گواہی دیں تو پھریہ سونابھائی یعقوب ورثہ سے لے سکے گا ۔

حوالہ جات

الدر المختار: (553/5، ط: دار الفکر)

 (كذا إذا ادعى دينا أو عينا على وارث إذا علم القاضي كونه ميراثا أو أقر به المدعي أو برهن الخصم عليه) فيحلف على العلم.

الفتاوی الھندیۃ: (407/3، ط: دار الفکر)

ولو أن رجلا قدم رجلا إلى القاضي وقال: إن أبا هذا قد مات ولي عليه ألف درهم دين فإنه ينبغي للقاضي أن يسأل المدعى عليه هل مات أبوه؟ ولا يأمره بجواب دعوى المدعي أولا فبعد ذلك المسألة على وجهين: إما أن أقر الابن فقال: نعم مات أبي، أو أنكر موت الأب فإن أقر وقال: نعم مات أبي؛ سأله القاضي عن دعوى الرجل على أبيه فإن أقر له بالدين على أبيه يستوفى الدين من نصيبه، ولو أنكر فأقام المدعي بينة على ذلك قبلت بينته وقضي بالدين ويستوفى الدين من جميع التركة لا من نصيب هذا الوارث خاصة.۔۔۔وإن لم تكن للمدعي بينة وأراد استحلاف هذا الوارث يستحلف على العلم عند علمائنا - رحمهم الله تعالى - بالله ما تعلم أن لهذا على أبيك هذا المال الذي ادعى وهو ألف درهم ولا شيء منه.فإن حلف انتهى الأمر وإن نكل يستوفى الدين من نصيبه.(الهندیة، کتاب ادب القاضی، الباب الخامس والعشرون فی اثبات الوکالة والوراثة وفی اثبات الدین.

وفی السنن الکبری للبیھقي:

عن ابن أبي ملیکۃ قال: کنت قاضیا لابن الزبیر علی الطائف، فذکر قصۃ المرأتین، قال: فکتبت إلی ابن  عباسؓ، فکتب ابن عباس رضی اﷲ عنہما إن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لو یعطی الناس بدعواہم لادعی رجال أموال قوم ودماء ہم، ولکن البینۃ علی المدعي، والیمین علی من أنکر۔ (السنن الکبری للبیهقي، کتاب الدعوی والبینات، باب البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ، مکتبہ دارالفکر بیروت ۱۵/ ۳۹۳، رقم: ۲۱۸۰۵)

وفی الشامیة :

وفی الحامدیۃ عن الولوالجیۃ: رجل تصرف زمانا فی أرض و رجل آخر یریٰ الأرض والتصرف ولم یدع ومات علی ذٰلک لم تسمع بعد ذٰلک دعویٰ ولدہ فتترک علی ید المتصرف الخ، ثم اعلم أنہ نقل العلامۃ ابن الغرس فی الفواکہ البدریۃ عن المبسوط: إذا ترک الدعویٰ ثلاثا و ثلاثین سنۃ ولم یکن مانع من الدعویٰ ثم ادعیٰ لاتسمع دعواہ لأن ترک الدعویٰ مع التمکن یدل علی عدم الحق ظاہرا ومثلہ فی البحر، وفی جامع الفتاویٰ: وقال المتأخرون من أہل الفتاویٰ: لا تسمع الدعویٰ بعد ست و ثلاثین سنۃ۔ (شامی، کتاب الخنثی، کراچی ۶/۷۴۲، زکریا ۱۰/۴۶۸)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

24صفرالمظفر1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب