03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پچھلے سجدہ تلاوت ادا کرنے کی صورت(سجدہ تلاوت کی نیت میں تعیین ضروری نہیں)
84705نماز کا بیانسجدہ تلاوت کا بیان

سوال

میرے ذمہ اٹھارہ انیس سال پرانے حفظ کے سجدےباقی تھے ،اور اس کے بعد دہرائی کے بھی ، اُن کا اندازہ لگا کرادا کیے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کچھ اور کرلینے چاہیے ۔ اس کے علاوہ روزانہ یا ایک دو دن بعد بچوں کا عم پارہ سننا ہوتا ہے ، اُس کےبھی سجدے ذمہ ہوتے ہیں۔  اب میرا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ یہ نیت کرتا ہوں کہ کل کی عشاء سے آج عشاء تک جتنے سجدے مجھ پر واجب ہوئے ہیں، وہ ادا  کر رہا ہوں ۔ دو تین سجدے اس طرح کرلیتا ہوں  اس کے بعد یہ بھی شک ہوتا ہے کہ شاید کوئی سجدہ اس گزرے مہینے میں رہ گیا ہو ، تو اس کے سجدےابھی کر رہا ہوں ، پھر ایک دو سجدے کرلوں ۔ پھر اس کے بعد جو ایک مہینے سے پہلے میری زندگی میں جتنے بھی سجدے رہ گئے ہوں اُن میں سے پہلے کر رہا ہوں پھر کچھ سجدے کرلوں ۔  

خلاصہ یہ کہ پہلے ایک یا دو دن کا تعین کر کے کچھ سجدےکروں جو اس ایک یا دو دن میں واجب ہوئے ، پھر ایک مہینے کا تعین کر کے اس کے جتنے سجدے باقی ہیں وہ کروں ،پھر ایک مہینے سے پہلے میری زندگی کے جتنے سجدےباقی  ہیں اُن کی نیت کر کے سجدہ کروں، کیا یہ طریقہ درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اب تک جتنے  سجدہ تلاوت   باقی ہیں  ان کی تعداد کا اندازہ لگائیں،اور جس عدد پر دل مطمئن ہوجائے ، وہ جلد از جلد  اداکرلیے جا‎ئیں ۔ اس سے زیاہ وہم میں نہ پڑیں۔

حوالہ جات

و الأصل  في وجوب السجدة: ٌأن كل من  كان من أهل وجوب الصلاة إما أداء أو قضاء، كان أهلا لوجوب سجدة التلاوة، ومن لا فلا كذا في الخلاصة. )الفتاوى الهندية(1/146:

(يجب بسبب تلاوة آيةبشروط الصلاة المتقدمة خلا التحريمةونية التعيين) قوله:ونية التعيين: أي تعيين أنها سجدة آية كذا ،نهر عن القنية، وأما تعيين كونها عن التلاوة فشرط كما تقدم في بحث النية من شروط الصلاة... ) وهي على التراخي على المختار ويكره تأخيرها تنزيها، ويكفيه أن يسجد عدد ما عليه بلا تعيين ويكون مؤديا(. ( الدر المختار مع رد المحتار(583,579/2:

خاتمة:من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه، فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء.(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:290/1)

فتاوى محمودیہ(469/7)

انس رشید

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

20/صفر المظفر1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

انس رشید ولد ہارون رشید

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب