03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ میں موجود گھر پر کیس کے اخراجات گھر کی قیمت سے لینا
81598میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال اس تمام عرصہ میں میں نے اپنے بھائی پر قانونی طور پر کیس کیا،اس پر میرا خرچہ ہوا،وہ کیس میں جیت گیا ہوں،لیکن اس کے حساب سے وہ جائیداد میرے بھائی کی ہے اور ان کی نرینہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے وہ تقسیم کا معاملہ بنتا ہے،مگر شرعی حکم کے مطابق تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔

کیا میں اس کیس پر خرچ ہونے والی رقم اس جائیداد کی قیمت میں سے الگ سے وصول کرسکتا ہوں؟

تنقیح:کیس کا اقدام سائل نے خود کیا تھا،بقیہ ورثا کے ساتھ مشاورت اور انہیں اعتماد میں نہیں لیا تھا،البتہ بقیہ ورثا کو اس کے حوالے سے علم ضرور تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ آپ نےیہ کیس خود اپنی ذاتی صوابدید پر دائر کیا تھا،بقیہ ورثا سے مشاورت کرکے انہیں اس حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا تھا کہ اس پر آنے والے اخراجات تمام ورثا برداشت کریں گے،اس لئے اس کیس پر آنے والے اخراجات کا آپ کو جائیداد کی قیمت سے وصول کرنے کا حق نہیں ہے،الا یہ کہ تمام ورثا باہمی رضامندی سے آپ کو لینے کا اختیار دیں،بشرطیکہ تمام ورثا عاقل،بالغ ہوں۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (6/ 284):

"أنفق بلا إذن الآخر ولا أمر قاض، فهو متبرع كمرمة دار مشتركة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

12/ربیع الثانی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب