03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں ساری جائیداد وقف کرنا
84800جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرا ایک رشتہ دار ہے جس کے بچے وغیرہ نہیں ہیں،البتہ ایک بہن اور تین بھائی ہیں،وہ زندگی میں اپنی ساری جائیداد مسجد و مدرسے کے لئے وقف کرنا چاہتا ہے،اس کا ارادہ ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے تمام جائیداد ختم کردے اور بہن بھائیوں کو وراثت میں کچھ بھی نہ مل سکے،اب درج ذیل باتوں کو مد نظر رکھ کر آپ سے راہنمائی کی درخواست ہے:

1۔ ابھی ان بہن بھائیوں کے درمیان والد کی جائیداد کی تقسیم عمل میں نہیں آئی،یعنی بہن کو جائیداد میں سے کچھ نہیں ملا۔

2۔ اس شخص کے بہن بھائیوں میں سے دو بھائی مالی لحاظ انتہائی کمزور ہیں،بچے اتنے ہیں کہ والد کی جائیداد میں انہیں شاید گھر کے لئے بھی جگہ نہ مل سکے۔

3۔یہ شخص جو اپنی جائیداد ختم کررہا ہے ایک عام سیدھا سادہ سا مسلمان ہے،علاقے میں جتنی خرافات ہوتی ہیں سب میں شریک ہوتا ہے،مقصد بتانے کا یہ ہے کہ دین کے بقیہ احکام پر عمل کرنے کی کوئی خاص پابندی نہیں کرتا کہ ہم سمجھیں کی یہ اپنی جائیداد صرف آخرت کی فکر کی وجہ سے وقف کررہا ہے۔

4۔اس کے تمام رشتہ دار اس کے اس عمل سے ناراض ہیں،لیکن عملی طور پر کچھ کرنہیں سکتے۔

اب ان باتوں کی روشنی میں آپ سے راہنمائی کی درخواست ہے کہ آیا اس شخص کے لئے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

تنقیح:پہلی بات سے متعلق وضاحت یہ ہے کہ یہ لوگ کل چار بھائی ہیں اور ایک ان کی بہن ہے،والد کی جائیداد میں بھائیوں نے اپنے حصے تو طے کردیئے ہیں،لیکن بہن کو کوئی حصہ نہیں دیا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس شخص کے ورثا موجود ہوں اس کے لئے اپنی ساری جائیداد وقف کرنا شرعا بہتر نہیں،بلکہ زیادہ سے زیادہ تہائی مال کسی دینی یا رفاہی ادارے کے لئے خود وقف کرے یا اس کی وصیت کردے کہ میرے مرنے کے بعد یہ فلاں ادارے کو دے دینا،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےزیادہ سے منع فرمایا ہے،چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ کی روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے کل مال کی وصیت کرنا چاہتا ہوں،آپ نے منع فرمادیا،پھر میں نے آدھے مال کا پوچھا تو آپ نے اس سے بھی منع فرمادیا،پھر تہائی کی اجازت چاہی تو آپ علیہ السلام نے اس کی اجازت دی اور فرمایا کہ یہ بھی بہت ہے اورمزیدفرمایا کہ تم اپنے ورثہ کو خوشحال چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں اس حال میں چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں،جبکہ اس وقت حضرت سعد کی بھی صرف ایک  ہی بیٹی تھی،لیکن اس کے باوجود آپ نے انہیں تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کی اجازت نہیں دی۔

علاوہ ازیں والد کی جائیداد میں سے بہن کو اس کا حصہ دینا بھی لازم ہے،کیونکہ میرإث میں جس طرح مردوں کا  حق اورحصہ متعین ہے بالکل اسی طرح اللہ تعالی نے عورتوں کا حصہ بھی متعین فرمایا ہے،چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:

{لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا } [النساء: 7]

ترجمہ:مردوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،چاہے وہ(ترکہ)تھوڑا ہو یا زیادہ،یہ حصہ(اللہ کی طرف سے)مقرر ہے۔(آسان ترجمہ قرآن)

اور ناحق دوسروں کا مال کھانے پر احادیث میں سخت وعیدوارد ہے،چنانچہ صحیح مسلم کی ایک روایت کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین بھی ناحق لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پر ڈالی جائے گی"۔

لہذا تمام بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ کل جائیداد میں سے بہن کا جو حصہ بنتا ہے اس کے حوالے کردیں اور اگر سب بھائی بہن کو حصہ دینے پر آمادہ نہ ہوں تو جو بھائی حصہ دینا چاہتا ہے وہ انفرادی طور پر اپنے حصےمیں شامل بہن کے اضافی حصے کواس کے حوالے کردے اور بقیہ بھائیوں کو بھی اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے کہ وہ بہن کا حصہ اسے دے دیں۔

اس لئے  مذکورہ صورت میں پہلے تو اس شخص پر لازم ہے کہ اپنے حصے میں شامل بہن کا حصہ اس کے حوالے کردے،کیونکہ اس پر اس کا قبضہ ناجائز ہے اوربہن کے حصے کے علاوہ اس کی ذاتی جائیداد کے حوالے سے بھی اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ ساری جائیداد زندگی میں صدقہ یا وقف کرنے کی بجائے صرف تہائی مال کی وصیت کرے اور اس کے علاوہ جو بچے وہ اس کی وفات کے وقت موجود ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کردیا جائے۔

حوالہ جات

"صحيح البخاري" (4/ 3):

 "عن سعد بن أبي وقاص رضيﷲ عنه، قال: جاء النبي صلىﷲ عليه وسلم يعودني وأنا بمكة، وهو يكره أن يموت بالأرض التي هاجر منها، قال: «يرحم ﷲ ابن عفراء»، قلت: يا رسول ﷲ، أوصي بمالي كله؟ قال: «لا»، قلت: فالشطر، قال: «لا»، قلت: الثلث، قال: «فالثلث، والثلث كثير، إنك أن تدع ورثتك أغنياء خير من أن تدعهم عالة يتكففون الناس في أيديهم، وإنك مهما أنفقت من نفقة، فإنها صدقة، حتى اللقمة التي ترفعها إلى في امرأتك، وعسى ﷲ أن يرفعك، فينتفع بك ناس ويضر بك آخرون»، ولم يكن له يومئذ إلا ابنة".

"صحيح مسلم "(3/ 1231):

"عن سعيد بن زيد، قال: سمعت النبي صلىﷲ عليه وسلم يقول: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".

"شرح صحيح البخارى لابن بطال "(8/ 144):

"وأجمع العلماء على القول به واختلفوا فى القدر الذى يستحب أن يوصى به الميت، وسيأتى بعد هذا، إلا أن الأفضل لمن له ورثة أن يقصر فى وصيته عن الثلث غنيا كان أو فقيرًا؛ لأن رسولﷲ (صلى ﷲ عليه وسلم) لما قال لسعد: (الثلث كثير) أتبع ذلك بقوله: (إنك إن تذر ورثتك أغنياء خير من أن تدعهم عالة يتكففون الناس) ولم يكن لسعد إلا ابنة واحدة كما ذكر فى هذا الحديث، فدل هذا أن ترك المال للورثة خير من الصدقة به". 

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

02/ربیع الاول 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب