| 84021 | پاکی کے مسائل | جنابت کے احکام |
سوال
اگرکوئی قرآن پاک کی آیات اسٹیٹس پر لگائے، اور دیکھنے والے کو پتا نہ ہو اور وہ بغیر وضو یا حالتِ جنابت میں سکرین کو سکرول کرتے ہوئےہاتھ لگائے تو کون گناہ گار ہو گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
موبائل میں قرآنی آیات کو ہاتھ لگانے میں اسکرین کا شیشہ حائل ہوتا ہے،نیزموبائل میں جوعکسِ تحریر اور نقوش ہمیں نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہ حروف و نقوش شعاعیں اور برقی لہریں ہوتی ہیں، جو صرف ہمیں نظر آتی ہیں لیکن ان کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔ لہٰذا موبائل اور واٹس ایپ اسٹیٹس پر قرآن پاک کی آیات کا عکس لکھی ہوئی آیاتِ مبارکہ کے حکم میں نہیں ہے، اس لیے وضوکے بغیر یا حالتِ جنابت میں جب پتا نہ ہو اور ہاتھ لگ جائے تو اس میں گناہ نہیں، مگر قرآنِ پاک کی تعظیم اور ادب کی وجہ سے ایسی حالت میں ہاتھ لگانے سےاحتیاط کرنی چاہیے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم(الحدید:79):
لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ .
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 33):
وكذا المحدث لا يمس المصحف إلا بغلافه لقوله عليه الصلاة والسلام " لا يمس القرآن إلا طاهر ".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 173):
(و) يحرم (به) أي بالأكبر (وبالأصغر) مس مصحف: أي ما فيه آية كدرهم وجدار... (إلا بغلاف متجاف) غير مشرز أو بصرة به يفتى، وحل قلبه بعود. .. قال ح: لكن لا يحرم في غير المصحف إلا بالمكتوب: أي موضع الكتابة كذا في باب الحيض من البحر، وقيد بالآية؛ لأنه لو كتب ما دونها لا يكره مسه كما في حيض القهستاني. وينبغي أن يجري هنا ما جرى في قراءة ما دون آية من الخلاف، والتفصيل المار هناك بالأولى؛ لأن المس يحرم بالحدث ولو أصغر، بخلاف القراءة فكانت دونه تأمل.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2 /ذوالحجہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


