03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
معاہدہ کے بغیر بہنوں کے حصہ کی وراثتی مکان میں قیمت طے کرنے کا حکم
84796میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری ساس کا 2018ء میں انتقال ہوگیا، وارثین میں دو بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں،سب شادی شدہ ہیں۔میرے دیور کے بقول ترکہ کے مکان کی قیمت وفات کے سال اٹھارہ لاکھ 1800000لگی تھی، دیور کا کہنا ہے کہ وفات کے سال کی قیمت کے حساب سے بہنوں میں مکان کی رقم تقسیم کر دیں گے اور دونوں بھائی اس مکان کو لے لیں گے، جس کا انہوں نے  ابھی تک کسی بھی وارث سے کوئی معاہدہ بھی نہیں کیا، کیا یہ درست ہے ؟ کیا مکان کو بغیر فروخت کیے صرف رقم مختص کردینا اور اس کو بعد میں ادا کرنے کی نیت رکھنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں وراثتی مکان کی قیمت لگانے کے وقت اگر بہنوں سے باقاعدہ معاہدہ نہیں کیا گیا تھا کہ تمہارا اس مکان میں اتنا حصہ بنتا ہے، جو رقم کی صورت میں ادا کر دیا جائے گا جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو اس صورت میں بہنوں کو راضی کیے بغیر مکان کی خود قیمت لگوانے سے بہنوں کا حصہ اس مکان سے ختم نہیں ہوا، بلکہ ان کا شرعی حصہ ابھی تک مذکورہ وراثتی مکان میں باقی ہے، جس کا وہ جب چاہیں مطالبہ کر سکتی ہیں اور پھر ان کو حصہ دینے کے وقت مکان کی موجودہ قیمت (مارکیٹ ویلیو) لگوائی جائے گی اور اس میں سے ہر بہن کو ہر بھائی کی بنسبت آدھا حصہ دیا جائے گا۔  

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 260) دار الفكر-بيروت:

"(وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم ‌بطلب ‌كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها المعول" (وإن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض.

مسند أحمد مخرجا (34/ 299) مؤسسة الرسالة، بيروت:

عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، قال: كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم في أوسط أيام التشريق، أذود عنه الناس، فقال: «يا أيها الناس، هل تدرون في أي يوم أنتم؟ وفي أي شهر أنتم؟ وفي أي بلد أنتم؟» قالوا: في يوم حرام، وشهر حرام، وبلد

حرام، قال: «فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، إلى يوم تلقونه» ، ثم قال: " اسمعوا مني تعيشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

28/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب