| 84851 | نان نفقہ کے مسائل | بیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل |
سوال
شادی شدہ بیٹا جو والد کے ساتھ رہائش پذیر ہو اس کی بیوی کا نان نفقہ کس کے ذمے لازم ہے،جبکہ بیٹا برسرِروزگار بھی ہو؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ بیوی کا نان نفقہ شوہر کے ذمے لازم ہے،اس لئے بہو کا نان نفقہ آپ کے ذمے لازم نہیں،بلکہ آپ کے بیٹے کے ذمے اپنی بیوی کے نان نفقے کا انتظام لازم ہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (3/ 572):
"(ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
06/ربیع الاول1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


