| 83750 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
اگر میری بیوی عدالت جاتی ہے، اور وہ عدالت میں درج ذیل تمام الزامات کو عدالت میں ثابت کرتی ہے (اس کے ہر الزام کے لیے میرے جوابی دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے) اور عدالت اسے خلع بھی دے دیتی ہے، تو کیا یہ خلع شرعی طور پر جائز ہوگی؟ کیا شرعی طور پر نکاح ختم ہو جائے گا؟بشرطیکہ میں عدالتی خلع کی دستاویز پر دستخط نہ کروں۔
الزامات( بالاختصار):
میری بیوی کا دعویٰ ہے کہ مجھے قوام کے کردار کے بارے میں غلط فہمی ہے، یہ دعویٰ کرتی ہے کہ قومیت کے بارے میں میری سمجھ غلط ہے۔میری بیوی کا دعویٰ ہے کہ میں نے اسے متعدد مواقع پر بتایا ہے کہ عورت کو اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔میری بیوی کا دعویٰ ہے کہ مجھے بہت جلدی غصہ آتا ہے۔ میری بیوی کا دعویٰ ہے کہ میں نے اپنی شادی کے دوران اس کو دو بار گالی دی ۔میری بیوی کا دعویٰ ہے کہ میں نے اسے کہا تھا کہ میں اسے تھپڑ ماروں گا۔میری بیوی کا دعویٰ ہے کہ اس کی وجہ سے وہ مجھ سے جسمانی طور پر خطرہ محسوس کرتی ہے اور مجھ پر بھروسہ نہیں کرتی۔میری بیوی نے دعویٰ کیا کہ میں نے اس کی ماں کے بارے میں توہین آمیز تبصرہ کیا۔میری بیوی نے دعویٰ کیا کہ میں نے اس کی بہن کے بارے میں بے عزتی کی ہے۔ میری بیوی کا دعویٰ ہے کہ میں بہت شاکی ہوں اور میں نے اس کے واٹس ایپ پیغامات دو بار پڑھے ہیں۔میری بیوی کا دعویٰ ہے کہ میں نے اس کے اور اس کے خاندان کے ساتھ ہونے والی کچھ گفتگو کو ریکارڈ کیا ہے۔
میری بیوی کی موجودہ ذہنی حالت بھی بہت قابل اعتراض ہے، اور یہاں تک کہ اس کی والدہ نے بھی (متعدد مواقع پر) اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ انتہائی الجھن ، پریشانی، غیر یقینی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بہت چھوٹے معاملات کو بڑا بنا رہی ہے ، وہ 4 ماہ کی حاملہ بھی ہے، میں نہیں مانتا کہ ایسی ذہنی حالت میں اتنا بڑا فیصلہ کرنا مناسب ہے کیونکہ یہ فیصلہ میرے دونوں بچوں کی زندگیوں پر منفی اثر ڈالے گا۔ یہ اس کے ذریعہ ایک انتہائی پچھتاوا والافیصلہ بھی ہوسکتا ہے،اس کی موجودہ غیر مستحکم ذہنی حالت کو اس حقیقت سے منسوب کیا جا سکتا ہے کہ وہ حاملہ ہے، اس وقت ہمارے 11 ماہ کے بیٹے کو دودھ پلا رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی اس نے خود پر غیر ضروری دباؤ ڈالا ہے کہ وہ جلد از جلد نکاح سے متعلق فیصلہ کرے۔ذاتی طور پر میں نے بھی ایسا ہی تجربہ کیا ہے، خاص طور پر جب میں اس کے ساتھ پاکستان میں رہ رہا تھا، اس نے کئی مرتبہ ذہنی طور پر غیر مستحکم رویوں کی نمائش کی،میں نے میرے اور میری بیوی کے درمیان معاملات کو سلجھانے کی کئی کوششیں کی، تاہم میری بیوی کی طرف سے ان کوششوں کو نظر انداز کیا گیا۔میں نے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے کا خطرہ مول لیا اور اپنی ملازمت کے مصروف ترین دور میں ایک ماہ کے لیے چھٹیاں لے کر ہمارے درمیان معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے پاکستان آیا۔ یہاں تک کہ یہ چھٹی لینے کی وجہ سے میں کینیڈا میں اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھا۔اگرچہ میری بیوی کو معلوم تھا کہ میں نے اپنے اور ہمارے درمیان معاملات کو حل کرنے کے لیے پاکستان آنے کے لیے اپنی ملازمت کو خطرے میں ڈالا تھا، وہ صرف ایک ہفتے کے لیے میرے ساتھ رہنے کے لیے گھر واپس آئی۔ ایک ہفتے کے بعد، وہ بقیہ 3 ہفتوں کے لیے واپس ماں کے پاس گئی اور مجھے بتایا کہ وہ اب میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔اس وقت کے دوران اس نے اس شادی میں اپنی غلطیوں اور اپنی بہن اور ماں کی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔اس کے علاوہ اس کے رویے، اس کے اعمال اور اس کے بیانات کی بنیاد پر وہ یہ نہیں مانتی کہ طلاق بہت بڑا معاملہ ہے۔ مثلاً میری بیوی نے کہا کہ صحابہ کے زمانے میں طلاق ہوا کرتی تھی اور تابعین اچھے مسلمان نکلے تو ان شاء اللہ ہمارے بچے بھی اچھے مسلمان نکلیں گے۔میں نے اپنی بیوی کو بھی مشورہ دیا کہ ہمارے لیے شادی کی کونسلنگ میں جانا اچھا رہے گا، لیکن میری بیوی نے اس سے اتفاق نہیں کیا، یہ دعویٰ کیا کہ شادی کی کونسلنگ سے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔مفاہمت کی مزید تفصیلی مثالیں درخواست پر فراہم کی جا سکتی ہیں۔
