| 84169 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
دوسری عورت سے نکاح کرنےکے بعدمیری اپنی بیوی مجھ سے ناراض ہوکرمیکہ چلے گئی کہ آپ نے دوسری شادی کی ہے،جبکہ میں نے نیک نیتی سے یہ کام کیاتھا تاکہ وہ دوبارہ اپنے پہلے شوہرسے شادی کرکے اس کاگھربس جائے،اس بات پرمیری پہلی بیوی خلع مانگ رہی ہے،جبکہ میرامعاملہ تودوسری خاتون سے ختم ہوچکاہے،سوال یہ ہے کہ میری بیوی کے لئے اس بات پر عدالت سے خلع لیناشرعاجائزہے یانہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عورت کا شدید مجبوری کے بغیر شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، حدیثِ مبارک میں آتا ہے کہ جو عورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرےاس پر جنت کی خوش بو حرام ہے،اس لئے صورت مسؤلہ میں آپ کی بیوی کاعدالت کے ذریعہ خلع کامطالبہ کرناشرعا درست نہیں،اگرعدالت نے خلع کی ڈگری آپ کے قبول کئے بغیر جاری کردی توشرعایہ خلع درست نہیں ہوگا،یہ عورت بدستورآپ کے نکاح میں رہے گی، کیونکہ خلع کے نافذہونے کے لئے شوہر کا خلع کوقبول کرناضروری ہے ،شوہر کے قبول کئے بغیر خلع صحیح نہیں ہوتا ۔
حوالہ جات
فی سنن أبي داود (ج 1 / ص 676):
عن ثوبان قال :قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :" أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة۔
فی رد المحتار (ج 3 / ص 485):
"وأما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض الإيجاب والقبول ؛لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول"
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲/محرم الحرام۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


