| 83649 | نان نفقہ کے مسائل | والدین،اوراولاد کے نفقہ اور سکنی کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے دو بچے ہیں،اورمیرے شوہر نے مجھے تین طلاق دی ہے، پہلے تومیرا شوہر ان کا خرچہ نہیں دیتا تھا مگراب تین چارمہینوں سے بچوں کے لیے پانچ ہزارماہواربھیج رہاہے،جناب مجھے پوچھنایہ ہےکہ۔طلاق کے بعدمیرے بچوں کا خرچہ کس پرہے؟ مجھے خرچے کے حوالے سے فتوی دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے دونوں بچوں کا خرچہ بالغ ہونے تک آپ کےشوہرپرہے،جہاں تک حق پرورش کی بات ہے توچونکہ آپ کے دونوں بچوں کی عمر منسلکہ برتھ سرٹیفکیٹ کی روسے سات سال سے زیادہ ہوچکی ہے،لہذا آپ کا حقِ پرورش ختم ہوگیا ہے،اب ان کی پرورش کا حق والد کوحاصل ہے،لہذاوہ اپنے دونوں بچوں کی لیکرخود پرورش کرےاوران کے نان ونفقہ کا انتظام کرے، البتہ اگروہ اپنی مرضی سے بچوں کو آپ کے پاس چھوڑدے اوران کا خرچہ دیتارہے تو یہ بھی شرعاًممنوع نہیں ہے۔
حوالہ جات
وفي الهداية (٢/٤٣٨):
وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد...... والنفقة على الأب.....والأم والجدة أحق بالغلام حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده ويستنجي وحده وفي الجامع الصغيرحتى يستغني......والخصاف رحمه الله قدر الاستغناء بسبع سنين اعتبارا للغالب والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض.
وفي تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (3/ 48):
(والأم والجدة أحق به) أي بالغلام (حتى يستغني ، وقدر بسبع سنين) وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده ، وفي الجامع الصغير حتى يستغني والمعنى واحد ، وقدره الخصاف بسبع سنين اعتبارا للغالب ، وهو قريب من الأول بل عينه لأنه إذا بلغ سبع سنين يستنجي وحده ألا ترى إلى ما يروى عنه - عليه الصلاة والسلام - أنه قال «مروا صبيانكم بالصلاة إذا بلغوا سبع سنين» والأمر بالصلاة لا يكون إلا بعد القدرة على الطهارة .
وفی العالمگیریة(1/ 560):
نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
١٦/١۰/۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


