03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دانتوں پر خول ہونے کی صورت میں وضو اور غسل کا حکم
71634پاکی کے مسائلوضوء کی سنتیں،آداب اور مکروہات

سوال

 کسی شخص کا دانت ٹوٹ جائے اور وہ اس پر کور لگوا لے جو اس ٹوٹے ہوے دانت کے اوپر چڑھ جائے. اس صورت میں اس شخص کے وضو اور غسل کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دانت پر چڑھے خول کو اگر بلا مشقت نکالا جا سکتا ہے یعنی اس طرح فکس نہ ہو کہ اسے نکالنے کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت پڑے ،تو غسل کے لیے  نکالنا ضروری ہو گا، بغیر نکالے وضو تو ہوجائے گا،لیکن فرض غسل درست نہ ہوگا۔اگرفکس ہو جائےاور اس کو غسل کے وقت اتارنامشکل ہو یا اس کے اتارنے سے اس کے لگانے کاجو مقصود ہے وہ فوت ہو جاتا ہو تو اسے اتارنا ضروری نہیں ہے ،اس کی موجودگی میں بھی وضو اور غسل درست جائےگا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية – (1 / 13):

ولو كان سنة مجوفا فبقي فيه أو بين أسنانه طعام أو درن رطب في انفه ثم غسله على الأصح كذا في الزاهدي والاحتياط أن يخرج الطعام عن تجويفه ويجرى الماء عليه هكذا في فتح القدير والدرن اليابس في الأنف يمنع تمام الغسل كذا في الزاهدي والعجين في الظفر يمنع تمام الاغتسال والوسخ والدرن لا يمنع والقروي والمدني سواء والتراب والطين في الظفر لا يمنع والصرام والصباغ ما في ظفرهما يمنع تمام الاغتسال وقيل كل ذلك يجزيهم للحرج والضرورة ومواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع كذا في الظهيرية۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

27/جمادی الثانیہ1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب