03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قسطیں وقت سے پہلے ادا کرنے کی وجہ سے قیمت کم کرنا
84738خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

میں نے ایک موبائل اپنے دوست کو دس مہینوں کی اقساط پر ایک لاکھ پچاس ہزار میں بیچا تھا، اس نے قسطیں وقت سے پہلے ہی ادا کردیں تو میں نے پوری قیمت لینے کے بجائے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے لیے اور دس ہزار اس کے لیے چھوڑ دیے۔ کیا میرا دس ہزار روپے چھوڑنا جائز تھا ؟ اگر جائز نہیں تھا تو اب تلافی کیسے ہوگی؟ اس سے دس ہزار کا مطالبہ کرنا ناممکن سا لگتا ہے۔

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ یہ کمی جلدی ادائیگی کی شرط پر نہیں ہوئی تھی، اس نے از خود وقت سے پہلے قسطوں کی ادائیگی کی تو میں نے دس ہزار روپے کم لیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ تفصیل اور تنقیح کے مطابق بلا کسی شرط قسطوں کی جلد ادائیگی کی وجہ سے آپ کا از خود خریدار سے دس ہزار روپے کم لینا جائز تھا، اس میں کوئی شرعی خرابی نہیں۔    

حوالہ جات

أحكام القرآن للجصاص (2/ 186):

 ومن أبواب الربا الذي تضمنت الآية تحريمه :  الرجل يكون عليه ألف درهم دين مؤجل فيصالحه منه على خمس مائة حالة فلا يجوز وقد روى سفيان عن حميد عن ميسرة قال سألت ابن عمر يكون لي على الرجل الدين إلى أجل فأقول عجل لي وأضع عنك فقال هو ربا وروي عن زيد بن ثابت أيضا النهي عن ذلك وهو قول سعيد بن جبير والشعبي والحكم وهو قول أصحابنا وعامة الفقهاء وقال ابن عباس وإبراهيم النخعي لا بأس بذلك والذي يدل على بطلان ذلك شيئان…… ومن أجاز من السلف إذا قال: عجل لي وأضع عنك، فجائز أن يكون أجازوه إذا لم يجعله شرطا فيه، وذلك بأن يضع عنه بغير شرط ويعجل الآخر الباقي بغير شرط.

فقه البیوع (1/545):

 مسئلة ضع و تعجل: ومما یتعامل به بعض التجار في الدیون المؤجلة أنهم یسقطون حصة من   الدین بشرط أن یعجل المدیون باقیه قبل حلول الأجل، مثل أن یکون لزید علی عمرو ألف، فیقول زید: عجل لی تسع مائة، وأنا أضع عنك مائة. وإن هذه المعاملة معروفة في الفقه باسم " ضع و تعجل "، وهذا التعجیل إن کان مشروطا بالوضع من الدین، فإن المذاهب الأربعة متفقة علی عدم جوازه.

بحوث في قضایا فقهیة معاصرة (1/32):

المنع من الوضع بالتعجیل في الدیون المؤجلة إنما یکون إذا کان الوضع للدائن شرطا للتعجیل، أما إذا عجل المدیون من غیر شرط جاز للدائن أن یضع عنه بعض دینه بعض دینه تبرعا، وعلیه حمل الجصاص رحمه الله تعالیٰ الآثار التي تدل علی جواز "ضع و تعجل".

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       23/صفر المظفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب