03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اے ایس گروپ آف کمپنیز( AS GROUP OF COMPANIES)سےمتعلق جاری کردہ فتوی(82936) پر سوالات کےجوابات
83758مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

 آپ کے ارسال کردہ فتوی(82936)میں یہ کہا گیا ہے کہ کسی کمپنی کے ساتھ مضاربت کا عقد کرنے کے لیے مندرجہ ذیل باتوں کا پایا جانا ضروری ہے ۔

1. وہ کمپنی جو ایس ای سی پی کے ہاں رجسٹرڈ ہو جس کا سرٹیفیکیٹ اس کے پاس موجود ہو اور اس کو عوام سے پیسے لینے کی اجازت ہو۔

2.  کمپنی کا بنیادی کا روبار حلال ہو۔

3. جس پیمانے پر کمپنی لوگوں سے پیسے جمع کر رہی ہو اس کے اثاثے اورحقیقی کا روبار اتناہی ہو۔

4. کمپنی مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں چل رہی ہو۔

 الحمدللہ ہماری کمپنی ان تمام شرائط پر پورا اترتی ہے۔ آپ کے ارسال کردہ فتوی کے مطابق اے ایس گروپ آف کمپنیز کو سنگل ممبر کمپنی کاسرٹیفیکیٹ جاری کیا گیا ہے اور قانون کے مطابق وہ لوگوں سے فنڈ نہیں لے سکتا اور آپ نے 2003 کا ایکٹ شامل کیا ہے لیکن ایس ای سی پی کی پریس ریلیز 31 مارچ 2021 کے مطابق یہ واضح بیان کیا گیا ہے کہ پرائیویٹ کمپنی لوگوں سے فنڈ جمع کر سکتی ہے اور دوسری بات کہ کمپنی کے شیئر صرف ایک بندے کے نام پر رجسٹرڈ ہو۔ ایس ای سی پی کی ویب سائیٹ پر کہی بھی یہ نہیں لکھا گیا کہ پرائیوٹ کمپنیز لوگوں سے فنڈ ز وصول نہیں کر سکتی ۔

 ہم قانونی شرائط وضوابط پر پورے اتر رہے ہیں۔ میری آپ حضرات سے مودبانہ گزارش ہے کہ ایس ای سی پی کے جو کا غذات آپ کو واٹس ایپ پر بھجوائے گئے ہیں ان کا مطالعہ کر کے اپنے فتوی پر نظر ثانی فرمائیں۔

تنقیح : سائل کا ارسال پریس ریلیز ساتھ میں لف ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 بطور تمہید یہ  بات سمجھ لینی چاہیےکہ    سنگل ممبر کمپنی وہ پرائیوٹ کمپنی ہےجس کا بیک وقت ایک ہی مالک ہوتا ہے، ایک سے زیادہ  مالکان نہیں ہو سکتے ہیں۔  ایس ای سی پی کے ڈاکومنٹس میں پرائیوٹ کمپنی  کا لفظ جب مطلقا استعمال ہو تو اس سے  سنگل ممبر کمپنی کے علاوہ   پرائیوٹ کمپنیز مراد ہوتی ہیں ،جیسا کہ کپمنیز ایکٹ ۲۰۰۳ اور ۲۰۱۷  میں سنگل ممبر کمپنی کی تعریف یوں کی ہے  کہ وہ پرائیوٹ کمپنی جس کا بیک وقت ایک ہی مالک ہو، سنگل ممبر کمپنی کہلاتی ہے۔   مطلقا پرائیوٹ کمپنی کی تعریف یو ں کی ہےکہ وہ پرائیوٹ کمپنی  جو سنگل ممبر کمپنی نہ ہو، پرائیوٹ کمپنی  کہلاتی ہے۔چنانچہ دونوں ایکٹ میں  یہ بات لکھی ہوئی ہےکہ سنگل ممبر کمپنی کے مالکان ایک سے زیادہ ہوجائے تو  قانونی کاروائی کرتے ہوئے اس کے اسٹیٹس کو پرائیوٹ کمپنی میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس طر ح اگر پرائیوٹ کمپنی کے مالکان  دو سے کم ہوکر صرف ایک رہ جائے تو قانونی کاروائی کرتے ہوئے اس کو سنگل ممبر کمپنی کے  طور پر رجسٹرڈ کیا جائےگا۔

پریس ریلیز میں پرائیوٹ کمپنی کا لفظ مطلقا استعمال ہوا ہے، اس لیے اس سے مراد سنگل ممبر کمپنی کے  علاوہ پرائیوٹ کمپنیز ہیں ۔لہذا اس سے آپ کا سنگل ممبر کمپنی کےلیےعوام سے پیسے جمع کرنےپر استدلال کرنا ٹھیک نہیں۔باقی پریس ریلیز  کا مقصد  کمپنیز ایکٹ ۲۰۱۷ کے  سیکشن ۸۳  کی وضاحت ہے کہ اس  پریس ریلیز  کی روشنی میں پرائیوٹ اور پبلک کمپنیاں    منظور شدہ رقم سے زیادہ پیسے وصول کرنےکےلیے کیش اور ایسٹ دونوں کےبدلےشئیر جاری کرکے اپنا کیپیٹل بڑھا سکتی ہے اور موجودہ ممبران کےعلاوہ نئے ممبر ان سے بھی    سرمایہ کاری وصول کرسکتی ہے، جو کہ کمپنیز ایکٹ ۲۰۱۷ میں ممنوع تھا  ۔ گویا کہ جن کمپنیوں  کو جس حد تک پیسے لینےکی اجازت حاصل تھی ان کےلیےآسانیاں پیدا کرنا مقصد ہے، اس کے برعکس اس کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ جن   کمپنیز کو  عوام سے پیسہ لینے کی اجازت نہیں تھی  ان کو اب اس کی اجازت  ہے جیسا کہ آپ نےسمجھا ہوا ہے۔

 سنگل ممبر کمپنیز رولز ۲۰۰۳ اور کمپنیز ایکٹ ۲۰۱۷   ایس ای سی پی کے ویب سائٹ پر موجود ہیں جس کےمطابق سنگل ممبر کمپنی کو عوام سے فنڈ لینے کی اجازت نہیں ۔ اس لیےیہ کہنا ٹھیک نہیں ہےکہ ایس ای سی پی کے ویب سائٹ پر کہیں یہ نہیں لکھا ہوا ہےکہ سنگل ممبر کمپنی کو عوام سے پیسے لینے کی اجازت نہیں۔

حوالہ جات

Single Member Companies Rules 2003:

private company” means a private company which is not a    single member company.

 “single member company” or “SMC” means a private company which has only one member.

Companies Act 2017:

(49) “private company” means a company which, by its articles-

(a) restricts the right to transfer its shares;

(b) limits the number of its members to fifty not including persons who are in the employment of the company; and

(c) prohibits any invitation to the public to subscribe for the shares, if any, or debentures or redeemable capital of the company:

(65) “single member company” means a company which has only one

member;

Single Member Companies Rules 2003:

Change in status of a single member company.- (1) A single member company may be converted into a private company on increase of the number of its members to more than one due to transfer of shares or further allotment of shares or death of the single member or operation of law and a single member company converting into a private company,-

Companies Act 2017:

83. Further issue of capital.—(1) Where the directors decide to increase share capital of the company by issue of further share capital, such shares shall be offered:

(a) to persons who, at the date of the offer, are members of the company in proportion to the existing shares held by sending a letter of offer subject to the following conditions,

نعمت اللہ

 دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

05/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب