03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لیکچرار کی سیٹ کے حصول کے لئے رشوت کا حکم
82354جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ علماء فرماتے ہیں کہ اپنا حق پیسوں کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ میں نے لیکچرار اسلامیات کے لئے اپلائی کیا ہوا ہے،میٹرک میں میرے 610 نمبرات ،ایف اےمیں 838 اور بی اے جاری ہے،جبکہ عامہ میں 483،خاصہ میں 448،عالیہ میں 520،عالمیہ سال اول میں 529 اور عالمیہ سال دوم میں 438 نمبرات ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سیٹیں پہلے سے بِک گئیں ہوتی ہیں تو سوال یہ ہے کہ مندرجہ بالا معلومات کی روشنی میں میں اس سیٹ کا حق رکھتا ہوں، کیا میرےلئے پیسے دے کر یہ حق حاصل کرنا جائز ہےیا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

رشوت لینااوردینادونوں حرام ہیں، قرآن وحدیث میں اس پرسخت وعیدیں آئی ہیں، حتی الامکان اس سے بچنافرض ہے ،البتہ دفع ظلم کے لئے اوراپناحق (تجارت یاملازمت وغیرہ )وصول کرنے کے لئے مجبوری کی حالت میں رشوت دینے کی گنجائش ہے

لیکن مجبوری کی صورت میں بھی رشوت دینے کی گنجائش مطلقا نہیں،بلکہ درج ذیل چار صورتیں ہیں:

1. رشوت دے کر کوئی ایسی نوکری حاصل کرنا جائز نہیں جس کا رشوت دینے والا اہل ہی نہ ہو،اگرچہ اکیلا امیدوار ہی کیوں نہ ہو۔

2. امیدوار متعددہوں ،توکم اہلیت رکھنے والے امیدوار کے لئےرشوت دیکراپنے سے زیادہ اہلیت والے کسی امیدوارکو نوکری سے محروم کروانا جائزنہیں ۔

3. مساوی صلاحیت کے کئی امیدوارجمع ہوں اور سیٹیں کم ہونے کی وجہ سے نوکری بعض کو ملنا طے ہوتو ایسی صورت میں بھی کسی امیدوارکے لئےرشوت دیکردوسرے امیدواروں سے رشوت کی بنیاد پرآگے بڑھناجائزنہیں۔

4. اگرمذکورہ بالاتینوں صورتیں نہ ہوں ،مثلادرخواست دہندہ اکیلاامیدوار ہواوراس میں متعلقہ کام کی اہلیت موجودہو،یا امیدوارمتعددہوں لیکن رشوت دینے والاامیدواردوسرے امیدواروں کی بنسبت متعلقہ کام کا زیادہ اہل ہو،یاسب امیدوار صلاحیت میں مساوی ہوں ،مگرسیٹیں زیادہ ہونے کی وجہ سے کسی امیدوار کے رشوت دینے کی وجہ سے دوسرے امیدوار نوکری سے محروم نہ ہوتے ہوں ،تو ان صورتوں میں سرکاری اہل کاروں کی ٹال مٹول اور ظلم سے بچنے کے لئے بقدرضرورت رشوت دینے کی گنجائش ہے،ایسی صورت میں رشوت کا گناہ رشوت لینے والے اہل کاروں کو ہوگا ،نوکری حاصل کرنے والے امیدوار کو نہ ہوگا۔

لہذا مذکورہ صورت میں اگر آپ نے اس حوالے سے مستند معلومات حاصل کی ہیں،جن کے نتیجے میں آپ کو اس بات کا یقین یا غالب گمان ہے کہ اگر آپ نے رشوت نہ دی تو دیگر امیدواروں کے رشوت دینے کی وجہ سے آپ اپنے حق سے محروم ہوجائیں گے تو ایسی صورت میں آپ کے لئے رشوت دینے کی گنجائش ہوگی،اگرچہ احتراز پھر بھی بہتر ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (5/ 362):

"(قوله: أخذ القضاء برشوة) بتثليث الراء قاموس وفي المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد.....

وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة.

الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه.

الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط وحيلة حلها أن يستأجره يوما إلى الليل أو يومين فتصير منافعه مملوكة ثم يستعمله في الذهاب إلى السلطان للأمر الفلاني، وفي الأقضية قسم الهدية وجعل هذا من أقسامها فقال: حلال من الجانبين كالإهداء للتودد وحرام منهما كالإهداء ليعينه على الظلم وحرام على الآخذ فقط، وهو أن يهدى ليكف عنه الظلم والحيلة أن يستأجره إلخ قال: أي في الأقضية هذا إذا كان فيه شرط أما إذا كان بلا شرط لكن يعلم يقينا أنه إنما يهدي ليعينه عند السلطان فمشايخنا على أنه لا بأس به، ولو قضى حاجته بلا شرط ولا طمع فأهدى إليه بعد ذلك فهو حلال لا بأس به وما نقل عن ابن مسعود من كراهته فورع.

الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب، اهـ ما في الفتح ملخصا.

وفي القنية الرشوة يجب ردها ولا تملك وفيها دفع للقاضي أو لغيره سحتا لإصلاح المهم فأصلح ثم ندم يرد ما دفع إليه اهـ، وتمام الكلام عليها في البحر ويأتي الكلام على الهدية للقاضي والمفتي والعمال".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

20/جمادی الثانیہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب