| 82235 | قصاص اور دیت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ا س مسئلہ کے بارے میں کہ جولائی 2022 کی رات کو اسکاوٹ کالونی، کراچی کے علاقے میں مجرم "ولی الرحمان " اپنی گاڑی میں آیا اوربغیر کسی وجہ کے جان بوجھ کر میرے بیٹے " طلحہ مختار " کے سر پر فائرنگ کی اور اسے شدید زخمی کر دیا ۔فائرنگ کے دوران " ولی الرحمان" کی گاڑی میں اس کا دوست "عبد الرب بمع اپنے والد" موجود تھا۔" عبد الرب " نے ہی " ولی الرحمان " کی رہنمائی کی تھی کہ طلحہ اس وقت اسکاوٹ کالونی کی فلاں جگہ پر موجود ہے۔" ولی الرحمان " کی فائرنگ سے طلحہ شدید زخمی ہوا اور لیاقت ہسپتال میں ایڈمٹ ہو گیا ۔12 دن تک ہسپتال میں ایڈمٹ رہنے کے بعد جب طلحہ کی طبیعت میں بہتری آنا شروع ہو ئی تو اسے ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا اور گھر پر ہی دیکھ بھال کا انتظام کیا گیا۔ چونکہ فائرنگ سے سر اور دماغ شدید متاثر ہوگئے تھے اس لیے اس دوران بھی طلحہ کے لیے بولنا ممکن نہیں تھا البتہ اشارے سے یا پھر لکھ کر وہ اپنے بات سمجھادیا کرتا تھا۔ چند دن بعد پھر سے طلحہ کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی اوراسے دوبارہ لیاقت ہسپتال میں ایڈمٹ کر دیا گیا اور اس دفعہ اسے 15 دن تک لیاقت ہسپتال میں ایڈمٹ رکھاگیا۔جب طلحہ دوسری بار لیاقت ہسپتال میں ایڈمٹ تھا تو اسی دوران "ولی الرحمان" کے خاندان کے ساتھ صلح کا معاملہ ہوا جس میں یہ طے پایا کہ اگر اس بیماری میں طلحہ کی موت واقع ہوتی ہے تو طلحہ کے والدعدالت میں "ولی الرحمان" کے حق میں صلح نامہ جمع کروائیں گے اور معافی کا اعلان کریں گے اور اگر عدالت طلحہ کے دیگر ورثا کو طلب کرتی ہے تو ان کی طرف سے بھی معافی کی یقین دہانی طلحہ کے والد پر ہو گی اور وہ کسی طرح کا مزید مطالبہ نہیں کریں گے اور "ولی الرحمان کا خاندان" اب تک آنے والا میڈیکل کا خرچہ برداشت کرے گاجو کہ 1800000 [اٹھارہ لاکھ ]تھااور اس کے ساتھ وہ مزید 1500000[پندرہ لاکھ] اس وقت ادا کرے گا جب طلحہ کے والد عدالت میں "ولی الرحمان" کے حق میں صلح نامہ جمع کرواد یں گے۔ [نوٹ: یہ صلح نامہ جس وقت ہوا تھا اس وقت طلحہ کی کیفیت کی وجہ سے میں انتہائی پریشانی کی حالت میں تھا ، مجھ سمیت میری ساری فیملی ڈسٹرب تھی،چنانچہ میں نے مزید کسی پریشانی اور تنازع سے بچنے کےلیے طلحہ کی والدہ کے نا چاہتے ہوئے بھی یہ صلح کر لی تھی تاکہ میں اپنا مکمل دھیان طلحہ کے علاج پر دے سکوں] ۔ بہرحال کچھ دنوں بعد طلحہ کی بیماری کے دوران ہی "ولی الرحمان" کا خاندان مجھے پولیس کے پاس لے گیا اور مجھ سے صلح کا اقرار لے کر مجھے وہ پندرہ لاکھ کی رقم حوالے کر دی اور مجھ سے ایک خالی کاغذ پر دستخط لے لیا۔
بہرحال یہ صلح ہوجانے کے بعد طلحہ مزید 4 ماہ تک فائرنگ کے ان زخموں کی وجہ سے زندگی اور موت کی کشمکش میں رہا اور اس دوران زیادہ تر اوقات لیاقت ، جناح اور میمن ہسپتال میں ایڈمٹ رہا اور پھر یکم جنوری 2023 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس دار فانی سے کوچ کر گیا ۔ انا للہ انا الیہ راجعون۔اس دوران طلحہ کے علاج میں تقریبا 60 لاکھ تک کا مزید خرچہ بھی آیا ۔
اب صورتحال یہ ہے کہ اس کیس کے حوالے سےسابقہ پیشی کے دوران عدالت میں جج صاحب نے مجرموں کو دیت کی ادائیگی کا حکم دیا جس پر ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب صلح ہو چکی ہے تو پھر دیت کی ادائیگی لازم نہیں ہوتی ان کی اس دلیل پر جج صاحب نے حکم دیا ہے کہ کسی مستند دارالافتاء سے اس تمام معاملے کی شرعی حیثیت سے متعلق فتوی لے کر آئیں جس میں درج ذیل باتوں کا شریعت کی روشنی میں جواب موجود ہو:
پہلاسوال یہ ہے کہ طلحہ کا قتل ،قتل عمد ہے یاشبہ عمد ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قصدوارادہ کے ساتھ سرمیں گولی مارناقتل عمدہے، جس کی سزایہ ہے کہ قاتل کوحکومت وقت قصاص کے طورپرقتل کرے،مقتول کے ورثہ قاتل کومعاف بھی کرسکتے ہیں اورمال پرصلح بھی کرسکتے ہیں،صورت مسؤلہ میں یہ قتل عمد ہے۔
حوالہ جات
فی العناية شرح الهداية (ج 15 / ص 114)
( القتل على خمسة أوجه : عمد ، وشبه عمد ، وخطأ ، وما أجري مجرى الخطأ ، والقتل بسبب ) والمراد بيان قتل تتعلق به الأحكام قال ( فالعمد ما تعمد ضربه بسلاح أو ما أجري مجرى السلاح كالمحدد من الخشب وليطة القصب والمروة المحددة والنار ) ؛ لأن العمد هو القصد ، ولا يوقف عليه إلا بدليله وهو استعمال الآلة القاتلة فكان متعمدا فيه عند ذلك۔
وفی العناية شرح الهداية (ج 15 / ص 116):
( وموجب ذلك المأثم ) لقوله تعالى { ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم } الآية ، وقد نطق به غير واحد من السنة ، وعليه انعقد إجماع الأمة قال ( والقود ) لقوله تعالى { كتب عليكم القصاص في القتلى } إلا أنه تقيد بوصف العمدية لقوله عليه الصلاة والسلام { العمد قود } أي موجبه ، ولأن الجناية بها تتكامل وحكمة الزجر عليها تتوفر ، والعقوبة المتناهية لا شرع لها دون ذلك قال ( إلا أن يعفو الأولياء أو يصالحوا )
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۵/جمادی الثانی ۱۴۴۵ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


