03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خاتون کی عدت اور اس کے بچے کا نان ونفقہ شوہر کے ذمہ واجب ہو گا
83628طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیا میری بہن کی عدت کا خرچہ اور بچے کا خرچ شوہر کے ذمہ واجب ہو گا؟ نیز اس نے ابھی تک بہن کا حق مہر بھی ادا نہیں کیا، کیا وہ بھی ہم وصول کر سکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مطلقہ عورت کی عدت کا نان ونفقہ شوہر کے ذمہ واجب ہے، اسی طرح بچے کا نان ونفقہ، علاج معالجہ اور دیگر تمام اخراجات بھی اس کے والد کے ذمہ واجب ہیں، جس کے لیے دونوں فریق باہمی رضامندی سے رقم کی ایک مناسب مقدار مقرر کر سکتے ہیں اور اگر بالفرض فریقین کا کسی رقم پر اتفاق نہ ہوتو عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے، پھر عدالت اپنے حساب سے شوہر کے ذمہ عورت اور اس کے بچے کے اخراجات کے لیے ماہانہ ایک متعین رقم کی ادائیگی واجب کر دے گی۔

جہاں تک مہر کا تعلق ہے تو وہ بھی عورت کا حق ہے اور اصولی طور پر علیحدگی ہو جانے کے فورا بعد اس کی ادائیگی شوہر کے ذمہ لازم ہو جاتی ہے، لہذا شوہر کے ذمہ لازم ہے کہ وہ فوری طور پر آپ کی بہن کا مکمل حق مہر ادا کرے، اگر وہ ادا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے تو اس کے لیے بھی عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

  المبسوط للسرخسي (5/ 27) دار المعرفة – بيروت:

ومتى فرق القاضي بينهما بعد الدخول؛ لعدم الكفاءة حتى وجبت عليها العدة فلها نفقة العدة على الزوج؛ لأنها كانت تستحق النفقة في أصل النكاح فيبقى ذلك ببقاء العدة.

     المبسوط للسرخسي (5/ 201) دار المعرفة – بيروت:

أن وجوب نفقة العدة باعتبار ملك اليد الثابت للزوج عليها في حالة العدة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

13/شوال 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب