| 84470 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
19 جون 1977ء کو ہمارے والد صاحب کا ہارٹ اٹیک کی وجہ سے انتقال ہو گیا،ان کی عمر اس وقت پچاس سال تھی اور میری والدہ کی عمر 43 سال تھی، ہم سب دس بہن بھائی تھے۔ آٹھ بھائی، دو بہنیں،ہم تین بھائی دو بہنیں بالغ تھے، بڑے بھائی معراج احمد 23 سال تھے،پانچ بھائی نابالغ یتیم تھے۔ کسی بھی بھائی کی شادی والد صاحب کے سامنے نہیں ہوئی تھی۔ میرے والد صاحب کا ذاتی کمائی سے بنایا گھر S-2/450 سعود آبادمیں آج بھی موجود ہے ۔ جس میں ہم سب رہائش پذیر تھے، والد صاحب کے انتقال کے بعد سب سے بڑے معراج احمد نے والد صاحب کی تمام جائیداد تقسیم کرنے کے لیےمفتی محمدتقی عثمانی صاحب کے دارالعلوم سے فتوی لے کرجائیداد تقسیم کروائی۔میرے والد صاحب کی صدر ایمپریس شہاب الدین مارکیٹ میں دکان اورگودام بھی تھا،باقی پراپرٹی وغیرہ کی کاپی منسلک کر دوں گی، اسی دکان سے وہ سارے کنبے کی کفالت کر رہے تھے۔میرے بھائی بہنوں کے نام یہ ہیں:1معراج احمد،2رضوان احمد 3 چمن آرا4 عرفان احمد 5 ترین فاطمہ 6 عثمان احمد 7 اکرام احمد 8 محمد علی9عامر احمد10 عالم احمد۔
جائیداد تقسیم کرنے کے بعد معراج احمد اور چوپھے نمبر کا بھائی عرفان احمد جس نے اسی سال میٹرک کیا تھا دونوں بھائی وراثت سےاپنا حصہ لےکر الگ ہو گئے، ان دونوں بھائیوں کے الگ ہونے کےبعد رضوان احمد نے والدہ صاحبہ، چھوٹے بھائی اور دو بہنوں کی ذمہ داری اٹھائی،اب رضوان احمد کا کاروبار میں ہاتھ بٹانے والا کوئی بھائی سمجھ دار نہیں تھا،رضوان احمدہی کا روبار کو سنبھالتے رہے، عثمان ساتویں کلاس میں تھا، اس کی پڑھائی ختم ہوگئی، اس میں سمجھ داری نہیں تھی، کچھ عرصہ تک اکیلے سنبھالتے رہے۔
عثمان احمد کچھ سمجھ دار ہوا تو اسی کا روبار میں رضوان احمد کا ہاتھ بٹانے لگا۔ دونوں بھائیوں نے مل کر بہت محنت کی، سب کی پرورش ہوئی، سب کو پڑھایا لکھا یا، کوئی بھی بھائی بہت اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکا، سب نے میٹرک اور انٹر کیا،سب کی شادیاں ہو گئیں، چھوٹے دو بھائیوں نے اپنا حصہ مانگا تو رضوان احمد نے اسی تقسیم کے مطابق دونوں بھائیوں اور ایک بہن کو ان کا حصہ دے دیا، سب بھائی بہنوں کی شادیاں اسی مکان S-2/450 میں رہتے ہوئے ہوئیں، پھر باری باری سب اپنے گھر عليحدہ بنا کر الگ ہو گئے، کاروبار ایک ہی تھا۔ پھر رضوان اور عثمان ان دونوں بھائیوں نے 1994ء کو الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا،دکان اورگودام میں جو مال تھا وہ سب اوراس کے علاوہ جو پراپرٹی تھی وہ سب آدھی آدھی تقسیم کرلی۔ یہ سارے معاملات ہونے کے باوجود ابھی والد صاحب کی وراثت میں چار وارثوں کے حصے باقی تھے ، جو ابھی ادا نہیں ہوئے تھے، والدہ صاحبہ (جو حیات تھیں) کا حصہ ،بہن چمن آرا کا اور اکرام احمد کا حصہ عثمان احمد کی طرف لگا دیا۔رضوان احمد نے والدہ صاحبہ کا اور محمد علی کا حصّہ اپنی طرف لگا لیا کہ میں دونگا،والدہ صاحبہ کا حصہ ان کے انتقال کے 7 سے 8 سال بعد اُسی وقت کی تقسیم کے مطابق سب کوتقسیم کر دیا تھا۔ ایک بھائی محمد علی کا حصہ ان کی طرف ابھی تک باقی ہے۔
ایک دن رضوان احمد نے مجھ سے آکر کہا کہ تمہارا اور اکرام کا حصہ عثمان کی طرف ہے، تم عثمان سے لے لینا میں ان ساری باتوں سے لا علم تھی، ہمیں کچھ نہیں معلوم تھا کہ ہمارا کیا حصہ ہے؟جب میں نے بھائی سے سوال کیا کونسا حصہ؟ تو کہنے لگے والد صاحب کی جائیداد کا حصہ ہے،ہمارے حصہ میں 1977ء کی تقسیم کے مطابق 26978 روپے آئے تھے۔ جب میں نے عثمان سے اپنے حصہ کی بات کی تو کہنے لگا کونسا حصہ؟ میری طرف کوئی حصہ نہیں ہے۔ ایک دن اکرام عثمان کے گھر گئے اور کہا کہ والد صاحب کی جائیداد کا جو میراحصہ تمہاری طرف ہے، وہ مجھے دے دوتو عثمان نے کہا تمہارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے؟ جبکہ تحریری ثبوت رضوان احمد کے پاس موجود ہے، اکرام نے عثمان سے کہا آپ میرا حصہ میری طرف سے والدین کے لیے صدقہ جاریہ میں لگا دو۔ مگر عثمان نے ایسا بھی نہیں کیا،ہم سب بہن بھائیوں کا آپس میں کوئی جھگڑا وغیرہ نہیں ہے، مگر وراثت کا حصہ تو ہمارا حق ہے۔جبکہ عثمان اس موضوع پر کوئی بات کرنا نہیں چاہتا ۔
پہلاسوال یہ ہے کہ اب 450/S-2 والے گھر کا کیا کیا جائے یہ گھر تین منزلہ ہے اور ابھی تک میرے والد صاحب کے نام پر ہی ہے، اب اس گھر کو کس طرح تقسیم کیا جائے ؟
دوسراسوال یہ کہ کیا اس گھر میں فوت شدہ عالم بھائی کااور اس کے بیٹے اور بیوی کا حصہ بھی ہو گا۔ عالم کی بیٹی کی شادی ہوگئی ہے۔جبکہ عالم بھائی زندگی میں مکان سمیت اپنی زندگی میں حصہ لے چکا تھا۔ اسی طرح معراج احمد مرحوم اور عرفان احمد کو بھی حصہ ملے گا؟ جبکہ یہ بھی اپنا حصہ وصول کر چکے ہیں۔
تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں کاروبار سے حصہ ملے گا؟ جبکہ ہم نے شرکت ختم نہیں کی اور ابھی تک وراثت میں سے بھی حصہ نہیں لیا۔ 46 سال گزرنے کے بعد بھی ہمیں 1977ء کے مطابق ہی حصہ ملے گا یعنی 26978 روپے؟ جبکہ کاروبار میں بھاری رقم لگی ہوئی ہے، عثمان اپنا الگ کا روبار اپنے بیٹے کیساتھ کر رہا ہے۔قرآن و سنت کی روشنی میں مجھے اپنے سب سوالوں کے جواب چاہیے۔
وضاحت:
سائلہ نے بتایا کہ اس گھر سمیت مکمل جائیداد کی قیمت لگا کر ہر وارث کا جو حصہ بنتا تھا وہ اس کو دے دیا گیا، البتہ ہم تین افراد ابھی باقی ہیں جن کو حصہ نہیں ملا، جائیداد میں صرف یہ گھر باقی ہے، باقی رضوان نے میرا حصہ جو عثمان کو دیا تھا، اس کا ہمیں علم نہیں تھا، تقریبا ڈیڑھ سال کے بعد اس نے میرے پاس رقم بھیجی تو میں نے کہا کہ وہ رضوان کے رقم دینے کا انکار کر رہا تھا، اس لیے میں یہ رقم نہیں لوں گی اور وہ رقم میں نے واپس کر دی تھی۔