(تفصیلی سوال ساتھ منسلک ہے)۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ عدالتوں میں شوہر یا اس کے وکیل کی غیر موجودگی میں جو یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری دی جاتی ہے ،وہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہے اور اس کی وجہ سے زوجین کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا ،اس لیے کہ جمہور فقہاء کرام رحمہم اللہ کے نزدیک خلع کے شرعاً درست ہونے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے،دونوں میں سے کسی ایک کی رضا مندی کے بغیر شرعاً خلع درست نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی عدالت یا جج کو شرعاً یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ زوجین میں سے کسی کی رضامندی کے بغیر خلع کا فیصلہ دے۔البتہ چند اسباب ایسے ہیں جیسے شوہر کا نامرد ہونا یا مجنون ہونا یا باوجود وسعت کے نان نفقہ نہ دینا یا شوہر کا ایسا گم ہوجانا کہ اس کی زندگی اور موت کا علم نہ ہوسکے یا شوہر کا بے جاظلم وستم اور مارپیٹ کرتے رہنا کہ اس کے ساتھ رہنا انتہائی مشکل ہوجائے وغیرہ جن کے ثابت ہونے کے بعد شرعاً عدالت یا جج کو بھی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کی رضا مندی کے بغیر اس کی غیر موجودگی میں اس کے قائم مقام ہوکر میاں بیوی کے درمیان تفریق کردے ،جسے فسخ نکاح کہا جاتا ہے،بشرطیکہ مذکورہ اسباب شرعی طور پر ثابت ہوجائیں،جس کا طریقہ یہ ہے کہ عورت ان وجوہات کی بنیاد پر عدالت میں فسخ نکاح کا دعوی دائر کرے اور اپنے دعوی کو شرعی گواہوں یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے ذریعے عدالت میں ثابت کردے یا گواہ نہ ہونے کی صورت میں مدعی علیہ یعنی شوہر قسم کھانے سے انکار کردے تو اس صورت میں عدالت ،مذکورہ وجوہات کی بنیاد پر فسخ نکاح کی ڈگری جاری کرسکتی ہے،اگرچہ شوہر اس پر راضی نہ ہو یا عدالت میں موجود نہ ہو۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگر خلع کی درخواست پر عدالت یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کردے لیکن اس میں فسخ نکاح کے اسباب میں سے کوئی سبب پایا جاتا ہو تو اگرچہ و ہ فیصلہ خلع کے طریقے سے معتبر نہیں ہوگا لیکن فسخ نکاح کی شرائط پائے جانے کی صورت میں وہ فیصلہ فسخ کے طریقے سے درست سمجھا جائے گا ۔
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال میں چونکہ ایسا کوئی الزام بیوی کی طرف سے واضح نہیں ہےجس کی بنیاد پرآپ کی رضا مندی کے بغیرعدالت کی طرف سےدی جانے والی خلع معتبر ہوسکے،لہٰذا اگر مذکورہ سوال کے مطابق آپ کی بیوی عدالت سے خلع لیتی ہے تو وہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165)
وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.
حاشية ابن عابدين (3/ 498)
قوله ( وإلا بانت بالتفريق ) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة ,بحر , قوله ( من القاضي إن أبى طلاقها ) أي إن أبى الزوج لأنه وجب عليه التسريح بالإحسان حين عجز عن الإمساك بالمعروف فإذا امتنع كان ظالما فناب عنه وأضيف فعله إليه.
المبسوط للسرخسي (6/ 173)
(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440):
في التتارخانية وغيرها: مطلق لفظ الخلع محمول على الطلاق بعوض؛ حتى لو قال لغيره اخلع امرأتي فخلعها بلا عوض لا يصح (قوله: أو اختلعي إلخ) إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده.
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (3/ 90):
المسألة الثالثة: وأما ما يرجع إلى الحال التي يجوز فيها الخلع من التي لا يجوز: فإن الجمهور على أن الخلع جائز مع التراضي إذا لم يكن سبب رضاها بما تعطيه إضراره بها.
والأصل في ذلك قوله تعالى: {ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [النساء: 19] وقوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]۔
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۰۵.ذو القعدہ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


