03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین بیٹوں اور دو بیٹیوں میں میراث تقسیم کرنے کا طریقہ
83654میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری والدہ فلک ناز کا انتقال 2020ء میں ہوا، ان کے ورثا میں تین بیٹے (محمد عاصم، محمد آصف، محمد فرقان) اور دو بیٹیاں (شہانہ طارق، عنبرین گل) شامل ہیں۔ ہمارے والد صاحب کا انتقال والدہ سے پہلے ہوگیا تھا۔ والدہ کے والدین، دادا، دادی اور نانی کا انتقال بھی ان کی زندگی میں ہوگیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ میری والدہ کی میراث کی تقسیم کیسے ہوگی اور کس کو کتنا حصہ ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کی والدہ مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ،نقد رقم، سونا چاندی، مالِ تجارت غرض ہر طرح کا چھوٹا بڑا جو بھی سازوسامان چھوڑا ہے یا اگر مرحومہ کا کسی شخص یا ادارے کے ذمے  کوئی قرض واجب تھا، وہ سب اس کا ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلے مرحومہ کی تجہیز و تکفین كےمتوسط اخراجات نکالے جائیں،اگر یہ اخراجات کسی نے احسان کے طور پر ادا کردئیے ہوں تو پھر یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے۔ پھر دیکھیں اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں اگر مرحومہ نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال میں سے ایک تہائی (3/1)مال کی حد تک اس پر عمل کریں۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کُل آٹھ (8) حصے کر کے تین بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو، دو (2، 2) حصے اور دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک، ایک (1، 1) حصہ دیدیں۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ } [النساء: 11]

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       18/ شوال المکرم/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب