| 84024 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیا اپنی بیٹی کو نکاح کے بغیر تعلیم کی غرض سے دوسرے شہر یا دوسرے ملک میں بھیج دینا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصولی طور پر شرعی احکام کی پابندی کرتے ہوئے فی نفسہ خاتون (شادی شدہ ہویا غیر شادی شدہ )کے لیے دنیوی تعلیم کا حصول جائز ہے اور اپنے محرم کے ساتھ دوسرے شہریا ملک کا سفر کرنے کی بھی اجازت ہے، البتہ بغیر محرم کے تنہا دوسرے شہریا ملک کا سفر کرنے کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر دوسرا شہر شرعی سفر کی مسافت پر واقع ہو تو ایسی صورت میں عورت (خواہ شادی شدہ ہی ہو) کو تنہا سفر کرنے سے حدیث پاک میں سختی سے منع کیا گیا ہے، یہاں تک کہ ایک حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض حج کے لیے بھی عورت کو تنہا سفر کرنے کی اجازت نہیں دی۔اوراگر دوسراشہر شرعی سفر سے کم مسافت پر واقع ہو تو ایسی صورت میں پردہ وغیرہ کا اہتمام کرتے ہوئے دنیوی تعلیم کے لیے دوسرے شہرتنہا جانے کی شرعا گنجائش ہے، بشرطیکہ کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو، اگرکسی فتنہ کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں بھی تنہا دوسرے شہر جانا ناجائز ہو گا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر جوان بیٹی کے تنہا دوسرے شہر کا سفر کرنے میں فتنہ کا اندیشہ ہو تو اس کو دنیوی تعلیم کے لیے دوسرے شہر تنہا بھیجنا جائز نہیں، اگرچہ دوسرا شہر شرعی سفر سے کم مسافت پر واقع ہو۔ اور اگر شرعی سفر کی مسافت پر واقع ہو تو ایسی صورت میں لڑکی کوتنہا دوسرے شہربھیجنے کے حکم میں مزید شدت آجائے گی، کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ عورت کو فرض حج کے لیے سفر کرنے کی اجازت نہیں دی، بلکہ سختی سے منع فرمایا، تو غیرشادی شدہ جوان بیٹی کو بغیر محرم کے دنیوی تعلیم کے لیے شرعی سفر کی مسافت پر واقع دوسرے شہر یا دوسرے ملک بھیجنا بدرجہ اولیٰ جائز نہیں ہو گا، کیونکہ اس میں فتنہ میں مبتلا ہونے کی قوی اندیشہ ہوتاہے، جس سے بچنا ضروری ہے اس لیے والدین کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ بچی کے جوان ہونے کے بعد مناسب رشتہ ملتے ہی بچی کی شادی کر دیں اور پھر وہ اپنے شوہر کے ساتھ حصول تعلیم کے لیے دوسرے شہر یا ملک کا سفر کرنا چاہے تو بلا کراہت کر سکتی ہے۔
حوالہ جات
صحيح ابن خزيمة ط 3 (2/ 1205،رقم الحديث: 2521) المكتب الإسلامي، بيروت:
حدثنا بندار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبيد الله بن عمر، أخبرني نافع، عن ابن عمر: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - نهى أن تسافر المرأة ثلاثا إلا ومعها ذو محرم.
سنن الدارقطني (3/ 227،رقم الحديث: 2440) مؤسسة الرسالة، بيروت:
نا أحمد بن محمد بن أبي الرجال , نا أبو حميد , قال: سمعت حجاجا , يقول: قال ابن جريج , عن عمرو بن دينار , عن أبي معبد مولى ابن عباس أو عكرمة , عن ابن عباس , أنه قال: جاء رجل إلى المدينة , فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «أين نزلت؟» , قال: على فلانة , قال: «أغلقت عليك بابها لا تحجن امرأة إلا ومعها ذو محرم»
سنن الترمذي (1/ 320،رقم الحديث: 171) مكتبة ومطبعة مصطفى الحلبي – مصر:
حدثنا قتيبة، قال: حدثنا عبد الله بن وهب، عن سعيد بن عبد الله الجهني، عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: " يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا "
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
یکم ذوالحجہ 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


