03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عقدِ استصناع کے تحت دکان بیچتے وقت کرایہ پر لینے کی بات کرنے کا حکم
84819خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

ایک پلازے میں دکانیں فروخت ہورہی تھیں، کچھ دکانیں بنی تھیں، کچھ نہیں بنی تھیں، پلازے والے بتاتے ہیں کہ جس کسٹمر کی قسطیں پوری ہوں گی، ہم اس کو دکان کا کرایہ دینا شروع کردیں گے، چاہے اس کی دکان بنی ہو یا نہ بنی ہو۔ لوگ اسی امید پر دکانیں خریدتے ہیں کہ چلیں کرایہ تو ملتا رہے گا، دکان کی خریداری کے ایگریمنٹ میں دکان کرایہ پر لینے دینے کی بات نہیں ہوتی، کرایہ داری کا تحریری ایگریمنٹ قسطیں مکمل کے بعد بنتا ہے، لیکن زبانی بات، کرایہ داری کی مدت اور کرایہ کی مقدار کا تعین دکان کی خریداری کے وقت ہوتا ہے۔

میں نے مئی یا جون 2022ء میں ایک دکان خریدی کہ جب قسطیں پوری ہو ں گی تو مجھے دکان کا کرایہ ملنا شروع ہو جائے گا۔ خریداری کے وقت دکان نہیں بنی تھی، لیکن انہوں نے ہمیں جگہ بتادی تھی کہ آپ کی دکان اس جگہ پر بنے گی۔ دکان کی قیمت پندرہ لاکھ پینتیس ہزار تھی، ایک لاکھ پینتیس ہزار میں نے اسی وقت دئیے، جبکہ بقیہ رقم دو تین قسطوں میں ادا کردی۔ اکتوبر 2022ء میں میری قسطیں مکمل ہوئیں اور نومبر 2022ء سے انہوں نے مجھے کرایہ دینا شروع کیا، نومبر 2022ء تک میری دکان بن چکی تھی، پلازے والے اس میں اپنے مزدوروں کا سامان وغیرہ رکھتے تھے، آج کل اس میں بچوں کے کھانے وغیرہ کی اشیاء بیچتے ہیں۔ اب ہمارا یہ معاہدہ مکمل ہونے جا رہا ہے، میں اب تک کرایہ لیتا رہا ہوں۔

سوال یہ ہے کہ یہ معاملہ اور کرایہ لینا شرعا جائز ہے یا نہیں؟ کرایہ داری کی دو سالہ مدت اور بیس ہزار روپے کرایہ کی بات خریداری کے وقت ہوگئی تھی، البتہ اس کا تحریری ایگریمنٹ قسطیں مکمل ہونے کے بعد ہوا۔ دکان کی بکنگ اور کرایہ داری کے معاہدات کی کاپیاں منسلک ہیں۔  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی چیز کی خریداری کو دوسرے معاملے، مثلا کرایہ داری یا قرض وغیرہ کے ساتھ مشروط کرنا جائز نہیں، اس سے خریداری کا معاملہ فاسد اور ناجائز ہوجاتا ہے۔ البتہ اگر خریداری کے اندر دوسرے معاملے کا بطورِ شرط ذکر نہ ہو، بلکہ اس کا الگ سے وعدہ کیا جائے تو پھر خریداری کا معاملہ فاسد نہیں ہوگا۔  

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکورہ صورت میں جب دکان کی خریداری کے معاہدے (Agreement) میں کرایہ داری کی بات نہیں ہوئی تو زبانی کلامی ہونے والی بات کو وعدہ قرار دیا جائے گا اور اس کی وجہ سے دکان کی خریداری کو فاسد اور ناجائز نہیں کہا جائے گا۔ تاہم آئندہ کے لیے پلازے کے مالکان دکان بیچنے سے پہلے یا متصل بعد بھی کرایہ داری کی بات نہ کریں، کیونکہ ایک تو بعض دفعہ شرط اور وعدہ میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے اصل معاملہ کے جائز یا ناجائز ہونے میں شبہہ پیدا ہوتا ہے، دوسرا ان کا یہ کہنا کہ "آپ کی دکان بنی ہو یا نہ بنی ہو، ہم آپ کو کرایہ دیں گے" بذاتِ خود ناجائز ہے؛ کیونکہ غیر موجود چیز کو کرایہ پر لینا دینا جائز نہیں، اس لیے وعدہ میں "دکان نہ ہونے کی صورت میں بھی کرایہ داری" کی بات ناجائز ہوگی۔ لہٰذا دکان کی خرید و فروخت سے پہلے یا بعد میں بھی کرایہ داری کی بات نہ کی جائے، بلکہ جب گاہک کی قسطیں مکمل ہوجائیں، اس وقت دیکھ لیا جائے:

