| 84117 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
تقسیم ہند کے بعد ہمارے آباؤ اجدادعلاقہ 66 جیڈی ضلع ساہیوال میں آکر آباد ہوگئے ، ہمارے علاقے کی زمین تقریباً 25 مربع قادیانیوں کی ہے،جن میں تقریباً 8 مربع وہ فروخت کر چکے ہیں، رقبہ ہم کاشت کرتے ہیں ۔ہمارے علاقے کے قریب میں ٹھیکہ تقریباً 150000 میں ہیں ۔جبکہ ہم 80000روپے دیتے ہیں،ہمارے تایا کا بیٹا محمد شریف ان سے تمام رقبہ ٹھیکے پر لے لیتا ہے، پھر ہم تھوڑی سی زمین اس سے اپنی ضرورت کے مطابق ٹھیکے پر لے لیتے ہیں، وہ بھی80000روپے ادا کرتا ہے۔دو مربع انہوں نے پہلے بھی فروخت کی، جو ہم نے ان سے خرید لی۔ سوالات درج ذیل ہیں:
1= آیا ہمارا ان سے معاملہ کرنا شرعاً کیسا ہے ؟
2= ان قادیانیوں کی وہاں ہمارے گاؤں میں زمین ہے،جس پر ہم نے اپنے پیسے خرچ کر کے تعمیر کی ہے اور ان کا کرایہ نہیں دیتے۔جبکہ زمین ان کی ہے آیا ہمارا رہائش کرنا شرعاً کیسا ہے ؟
3= ہمارے بعض رشتے دار ہم سے اس لیے قطع تعلق کیے ہوئے ہیں کہ تمہارا قادیانیوں کی زمین کاشت کرنا یا ان کے ہاں رہائش کرنا شرعاً جائز نہیں ہے آیا کہ ان کا قطع تعلق کرنا کیسا ہے؟
نوٹ: قادیانیوں کا اس علاقہ میں کوئی عمل دخل نہیں ہے نہ مذہبی اور نہ ہی سیاسی وہ یہاں آباد بھی نہیں ہیں، واضح رہے کہ اگر ہم اس زمین کا ٹھیکہ لینا چھوڑ دیں گے تو دیگر علاقے والے اس کو زیادہ ٹھیکے پر لینے کے لیے تیار ہیں۔بلکہ قریبی علاقے میں 150000 روپے ٹھیکہ چل رہا ہے تو ہمارا ٹھیکہ ختم کرنے کی صورت میں لینے والے مقابلہ میں 200000 تک ٹھیکہ دے سکتے ہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔موجودہ دورمیں " قادیانیت" بہت بڑا فتنہ ہے جو نبی اکرم رسولِ معظم ﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہیں اور قادیانی نہ صرف یہ کہ دینِ اسلام سے خارج ہیں، بلکہ یہ زندیق اور مرتد بھی ہیں اور یہ لوگ قرآن وسنت میں طرح طرح کی تحریفات کرکے ملتِ اسلامیہ کے ایمان واسلام پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور آئے روز ان کی ارتدادی سرگرمیاں زور پکڑتی جارہی ہیں، جن میں ان کی آمدنی کا بہت بڑادخل ہے ؛کیوں کہ ان کی کمائی کا ايك مخصوص حصہ فيصدی اعتبار سے ان کی ارتدادی سرگرمیوں میں صرف ہوتاہے، جس میں مذکورہ زمین کے ٹھیکہ کی رقم کا مخصوص حصہ بھی شامل ہو گا۔ باقی اگر یہ کہا جائے کہ یہ پیدائشی طور پر قادیانیوں کےگھر پیدا ہوئے ہیں اس لیے ان کا حکم مرتدین نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ نسلی قادیانی اگرچہ مرتد نہیں، مگر کافر اورزندیق ضرور ہیں، کیونکہ ان کا گناہ صرف یہ نہیں کہ یہ دائرہ اسلام سے نکلے ہیں، بلکہ ان کا بڑا جرم اور گناہ یہ ہے کہ یہ دینِ اسلام کو کفر اور اپنے کفریہ عقائد اور مسلک کو دینِ حق اور اسلام سے تعبیر کرتے ہیں، ایسی صورتِ حال میں جب عام مسلمان ان کے ساتھ میل جول اور تعلقات رکھیں گے تو سادہ لوح مسلمان ان کو بھی مسلمان سمجھیں گے، جس کی وجہ سے سادہ لوح مسلمانوں کا ایمان ضائع ہونے کا خطرہ ہے، ان کے اس گھناؤنے جرم کی وجہ سے امتِ مسلمہ کے تمام مکاتبِ فکر کا فتویٰ یہ ہے کہ قادیانیوں /مرزائیوں سے خریدوفروخت ،تجارت، لین دین ،سلام و کلام ، کرایہ پر کوئی چیز لینا دینا، ملنا جلنا، کھانا پینا ، شادی و غمی میں شرکت، جنازہ میں شرکت،تعزیت ،عیادت،ان کے ساتھ تعاون سب شریعتِ اسلامیہ میں ممنوع اور ناجائز ہے اورقادیانیوں کااس طرح مکمل بائیکاٹ ان کو توبہ کرانے میں بہت بڑا علاج اور ان کی اصلاح اور ہدایت کا بہت بڑا ذریعہ اور ہر مسلمان کا اولین ایمانی فريضہ ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں کسی بھی مسلمان کا کسی قادیانی/مرزائی سے تعلقات رکھنا اور اس کی زمین ٹھیکے پر لینا جائز نہیں ہے، چنانچہ مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفا یت اللہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"اگر دین کو فتنے سے محفوظ رکھناچاہتے ہو تو(قادیانیوں سے ) قطع تعلق کرلینا چاہیے، ان سے رشتہ ناتا کرنا، ان کے ساتھ خلط ملط رکھنا، جس کا دین اورعقائد پر اثر پڑے ناجائز ہے، اور قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا رکھنا خطرناک ہے۔"
( کفایت المفتی ،کتاب العقائد،ج:1،ص:325۔ط:دارالاشاعت)
اس لیے آپ لوگوں کو چاہیے کہ دینی غیرت وحمیت کے تقاضا کے پیشِ نظر قادیانیوں کی زمینیں ٹھیکے پر لینا چھوڑ دیں، نیز دیگر لوگوں کو بھی سمجھائیں کہ وہ ان سے بائیکاٹ کرتے ہوئے زمینیں کرایہ پر نہ لیں، کیونکہ جب تک پورا مسلم معاشرہ قادیانیوں کابائیکاٹ نہیں کرے گا اس وقت تک قادیانیوں پر دباؤ نہیں پڑے گا اور وہ اسلام کی طرف واپس لوٹنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ پھر بھی اگر کوئی شخص ان کی زمین ٹھیکے پر لیتا ہے تو اس کا گناہ اسی کو ہو گا۔
2۔آپ لوگوں کا قادیانیوں کی زمین پر مکان تعمیر کر کے اس میں رہائش اختیار کرنا بھی جائز نہیں ہے، کیونکہ ان کے ساتھ ملنے جلنے، معاملات کرنے اور اختلاط کرنےسے دل میں ان کے کفر کی شدت کم ہو جائے گی، خصوصاً جبکہ آپ لوگ بغیر کسی کرایہ کے ان کی زمین میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے بارے میں دل میں نرمی کا عنصر پیدا ہونا بدیہی چیز ہے، جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ غیر شعوری طور پر آدمی ان کو مسلمان سمجھنے لگے گا، جس میں کفر کا شدید خطرہ ہے۔
3۔ جن مسلمانوں نے آپ کے ساتھ صرف قادیانیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے کی وجہ سے بائیکاٹ کیا ہے تو ان کا یہ عمل درست ہے، کیونکہ زجر اور تنبیہ کے طور پر محض اصلاح کی غرض سے کسی مسلمان سے اس طرح قطع تعلقی کرنا جائز ہے، چنانچہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین صحابہ کرام سے پچاس دن تک ناراض رہنے کا قصہ صحیح احادیث میں موجود ہے، اس کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات بھی اس موضوع پر شاہد ہیں۔
حوالہ جات
حاشية رد المحتار على الدر المحتار (4 / 241) دار الفكر-بيروت:
' ثم بين حكم الزنديق فقال: اعلم أنه لا يخلو إما أن يكون معروفاً داعياً إلى الضلال أو لا. والثاني ما ذكره صاحب الهداية في التجنيس من أنه على ثلاثة أوجه إما أن يكون زنديقاً من الأصل على الشرك أو يكون مسلماً فيتزندق أو يكون ذمياً فيتزندق، فالأول يترك على شركه إن كان من العجم أي بخلاف مشرك العرب فإنه لا يترك. والثاني يقتل إن لم يسلم ؛لأنه مرتد۔ وفي الثالث يترك على حاله ؛ لأن الكفر ملة واحدة اهـ
إكفار الملحدين في ضروريات الدين (ص: 12) المجلس العلمي – باكستان:
تفسير الزندقة والإلحاد والباطنية وحكمها ثلاثتها واحد وهو الكفر:
قال: التفتازاني في "مقاصد الطالبين في أصول الدين": الكافر إن أظهر الإيمان خص باسم "المنافق"، وإن كفر بعد الإسلام "فبالمرتد"، وإن قال بتعدد الآلهة "فبالمشرك"............. قوله: "المعروف" اهـ. فإن الزنديق يموه يكفره، ويروج عقيدته الفاسدة، ويخرجها في الصورة الصحيحة، وهذا معنى إبطان الكفر، فلا ينافي إظهاره الدعوى إلى الضلال، وكونه معروفاً بالإضلال اهـ. ابن كمال.
وقيل: لا يقبل إسلامه إن ارتد إلى كفر خفي، كزنادقة، وباطنية، فالمراد بابطان بعض عقائد الكفر ليس هو الكتمان من الناس، بلالمراد: أن يعتقد بعض ما يخالف عقائد الإسلام مع ادعائه إياه وحكم المجموع من حيث المجموع الكفر لا غير.
أحكام القرآن للجصاص (سورة المجادلة (58) : آية 22،ج:17، ص:306، ط: دارالکتب المصریة:
"}إن الذين يحادون الله ورسوله أولئك في الأذلّين} ... الثانية: استدل مالك رحمه الله من هذه الآية على معاداة القدرية وترك مجالستهم. قال أشهب عن مالك: لاتجالس القدرية وعادهم في الله، لقوله تعالى: {لاتجد قومًا يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسوله} قلت: وفي معنى أهل القدر جميع أهل الظلم والعدوان".
الفصل في الملل والأهواء والنحل لأبي محمد علي بن أحمد ابن حزم الظاهري(3/ 142) مكتبة الخانجي، القاهرة:
وصح الإجماع على أن كل من جحد شيئا صح عندنا بالإجماع أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى به فقد كفر وصح بالنص أن كل من استهزأ بالله تعالى أو بملك من الملائكة أو بنبي من الأنبياء عليهم السلام أو بآية من القرآن أو بفريضة من فرائض الدين فهي كلها آيات الله تعالى بعد بلوغ الحجة إليه فهو كافر ومن قال بنبي بعد النبي عليه الصلاة والسلام أو جحد شيئا صح عنده بأن النبي صلى الله عليه وسلم قاله فهو كافر.
إكفار الملحدين في ضروريات الدين (ص: 2) المجلس العلمي، باكستان:
والمراد "بالضروريات على ما اشتهر في الكتب: ما علم كونه من دين محمد - صلى الله عليه وسلم - بالضرورة، بأن تواتر عنه واستفاض، وعلمته العامة، كالوحدانية، والنبوة، وختمها بخاتم الأنبياء، وانقطاعها بعده.
رسائل ابن عابدین الشامي ص: ۳۷۰ ، مطبوعہ سھیل أکیڈمی لاھور پاکستان:
والظاھر ان الغلاۃ من الروافض المحکوم بکفر ھم لا ینفکون عن اعتقادھم الباطل فی حال اتیانھم بالشھادتین وغیرھما من احکام الشرع کالصوم والصلوٰۃ فھم کفار لا مرتدون ولا اھل کتاب .
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
27/ذوالحجة 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


