| 84025 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیا دوران تعلیم اپنی جانی و مالی ضرورت کے تحت ہم سے جو گناہ ہوگا ، اس کے ذمہ دار ہم ہوں گے یا ہمارے والدین کے کھاتے میں وہ گناہ جائیں گے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لڑکا ہو یا لڑکی بالغ ہونے کے بعد وہ تمام احکام شرع کا مکلف ہوتی ہے اور قیامت کے دن اسی سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر اعلان فرمایا ہے:
{ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164]
ترجمہ: اور جو شخص کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اسی کے ذمہ پر ہے اور ایک شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (ترجمہ از تفسیر عثمانی)
اس لیے مذکورہ صورت میں گناہ میں مبتلا ہونے والے لڑکے اور لڑکیاں اپنے اس گناہ کی خود ذمہ دار ہوں گی اور اس گناہ کا اللہ تعالیٰ کے سامنے از خود جواب دینا ہو گا۔
جہاں تک والدین کو گناہ ملنے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں اصول یہ ہے کہ جو شخص کسی گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب بنے تو اس کو اس کا گناہ ملے گا، لہذا اولاد کے جوان ہونے کے بعد اگر والدین بلاعذرِ شرعی رشتہ تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں یا کوئی مناسب رشتہ مل جانے کے باوجود بغیر کسی شرعی وجہ کے نکاح میں تاخیر کریں اور اس تاخیر کی وجہ سے اولاد گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اس کا گناہ والدین کو بھی ہو گا، چنانچہ علامہ بیہقی رحمہ اللہ نے شعب الایمان میں ایک حدیث ذکر فرمائی ہے، جس کا ترجمہ درج ذیل ہے:
ترجمہ:حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ہاں بچہ پیدا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے، اسے ادب سکھائے اور جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کر دے، اگر وہ بالغ ہو جائے اور وہ (والد) اس کی شادی نہ کرے اور وہ کسی گناہ (زنا وغیرہ) کا ارتکاب کر لے تو اس کا گناہ اس کے والد پر ہے۔
اس حدیث کی شرح میں ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات المفاتیح میں لکھا ہے کہ والد کو نکاح کے معاملے میں اس کی کوتاہی کی وجہ سے یہ گناہ ملے گا۔
اسی طرح شعب الایمان کی ایک اور حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادنقل فرماتے ہیں، جس کا ترجمہ یہ ہے:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تورات میں درج ہے کہ جس کی بیٹی بارہ سال کی ہوجائے اور وہ اس کا نکاح نہ کرے، پھر لڑکی سے کوئی گناہ ہوجائے تو باپ بھی گناہ گار ہوگا۔"
اس حدیث کی شرح میں علامہ مناوی رحمہ اللہ نے فیض القدیر میں لکھا ہے کہ بچی کے بالغ ہونے کے بعد باپ نے اس کی شادی میں تاخیر کی، جس کی وجہ سے وہ گناہ میں مبتلا ہوئی، اس لیے باپ اس گناہ کا سبب بننے کی وجہ سے گناہ گار ہو گا۔
حوالہ جات
شعب الإيمان (11/ 137،رقم الحدیث: 8299) مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض:
أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان، أنا أحمد بن عبيد، نا إسحاق بن الحسن الحربي، نا مسلم بن إبراهيم، نا شداد بن سعيد عن الجريري، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد، وابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه، فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما، فإنما إثمه على أبيه "
شعب الإيمان (11/139، باب في حقوق الأولاد والأهلين) مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض:
" حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي، أخبرنا أحمد بن محمد بن عبدوس، حدثنا عثمان بن سعيد، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا بشر بن بكر، حدثنا أبو بكر بن أبي مريم الغساني، عن أبي المجاشع الأزدي، عن عمر بن الخطاب، عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "مكتوب في التوراة: من بلغت له ابنة اثنتي عشرة سنة فلم يزوجها فركبت إثما، فإثم ذلك عليه".
سنن الترمذی ( أبواب الصلاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل، 1 / 213،ط: دار الغرب الإسلامي – بيروت:
حدثنا قتيبة ، قال: حدثنا عبد الله بن وهب ، عن سعيد بن عبد الله الجهني ، عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب ، عن أبيه ، عن علي بن أبي طالب أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: «يا علي،» ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفؤا".
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2064) باب الولى فى النكاح واستئذان المرأة، ط: دار الفكر، بيروت:
"(فإنما إثمه على أبيه) أي: جزاء الإثم عليه لتقصيره وهو محمول على الزجر والتهديد للمبالغة والتأكيد، قال الطيبي - رحمه الله -: أي جزاء الإثم عليه حقيقية ودل هنا الحصر على أن لا إثم على الولد مبالغة لأنه لم يتسبب لما يتفادى ولده من أصابه الإثم."
فيض القدير بشرح الجامع الصغير (6/ 3، رقم الحديث: 8199) المكتبة التجارية، مصر:
" (مكتوب في التوراة من بلغت له ابنة اثنتي عشرة سنة فلم يزوجها فأصابت إثما) يعني زنت فإثم ذلك عليه لأنه السبب فيه بتأخير تزويجها المؤدي إلى فسادها. وذكر الاثنتي عشرة سنة لأنها مظنة البلوغ المثير للشهوة."
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
یکم ذوالحجہ 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