سائلہ کے بھائی رضوان نے بتایا کہ 1977ء میں والد صاحب کا انتقال ہوا تو فتوی لے کر تمام جائیداد کی قیمت لگا کر ان کے حصے ادا کر دیے گئے، البتہ تین ورثاء کا حصہ ہمارے کاروبار میں لگا رہا، 1994ء میں جب ہم دونوں یعنی عثمان اور میں جدا ہوئے تو میں نے عثمان کو ان دونوں یعنی اکرام اور بہن چمن آراءکے حصے کی رقم دی کہ ان کو دے دینا، لیکن عثمان نے وہ رقم ان کو نہیں دی، دوسری طرف میں نے بھی ان ورثاء کو نہیں بتایا کہ آپ کا حصہٴ وراثت عثمان کو دے دیا گیا ہے، اس لیے ان کو ابھی تک حصہ نہیں ملا، نیز یہ بھی بتایا گیا کہ یہ کاروبار حقیقت میں باپ کا تھا، شروع میں تقسیم کے وقت رہائشی گھر سمیت کاروبار کے اثاثوں کو بھی شامل کیا گیا تھا، جن ورثاء کو حصہ دیا گیا تھا ان کو مکمل جائیداد کی قیمت لگا کر ان کے حوالے کیا گیا تھا، البتہ میں نے جب ان کو حصہ دیا تو کاروبار کے کل سرمایہ کا حساب نہیں کیا تھا، بلکہ اندازے سے کچھ رقم بڑھا کر عثمان کو دے دی تھی کہ ان دونوں کو دے دینا، اس وقت کاروبار میں کل سرمایہ 45لاکھ روپیہ تھا، اس کے علاوہ محمد علی اور والدہ کا وراثتی کاروبار میں موجود حصہ بھی 1994ء کے بعد ادا کر دیا گیا تھا۔
1977ء کی تقسیم کے مطابق بعض ورثاء کو حصہ دے دیا گیا، البتہ والدہ صاحبہ، رضوان، عثمان، اکرام، محمد علی اور ایک بہن چمن آراء اس کاروبار میں شریک رہے اور ان سب کو علم تھا کہ اس کاروبار میں ہمارا حصہ موجود ہے۔1994ء میں عثمان بھی علیحدہ ہو گئے اور والدہ کا حصہ بھی ان کی وفات کے بعد سب کو دے دیا گیا۔ البتہ مذکورہ ورثاء میں دو وارث اکرام اور چمن آراء کو ابھی تک حصہ نہیں دیا گیا اور عثمان کو بھی باقی جائیداد میں سے تو حصہ مل گیا، لیکن رہائشی مکان میں سے اس کو حصہ نہیں ملا، اس مکان میں چونکہ والدہ وغیرہ کی رہائش تھی اس لیے یہ مکان اسی طرح باقی رہا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
- مذکورہ رہائشی مکان رضوان، عثمان اور بقیہ تین ورثاء یعنی محمد علی، اکرام اور چمن آراء (جن کو ابھی تک اس مکان میں سے حصہ نہیں دیا گیا) کے درمیان تقسیم ہو گا اور ان میں سے ہر وارث کو اپنے والد کی وراثت میں موجود اپنے شرعی حصہ کے مطابق حصہ ملے گا، اسی طرح جن ورثاء کو اس مکان میں موجود ان کا شرعی حصہٴ وراثت ادا کر دیا گیا ہے ان کا حصہ بھی مذکورہ پانچ ورثاء کی طرف منتقل ہو جائے گا، کیونکہ ان سب ورثاء کے مذکورہ مکان میں موجود حصص انہی پانچ ورثاء کے مال سے ادا کیے گئے تھے، اس لیے اب اس مکان میں عثمان سمیت انہی پانچ ورثاء کا حق ہو گا۔
- سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق 1977ء میں جن وارثوں نے مذکورہ رہائشی گھر سمیت مکمل جائیداد کی قیمت لگوا کر اپنا شرعی حصہ وصول کر لیا تھا، ان کا اس مکان سے حصہ ختم ہو گیا، اب ان کو اس مکان میں سے کسی حصے کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہے، اسی طرح والدہ کا حصہ بھی چونکہ ان کی وفات کے بعد ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کر دیا گیا تھا اس لیے والدہ کی وراثت کی بناء پر بھی ان وارثوں کو اس مکان میں سے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہے، لہذا مرحوم عالم، معراج احمد اور عرفان احمد وغیرہ کا اس مکان میں شرعا کوئی حصہ نہیں ہے، البتہ اگر ان مرحومین کے ورثاء تنگدست ہوں اوراس مکان کے حق دار اپنی رضامندی اور خوشی سے مذکورہ مرحومین کے ورثاء کو کچھ حصہ دے دیں تو ان کو آخرت میں بہت بڑا اجروثواب ملے گا۔
- سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق 1977ء کے بعد والدہ سمیت ان تین ورثاء کا حصہ بھی کاروبار میں لگا رہا، 1994ء میں اگرچہ رضوان نے کاروبار کی تقسیم کے وقت اکرام اور چمن آراء کا حصہ علیحدہ نکال کر عثمان کو دیا ، مگررضوان اور عثمان دونوں میں سے کسی نے بھی ان ورثاء کو اس بات کی خبر نہیں دی کہ آپ لوگوں کا حصہ علیحدہ کر دیا گیا ہے اور اب وہ حصہ عثمان کے پاس موجود ہے، جبکہ شرکت کے کاروبار کا اصول یہ ہے کہ جب تک دوسرے فریق کو شرکت کے ختم کرنے کی اطلاع نہ دی جائے اس وقت تک شرکت کا کاروبار یک طرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اکرام اور چمن آراء کا حصہ عثمان کو دینے سے رضوان کے کاروبار سے ان کی شرکت ختم نہیں ہوئی، بلکہ بدستور وہ اس کاروبار میں شریک سمجھے جائیں گے، البتہ رضوان اور عثمان نے تقسیم کے دوران چونکہ تمام سرمایہ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے آدھا آدھا لے لیا تھا، اس لیے اکرام اور چمن آراء کا جتنا سرمایہ عثمان کے پاس گیا اتنے سرمایہ پر غصب کے احکام لاگو ہوں گے، لہذا عثمان نے اس سرمایہ سے جو نفع حاصل کیا وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو گا، بلکہ یہ نفع بلا نیتِ ثواب فقراء پر صدقہ کرنا یا اکرام اور ثمن آراء کو دینا ہو گا، کیونکہ یہ نفع انہیں کے سرمایہ سے حاصل کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ ان کا جتنا سرمایہ رضوان کے پاس باقی بچا یہ دونوں بہن بھائی اپنے اس سرمایہ کے تناسب سے اس کاروبار میں نفع کے حق دار ہوں گے۔ البتہ رضوان نے ان دو نوں کے حصے کی جو نقد رقم عثمان کو دی ہے وہ اس کو واپس لینے کا حق حاصل ہے۔ نیز رضوان نے چونکہ اتنا عرصہ تک اس کاروبار میں کام کیا ہے اور آج کل اتنا عرصہ کوئی بھی شخص بلا معاوضہ کام نہیں کرتا، لہذا ان کو اتنا عرصہ اس کاروبار میں کام کرنے پر اجرتِ مثل (اس طرح کے کاروبار میں اتنا عرصہ کام کرنے پر معاشرے میں جو اجرت دی جاتی ہو ) دی جائے گی۔
حوالہ جات
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 230) دار الكتب العلمية، بيروت:
استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له استأجر شيئا لينتفع به خارج المصر فانتفع به في المصر، فإن كان ثوبا وجب الأجر وإن كان دابة لا.
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (3/ 125) دار الكتب العلمية:
فالعبرة لعادتهم: أي لعادة أهل السوق فإن كانوا يعملون بالأجر يجب أجر المثل وإن كانوا يعملون بغير أجر فلا يجب أجره؛ وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعينه على بعض أعماله كذا في الولوالجية.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 42) دار الفكر-بيروت:
(قوله فالعبرة لعادتهم) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل وإلا فلا. (قوله اعتبر عرف البلدة إلخ) فإن كان العرف يشهد للأستاذ يحكم بأجر مثل تعليم ذلك العمل، وإن شهد للمولى فأجر مثل الغلام على الأستاذ درر۔
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 650) دار الكتب العلمية، بيروت:
رجل يبيع شيئاً في السوق فاستعان بواحد من أهل السوق على بيعه، فأعانه، ثم طلب منه الأجر، فإن العبرة في ذلك لعادة أهل السوق، فإن كان عادتهم أنهم يعملون بأجر يجب أجر المثل، وإن كان عادتهم أنهم يعملون بغير أجر فلا شيء له.
المبسوط للسرخسي (11/ 209) دار المعرفة – بيروت:
كل واحد منهما ينفرد بفسخ الشركة بمحضر من صاحبه، فجحوده يكون فسخا؛ لأنه ينفي بالجحود عقد الشركة بينهما فيما مضى.
تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (4/ 289) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
لا يصح أن ينفرد أحدهما بفسخ الشركة بدون علم صاحبه بل يتوقف على علمه؛ لأنه عزل قصدي فكيف يتصور أن ينعزل بدون علمه.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 370، المادة: 1353) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
(تنفسخ الشركة بفسخ أحد الشريكين، ولكن يشترط أن يعلم الآخر بفسخه، ولا تنفسخ الشركة ما لم يعلم الآخر بفسخ الشريك)....ولا يشترط في حصة الفسخ رضاء الآخر.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (370/3)دار الجيل، بيروت:
تنفسخ الشركة بفسخ أحد الشريكين أو بإنكاره الشركة أو بقول أحدهما للآخر لا أعمل معك فإنه بمنزلة فاسختك وتنفسخ ولو كان مال الشركة موجودا في حالة العروض................. ولكن يشترط أن يعلم الآخر بفسخه لأن هذا الفسخ عزل عن الوكالة. انظر المادة (1523) فلذلك لا تنفسخ الشركة ما لم يعلم الآخر فسخ الشريك لها. وفي هذه الصورة إذا عقد ثلاثة عقد شركة مفاوضة وغاب أحدهما وأراد الحاضران فسخ الشركة فليس لهما فسخها ما لم يعلم الغائب بالفسخ.
المبسوط للسرخسي (11/ 77) دار المعرفة – بيروت:
لو سلم الغلة إلى المالك مع العبد كان للمالك أن يتناول ذلك، وليس على الغاصب شيء آخر فهو بما صنع يصير مسلما إلى المالك، ثم يصير المالك مبرئا له عن ذلك القدر من القيمة بما يقبضه فيزول الخبث بهذا الطريق، فلا يلزمه التصدق بعوضه.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
28/محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


