03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمیٹی کے کہنے پر چار ماہ کے لیے جانے والے امام کو تنخواہ ملے گی یا نہیں؟
84857وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

ایک عالمِ دین ایک جامع مسجد میں 1994ء سے امام و خطیب ہیں، ان کا ماہانہ وظیفہ بارہ ہزار روپے ہے۔ امام صاحب مسجد کی انتظامی کمیٹی اور مسجد کے تبلیغی امیر صاحب کے مشورے پر چار ماہ کے لیے تبلیغی جماعت میں گئے ہیں، اس وقت مانسہرہ میں دوسرے چلے میں چل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس امام صاحب کو مسجد سے ماہانہ جو تنخواہ ملتی تھی وہ ان چار مہینوں میں دینا جائز ہے یا نہیں؟

ہمارے علاقے کے مفتی صاحب سے کمیٹی نے یہ مسئلہ زبانی پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ امام صاحب تیس سال سے لگاتار اسی مسجد سے منسلک ہیں، ان کا کوئی دوسرا ذریعۂ معاش نہیں، ابھی بھی وہ دین ہی کے ایک شعبے میں کام کے لیے نکلنے کی وجہ سے مسجد نہیں آپا رہے ہیں، نیز وہ چار ماہ کے لیے کمیٹی کی اس یقین دہانی کے بعد نکلے ہیں کہ آپ چلے جائیں، کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے کمیٹی ان کے لیے تنخواہ کا بند و بست کرے، ان کو تنخواہ دینا جائز ہے۔

انتظامیہ کمیٹی کے بعض افراد یہ مسئلہ اس لیے بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ کہیں ایسی صورت نکلے کہ شرعی طور پر امام صاحب کی تنخواہ نہ بنتی ہو اور ہم ان کو دیں تو بعد میں پھر احسان جتلائیں گے کہ آپ مسجد میں حاضر بھی نہیں ہوتے اور تنخواہ بھی لیتے ہیں، آپ ہمارے پیسوں پر پل رہے ہیں۔ اس طرح احسان جتلانے کا واقعہ پہلے بھی ایک دو مرتبہ ہوچکا ہے۔ شرعی طور پر اس امام صاحب کے تحفظ کی ایسی صورت ہے کہ اگر ان کو دی جائے تو وہ ان کے لیے لینا دلیل کے ساتھ جائز ہو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

امامت ایک معزز منصب ہے، امام قوم کا راہنما اور پیشوا ہوتا ہے، امام کو کم نظر سے دیکھنا یا طعنے دینا ہرگز جائز نہیں، اس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔ صورتِ مسئولہ میں اگر امام صاحب مسجد کمیٹی کی اجازت اور یقین دہانی پر چار ماہ کے لیے تبلیغ میں نکلے ہیں تو کمیٹی پر لازم ہے کہ وہ ان کو ان چار ماہ کی تنخواہ دے، یہ اس پر کمیٹی کا احسان نہیں، بلکہ اس کا استحقاق ہوگا۔ مزید یہ کہ تبلیغی سفر پر جانے میں فی نفسہ مسجد کی مصلحت بھی ہے کہ اس سے معاشرے میں کام کرنے اور لوگوں کو مسجد کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں مسجد اعمال سے آباد ہوتی ہے۔ آئندہ کے لیے امام صاحب اور مسجد کمیٹی مل کر اس حوالے سے کوئی ضابطہ بنالیں اور پھر اس کے مطابق عمل کریں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (4/ 500):

والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة، ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر.

مجلة الأحكام (82):

(مادة 425 ): الأجير الخاص يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل، ولا يشترط عمله بالفعل، ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل، وإذا امتنع لا يستحق الأجرة .

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 387):

معنى كونه حاضرا للعمل أن يسلم نفسه للعمل ويكون قادرا وفي حال تمكنه من إيفاء ذلك العمل. أما الأجير الذي يسلم نفسه بعض المدة،  فيستحق من الأجرة ما يلحق ذلك البعض من الأجرة . مثال ذلك كما لو آجر إنسان نفسه من آخر ليخدمه سنة على أجر معين فخدمه ستة أشهر ثم ترك خدمته وسافر إلى بلاد أخرى ثم عاد بعد تمام السنة وطلب من مخدومه أجر ستة الأشهر التي خدمه فيها ; فله ذلك وليس لمخدومه أن يمنعه منها بحجة أنه لم يقض المدة التي استأجره ليخدمه فيها . ( البهجة ) .

فتح القدير (4/ 425):

عن مشايخ بلخ في مسجد له اوقاف ولا متولى له فقام رجل من اهل المحلة في جمع ريعها وانفق على مصالح المسجد فيما يحتاج من شراء الزيت والحصر والحشيش لا يضمن استحسانا.

البحر الرائق (5/ 228):

ومنها: هل يستدين بإذن القاضي للحصر والزيت بالمسجد أم لا؟ فعلى أنهما من المصالح له ذلك وإلا فلا، وقد اختلف في كونهما من المصالح، ففي القنية رقم لركن الدين الصباغي وقال: كتبت إلى المشايخ ورمز للقاضي عبد الجبار وشهاب الدين الإمامي هل للقيم شراء المراوح من مصالح المسجد؟ فقالا: لا، ثم رمز للعلاء الترجماني فقال: الدهن والحصير والمراوح ليس من مصالح المسجد وإنما مصالحه عمارته، ثم رمز لأبي حامد وقال: الدهن والحصير من مصالحه دون المراوح، قال: يعني مولانا بديع الدين وهو أشبه للصواب وأقرب إلى غرض الواقف اه، فقد تحرر أن الراجح كونهما من المصالح فيستدين بإذن القاضي.

 

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       5/ربیع الاول/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب