| 81279 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
میرے بھائی عبدالصمد نے اپنی بیوی کوتین سال پہلے کسی غیر مرد سے بات کرتے ہوئے پکڑا تھا، جس کی وجہ سے کچھ عرصے کے بعد میرے بھائی نے بیوی کو طلاق دے دی تھی، اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ لڑکی کو جو جہیز ملا تھا(ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ یہ جہیز کے پیسے لڑکے والے لڑکی کے والدین کو دیتے ہیں کہ لڑکی کے لیے جہیز لے آوٴ)اور لڑکے کی طرف سےحق مہر اور حق مہر کے علاوہ تین سے چار گرام سونا دیا تھا (لڑکی والے کہہ رہے ہیں یہ سونا ہمارے ہاں سے گم ہو گیا ہے، جبکہ یہ کنفرم ہے کہ گم نہیں ہو ا ہے )یہ سب کچھ کس کا ہو گا لڑکی کا ہو گا یا لڑکے کا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لڑکےوالوں کی طرف سےجورقم دی جاتی ہے،شرعااورعرفا اس کو جہیز نہیں کہاجاتا(جہیز تواس سامان کو کہاجاتاہےجولڑکی والےاپنی بیٹی کوشادی کےوقت دیتےہیں) ۔
صورت مسئولہ میں چونکہ آپ کےعرف میں اس کو جہیز کہاجاتاہے(جبکہ حقیقت میں یہ جہیزنہیں ہوتا)،اس لیےاس کی ملکیت کی تفصیل میں بھی آپ کےعرف کودیکھاجائےگایعنی اگرجہیزکی یہ رقم اس لیےدی جاتی ہےکہ لڑکی والےسامان خریدکرلڑکی کی ملکیت میں دیدیں اورعرفابھی لڑکی کوہی اس کامالک سمجھاجاتاہوتوپھرمذکورہ صورت میں یہ لڑکےوالوں کی طرف سےہدیہ وتبرع کی صورت ہوگی،اس میں مطالبہ کاحق نہیں ہوگااورلڑکی ہی کی ملکیت شمارہوگی۔
اوراگر(جہیزکی رقم)مالک بناکرنہیں دی جاتی،بلکہ بطورعاریت دی جاتی ہوکہ بیوی کےوالدین اس رقم سےسامان وغیرہ خریدکربیوی کودیں،اوربیوی صرف شوہرکےگھرمیں رہتےہوئےاس سامان کواستعمال کرسکتی ہو،توایسی صورت میں جہیز کایہ سامان شوہرکاہی سمجھاجائےگا،عورت کوشرعااپنےساتھ لےجانے کااختیار نہیں ہوگا۔
حق مہرکےعلاوہ جوسوناوغیرہ دیاہے،اس میں بھی مذکورہ بالاتفصیل کےمطابق عرف کو ددیکھاجائےگا۔
لڑکےکی طرف سےجو حق مہر دیاگیاہے،چونکہ تین سال بعد طلاق دی ہےتووطی بھی ہوگئی ہے،اوروطی یا خلوت صحیحہ کےبعدبیوی مکمل مہر کی مستحق ہوجاتی ہے،لہذاموجودہ صورت میں بیوی کودیاگیامہراسی کاہوگا،اس کی واپسی کامطالبہ نہیں کیاجاسکتا۔
وضاحت:بعض علاقوں اوربعض خاندانوں میں لڑکےوالوں کی طرف سےبھاری بھرکم رقم لڑکی کےوالدین کو دی جاتی ہےجس کوعرف میں" ولور"کہاجاتاہے،اکثروبیشتریہ رقم بیوی کےوالدین خودہی استعمال کرتےہیں،بیوی کودی نہیں جاتی یا پھراس سےواپس لےلی جاتی ہے،شرعی طورپریہ درست نہیں،کتب فقہ میں اس کو رشوۃ کہاگیاہے،اس کالینادینا شرعاجائزنہیں ،ایسےرسم ورواج کوختم کرناچاہیے۔
البتہ اگراس رقم کومہرکاحصہ بنادیاجائےتوشرعااس کی گنجائش ہوگی(اگرچہ مہرمیں مہرمثل سےبہت زیادہ بڑھاکررقم رکھنامناسب نہیں لیکن گنجائش بہرحال ہے)اس صورت میں یہ مہرکی وجہ سےبیوی کی ذاتی ملکیت ہوگی،اورطلاق کےبعدشوہرواپس لینےکامطالبہ بھی نہیں کرسکےگا،اسی طرح اس صورت میں بیوی کےوالدین کےلیےبھی اس کواستعمال کرنےکی اجازت نہ ہوگی۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية"7 / 330:
(الفصل السادس عشر في جهاز البنت ) ولو أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده ؛ لأنه رشوة ، كذا في البحر الرائق،وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك ، كذا في الفصول العمادية ۔
"رد المحتار " 10 / 166:
( أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده ) لأنه رشوة ۔
الشرح:( قوله عند التسليم ) أي بأن أبى أن يسلمها أخوها أو نحوه حتى يأخذ شيئا ، وكذا لو أبى أن يزوجها فللزوج الاسترداد قائما أو هالكا لأنه رشوة بزازية ۔
"الدر المختار للحصفكي" 3 / 165:
(ولو بعث إلى امرأته شيئا ولم يذكر جهة عند الدفع غير) جهة (المهر) كقوله لشمع أو حناء ثم قال إنه من المهر لم يقبل قنية لوقوعه هدية فلا ينقلب مهرا (فقالت هو) أي المبعوث (هدية وقال هو من المهر) أو من الكسوة أو عارية (فالقول له) بيمينه والبينة لها، فإن حلف والمبعوث قائم فلها أن ترده وترجع بباقي المهرذكره ابن الكمال.ولو عوضته ثم ادعاه عارية فلها أن تسترد العوض من جنسه،زيلعي (في غير المهيأ للاكل) كثياب وشاة حية وسمن وعسل وما يبقى شهرا.(و) القول (لها) بيمينها (في المهيأ له) كخبز ولحم مشوي، لان الظاهر يكذبه، ولذا قال الفقيه: المختار أنه يصدق فيما لا يجب عليه كخف وملاءة، لا فيما يجب كخمار ودرع: يعني ما يم يدع أنه كسوة، لان الظاهر معه۔
"رد المحتار "10 / 154:
مطلب فيما يرسله إلى الزوجة ( قوله ولو بعث إلى امرأته شيئا ) أي من النقدين أو العروض أو مما يؤكل قبل الزفاف أو بعد ما بنى بها نهر ( قوله ولم يذكر إلخ ) المراد أنه لم يذكر المهر ولا غيره ۔
"رد المحتار "3 / 155:
وفيه عن المبتغى (جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها۔
(قوله ليس له الاسترداد منها) هذا إذا كان العرف مستمرا أن الأب يدفع مثله جهازا لا عارية"
"الفتاوى الهندية" 7 / 173:
ولو تزوج امرأة على أن يهب لأبيها ألف درهم فهذا الألف لا يكون مهرا ولا يجبر على أن يهب فلها مهر مثلها ، وإن سلم الألف فهو للواهب وله أن يرجع فيها إن شاء۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
21/صفر 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