  1. اگر اس کی دکان تیار ہو اور اس سے کوئی با مقصد نفع اٹھایا جاسکتا ہو تو فریقین باہم رضامندی سے کرایہ داری کا معاملہ کرسکتے ہیں۔ صورتِ مسئولہ میں جب آپ کی قسطیں مکمل ہوئیں، اگر اس وقت آپ کی دکان واقعتا بن چکی تھی اور پلازے والے اس کو اپنے مزدوروں کا سامان رکھنے، کچھ بیچنے یا کسی اور مقصودی نفع کے لیے استعمال کر سکتے تھے تو  اس کی کرایہ داری کا معاملہ درست تھا، لہٰذا آپ نے اس دکان کا جو کرایہ لیا ہے، وہ آپ کے لیے جائز ہے۔  
  2. لیکن اگر قسطیں مکمل ہونے پر بھی گاہک کی دکان تیار نہ ہو یا اس کی حالت ایسی ہو کہ اس سے کوئی مقصودی نفع نہ اٹھایا جاسکتا ہو تو پھر اس کی کرایہ داری کا معاملہ جائز نہیں ہوگا۔ پلازے کے مالکان نے اب تک اگر کسی کے ساتھ اس طرح کے معاملات کیے ہیں تو وہ درست نہیں ہوئے ہیں، جن لوگوں نے ایسے دکانوں کے کرایے لیے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ پلازے کے مالکان کو واپس کریں، البتہ اگر پلازے کے مالکان بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے ان کو معاف کردیں تو پھر واپسی ضروری نہیں ہوگی۔

اس صورت (جب دکان سرے سے بنی ہی نہ ہو یابنی ہو لیکن اس سے کوئی مقصود فائدہ نہ اٹھایا جاسکتا ہو) میں یہ ممکن ہے کہ پلازے کے مالکان قسطیں مکمل کرنے والے گاہک کو اپنی مرضی سے کچھ رقم واپس کرے، شرعا اس کی حیثیت "حطِ ثمن" یعنی قیمت میں کمی کی ہوگی، لیکن ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

البحر الرائق (6/ 94):

وفي شرح المجمع معزيا إلى النوازل: لو قال: بعت منك هذا على أن أحط من ثمنه كذا جاز، ولو قال: على أن أهب منك كذا لم يجز البيع؛ لأن الحط ملحق بما قبل العقد ويكون البيع بما وراء المحطوط اه. وقيد ب "على"؛ لأن الشرط لو كان ب "أن" فإن البيع يفسد في جميع الوجوه إلا في مسألة ما إذا قال: إن رضي أبي أو فلان في ثلاثة أيام كما سيأتي فيما يصح تعليقه وما لا يصح. والتفصيل السابق إنما هو إذا علق بكلمة على.

وقيد بكون الشرط مقارنا للعقد؛ لأن الشرط الفاسد لو التحق بعد العقد، قيل: يلتحق عندأبي حنيفة، وقيل: لا وهو الأصح كما في جامع الفصولين في الفصل التاسع والثلاثين، ولكن في الأصل إذا ألحقا بالبيع شرطا  فاسدا يلتحق عندأبي حنيفة وإن كان الإلحاق بعد الافتراق عن المجلس، وصورته: لو باع فضة بفضة وتقابضا وتفرقا ثم زاد أحدهما صاحبه شيئأ أو حط عنه وقبله الآخر فالبيع فاسد عند أبي حنيفة، وقال أبو يوسف: البيع صحيح وتبطل الزيادة والحط، وقال محمد: الزيادة باطلة والحط جائز. ولو كان الشرط في العقد فأبطلاه إن كان المفسد في صلب العقد صح الحط في المجلس، ولا يصح فيما وراء المجلس اه.  

وقيد ب "على" دون الواو؛ لأنه لو زاد الواو بأن قال: بعتك هذا بكذا وعلى أن تقرضني كذا فالبيع جائز ولا يكون شرطا، وهو نظير ما لو كان دفع لرجل أرضا بيضاء فيها نخيل فقال دفعت إليك النخيل معاملة على أن تزرع كان شرطا للمزارعة في المعاملة، ولو قال: وعلى أن تزرع لم تفسد المزارعة. ويعرف من هاتين المسألتين كثير من المسائل كذا في الذخيرة وتبعه في البزازية.  

وقيد بإخراج ما ذكر مخرج الشرط؛ لأنه لو أخرجه مخرج الوعد لم يفسد، كما إذا باع بستانا على أن يعمر حوائطه، وأخرجه مخرج الوعد، ولكن لو لم يبن البائع لم يجبر ويخير المشتري في الرد، كذا في الذخيرة، لكن لم يبين بماذا يكون إخراجه مخرج الوعد، وهو أحد الأجوبة عن حديث بريرة، فإن البيع لم يكن بشرط العتق، وإنما كان بوعد عتقها.

الدر المختار (5/ 84):

( و ) لا ( بيع بشرط ) عطف على إلى النيروز يعني الأصل الجامع في فساد العقد بسبب شرط ( لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لأحدهما أو ) فيه نفع ( لمبيع ) هو ( من أهل الاستحقاق ) للنفع بأن يكون آدميا، فلو لم يكن كشرط أن لا يركب الدابة المبيعة لم يكن مفسدا كما سيجيء ( ولم يجر العرف به و ) لم ( يرد الشرع بجوازه ) أما لو جرى العرف به كبيع نعل مع شرط تشريكه أو ورد الشرع به كخيار شرط فلا فساد.

رد المحتار (5/ 84):

مطلب في البيع بشرط فاسد

  قوله ( ولا بيع بشرط ) شروع في الفساد الواقع في العقد بسبب الشرط لنهيه عن بيع وشرط ولكن ليس كل شرط يفسد البيع، نهر. وأشار بقوله بشرط إلى أنه لا بد من كونه مقارنا للعقد لأن الشرط الفاسد لو التحق بعد العقد قيل يلتحق عند أبي حنيفة وقيل لا وهو الأصح كما في جامع الفصولين في 39، لكن في الأصل أنه يلتحق عند أبي حنيفة وإن كان الإلحاق بعد الافتراق عن المجلس، وتمامه في البحر.

قلت: هذه الرواية الأخرى عن أبي حنيفة، وقد علمت تصحيح مقابلها وهي قولهما، ويؤيده ما قدمه المصنف تبعا للهداية وغيرها من أنه لو باع مطلقا عن هذه الآجال ثم أجل الثمن إليها صح فإنه في حكم الشرط الفاسد كما أشرنا إليه هناك، ثم ذكر في البحر أنه لو أخرجه مخرج الوعد لم يفسد، وصورته كما في الولوالجية: قال: اشتر حتى أبني الحوائط اهـ. قال في النهر بعد ما ذكر عبارة جامع الفصولين: وبهذا ظهر خطأ بعض حنفية العصر إذ أفتى في رجل باع لآخر قصب سكر قدرا معينا وأشهد على نفسه بأنه يسقيه ويقوم عليه بأن البيع فاسد؛ لأنه شرط تركه على الأرض، نعم الشرط غير لازم اه.

قلت: وفي جامع الفصولين أيضا: لو ذكرا البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العدة جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد إذ المواعيد قد تكون لازمة فيجعل لازما لحاجة الناس. تبايعا بلا ذكر شرط الوفاء ثم شرطاه يكون بيع الوفاء إذ الشرط اللاحق يلتحق بأصل العقد عند أبي حنيفة ثم رمز أنه يلتحق عنده لا عندهما وأن الصحيح أنه لا يشترط لالتحاقه مجلس العقد ا هـ، وبه أفتى في الخيرية وقال: فقد صرح علماؤنا بأنهما لو ذكرا الشرط البيع بلا شرط ثم ذكرا على وجه العدة جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد اه.

قلت: فهذا أيضا مبني على خلاف ما مر تصحيحه والظاهر أنهما قولان مصححان.

مطلب في الشرط الفاسد إذا ذكر بعد العقد أو قبله

 تنبيه: في جامع الفصولين أيضا: لو شرط شرطا فاسدا قبل العقد ثم عقدا لم يبطل العقد اه.

قلت: وينبغي الفساد لو اتفقا على بناء العقد عليه كما صرحوا به في بيع الهزل كما سيأتي آخر البیوع. وقد سئل الخیر الرملي عن رجلین تواضعا علی بیع الوفاء قبل عقده وعُقِد البیع خالیا

عن الشرط، فأجاب بأنه صرح في الخلاصة والفيض والتتارخانية وغيرها بأنه يكون على ما تواضعا.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 140):

 إذا اشتری المشتري مالا بشرط أن يهبه البائع أو أن يتصدق عليه أو يقرضه مالا معلوما أو أن يبيعه أو يؤجره أو يعيره مالا معينا فالبيع فاسد؛ لأن هذه الشروط فيها نفع لأحد العاقدين كما لو باع إنسان آخر ملكه بشرط أن يسكنه المشتري أو يعوله وينفق عليه إلى أن يموت فالبيع فاسد.  

وينبغي أن يعلم هنا أن الشرط الفاسد لا يفسد به البيع إلا إذا ذكر في العقد بغير الواو، فإذا ذكر بالواو كما إذا قال شخص لآخر: بعتك هذه السلعة بعشرة دنانير وعلى أن تقرضني خمسة فالبيع في مثل هذه الصورة جائز، ولا يعتبر مثل هذا شرطا، ' رد المحتار '؛ لأن ذكر الشرط بالواو يجعله مستقلا عن العقد غير متعلق به .

بدائع الصنائع (4/ 192-174):

 وأما معنى الإجارة فالإجارة بيع المنفعة لغة………… وأما شرائط الركن فأنواع  بعضها شرط الانعقاد، وبعضها شرط النفاذ، وبعضها شرط الصحة، وبعضها شرط اللزوم. أما شرط الانعقاد فثلاثة أنواع: نوع يرجع إلى العاقد، ونوع يرجع إلى نفس العقد، ونوع يرجع إلى مكان العقد ……..وأما الذي يرجع إلى نفس العقد ومكانه فما ذكرنا في كتاب البيوع…………. ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس، ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس، فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها والاستظلال بها؛ لأن هذه منفعة غير مقصودة من الشجر.  

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 372):

( المادة 405 ) الإجارة في اللغة بمعنى الأجرة، وقد استعملت في معنى الإيجار أيضا، وفي اصطلاح الفقهاء بمعنی بیع المنفعة المعلومة في مقابلة عوض معلوم.

توضيح القيود : يجب أن تكون المنفعة التي يعقد عليها في الإجارة مقصودة في الشرع ونظر العقلاء، فلو استأجر إنسان حصانا ليربطه أمام داره، أو ليجنبه، أو استأجر ثيابا ليضعها في بيته ليظن الناس أن له حصانا، أو ثيابا نفيسة ليراها الناس ويظهر بها بمظهر الأغنياء فالإجارة فاسدة، ولا تجب الأجرة فيها؛ لأنها منفعة غير مقصودة من العين في الشرع ونظر العقلاء، ولا يكفي لصحة الإجارة أن تكون المنفعة مقصودة للمستأجر، بل لا بد أن يكون فيها منفعة  مقصودة في الشرع ونظر العقلاء .

المجلة (ص: 52):

مادة 256: حط البائع مقدارا من الثمن المسمى بعد العقد صحيح ومعتبر، مثلا لو بيع مال بمائة قرش، ثم قال البائع بعد العقد: حططت من الثمن عشرين قرشا كان للبائع أن يأخذ مقابل ذلك المال ثمانين قرشا فقط.

 مادة 257: زيادة البائع في المبيع والمشتري في الثمن وتنزيل البائع من الثمن بعد العقد تلحق بأصل العقد، يعني يصير كأن العقد وقع على ما حصل بعد الزيادة و الحط.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       2/ربیع الاول/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب