| 83103 | سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان) | متفرّق مسائل |
سوال
بعض علاقوں میں یہ بات مشہور ہے کہ سورج گرھن کے وقت حاملہ عورت کو باہر نہیں نکلنے دیتے، اسے روکتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اس سے بچہ معذور پیدا ہو گا، شرعی نقطہ نظر سے کیا یہ خیال درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ سے سورج گرہن کے وقت نماز، استغفار، ذکر اور دعا میں مشغول ہونا تو ثابت ہے، مگر سورج گرہن کے وقت حاملہ خواتین کے لیے گھر سے باہر نکلنے سے متعلق کوئی خصوصی ممانعت ثابت نہیں ہے، لہذا سورج گرہن کے وقت حاملہ خواتین کے لیے گھر سے باہر نکلنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔
البتہ اگر اطباء اور ڈاکٹر حضرات کی رائے کے مطابق اس کے کوئی مضر اثرات ہوں اور کوئی شریعت کا حکم سمجھے بغیر محض طبی طور پر احتیاطاً ان کی ہدایات پر عمل کرنا چاہے تو شرعا اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
حوالہ جات
"صحيح البخاري" (2/ 34):
"1042 - حدثنا أصبغ، قال: أخبرني ابن وهب، قال: أخبرني عمرو، عن عبد الرحمن بن القاسم، حدثه عن أبيه، عن ابن عمر رضي الله عنهما، أنه كان يخبر عن النبي صلى الله عليه وسلم: «إن الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته، ولكنهما آيتان من آيات الله، فإذا رأيتموها فصلوا»".
قال الملا علی القاری رحمہ اللہ :" (ولا لحياته) أي: ولا لولادة شرير. في شرح السنة: زعم أهل الجاهلية أن كسوف الشمس وكسوف القمر يوجب حدوث تغير في العالم من موت، وولادة، وضرر، وقحط، ونقص ونحوها، فأعلم النبي - صلى الله عليه وسلم - أن كل ذلك باطل، وقال: (فإذا رأيتم ذلك فاذكروا الله أي: بالصلاة في غير الأوقات المكروهة، وبالتهليل والتسبيح، والتكبير والاستغفار، وسائر الأذكار، وفي الوقت المكروه، ويدل عليه الرواية الآتية: فادعوا الله، وكبروا، وصلوا، والأمر للاستحباب، فإن صلاة الكسوف سنة بالاتفاق".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
30/رجب1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


