03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بدکردارشوہر سے خلاصی کاحکم
84150طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرا نام نہیاشیخ زوجہ فراز شیخ ہے،میرامسئلہ یہ ہے کہ شادی کے بعد سے ہی مجھے پتہ چل گیاتھا کہ میرے شوہر کے غیر عورتوں کے ساتھ تعلقات ہیں،میری شادی کو ساڑھے چارسال ہوگئے ہیں ،میرے دو بچے ہیں ،ایک سوا دوسال کا بیٹاہے اورایک سات ماہ کی بیٹی ہے،میں نے اپنے شوہر کو بہت سمجھایا،اس نے وعدہ  بھی کیا کہ اب وہ غیر عورتوں سے تعلقات نہیں رکھے گا ،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہی وہ دوسری عورتوں سے ملنے لگا اورویڈیوکال پر باتیں اورنامناسب حرکتیں کرنے لگا اورزنا تک تب نوبت پہنچ گئی ،میں نے اپنی پوری کوشش کی،دھمکی  بھی دی مگروہ  مجھے دھمکا کر چپ کرادیتاہے کہ لوگ تمہیں ہی بولیں گے کہ تم اپنے شوہر کا حق پورا نہیں کرتی،وہ میرے ساتھ بھی ہرروز ہمبستری کرتاہے، حیض کے دنوں میں اورآپریشن سے ڈیلوری ہوتی ہے تو ان دنوں میں بھی اورروزوں میں بھی نہیں چھوڑتا،اس کے ساتھ ساتھ وہ سگریٹ ،شراب اورہر طرح کا نشہ کرتاہے اوراب وہ ڈیڑھ سال سے بے روزگاربھی ہے ،میرااورمیرے بچوں کا خرچہ مذکورہ عورتوں سے پیسے لیکر پورا کرتاہے، اس کا ان عورتوں سے بھی تعلق ہے جو لڑکیاں سپلائی کرتی ہیں اوریہ ان لڑکیوں کو اپنے دوستوں میں لے کر جاتاہے۔میں ابھی اپنے والدین کے گھرہوں تو تب بھی دھمکیاں دے رہاہے کہ تم مجھے باغی بنا رہی ہو،یہ سب کرکے اب میں سب کو دکھاؤں گا ،ابھی تک اس نے میرا حقِ مہر جو کہ سوالاکھ ہے ادا نہیں کیا ،میری درخواست ہے کہ شریعت کی روسےمیرے لیے کیاحکم ہے،مجھے اس شخص کے ساتھ رہنا چاہیے یا طلاق لے لینا چاہیے؟ اس مسئلہ میں میری رہنمائی فرمائیں،جزاکم اللہ خیرا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 واضح رہے کہ احادیث شریفہ میں بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنے والی عورت کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کے لئے جنت کی خوشبوبھی  حرام ہے،تو اگر سوال میں مذکورحالات حقیقت پر مبنی نہ ہوں تو آپ ہر گز طلاق کا مطالبہ  نہ کریں، آج کل کے معاشرے میں طلاق یافتہ عورت کواچھی نگاہ سے نہیں دیکھاجاتا، اس کوآگے شادی میں بھی مشکلات ہوتی ہیں اورعزت اورروزی کے حوالے سےبھی  مشکل کا سامنا کرنا پڑتاہے۔

تاہم اگرسوال میں ذکر کردہ تفصیل  واقعی سچ ہےتو اجنبی عورتوں کےساتھ تعلقات،زنا،شراب نوشی لڑکیوں کی سپلائی ،بیوی کے ساتھ حیض اورنفاس میں جماع وغیرہ یہ سب کام ناجائز اورحرام کام ہیں، ایسی ٍصورت میں آپ کے لیے حکم یہ ہے کہ دونوں طرف کے خاندانوں کے بااثر اور بااختیار بزرگ حضرات  جمع ہوکرآپ کے شوہر کو سمجھا کر سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کریں، اگر خدانخواستہ وہ پھر بھی اپنےاس برے کردار سے باز نہیں آتا، تو شرعاً آپ کیلئے جائز ہے کہ  اس شوہرسے طلاق یا مہرکے بدلےخلع لے لیں اور پھر عدت گزارنے کے بعد کہیں اور شادی کرلیں۔

حوالہ جات

عن ثوبان رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أیما امرأۃ سألت زوجہا طلاقاً في غیر ما بأس فحرام علیہا رائحۃ الجنۃ۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۳۰۳ رقم: ۲۲۲۶، سنن الترمذي رقم: ۱۱۸۷، مسند أحمد ۵؍۲۷۷، مشکاۃ المصابیح ۲۸۳ رقم: ۳۲۷۹، المستدرک للحاکم ۲؍۲۱۸ رقم: ۲۸۰۹، السنن الکبریٰ للبیہقي ۷؍۳۱۶)

سنن الترمذي - (ج 2 / ص 329)

عن ثوبان ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (المختلعات هن المنافقات) هذا حديث غريب من هذا

الوجه وليس إسناده بالقوى . وروى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : (أيما امرأة اختلعت من زوجها من غير بأس ، لم ترح رائحة الجنة) 1199 حدثنا بذلك محمد بن بشار . حدثنا عبد الوهاب الثقفى حدثنا أيوب ،عن أبى قلابة ، عمن حدثه ، عن ثوبان : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : (أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير باس ، فحرام عليها رائحة الجنة) وهذا حديث حسن .

قال اللّٰہ تعالیٰ:

 {فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ} (البقرۃ: ۲۲۹)قد صرح في الخانیۃ: بأنہا لو أبرأتہ عمالہا علیہ علی أن یطلقہا، فإن طلقہا جازت البراء ۃ وإلا فلا۔ (شامي ۵؍۱۰۷ زکریا، ۳؍۴۵۴)

وفی الھندیۃ (۴۸۸/۱):

إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية۔

وفی الشامیۃ (۴۴۱/۳):

قوله ( للشقاق ) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم  وفي القهستاني عن شرح الطحاوي السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع اهـ ط وهذا هو الحكم المذكور في الآية وقد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب ۔

وفی البحرالرائق  کتاب الطلاق( ج ۳ ص ۲۵۳)

واما سبعہ فالحاجۃ الی الخلاص عند تبائن الا خلا ق و عروض البغضاء المو جبۃ عدم اقامۃ حدود اﷲ الخ ویکون واجبااذا فات الا مساک بالمعروف .

حاشية ابن عابدين - (3 / 228، كتاب الطلاق)

 وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها ولهذا قالوا إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل بل هي أعم كما اختاره في الفتح فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر ولهذا قال تعالى { فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا } سورة النساء الآية 34 أي لا تطلبوا الفراق وعليه حديث أبغض الحلال إلى الله عز وجل الطلاق قال في الفتح ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اه ، وإذا وجدت الحاجة المذكورة أبيح وعليها يحمل ما وقع منه ومن أصحابه وغيرهم من الأئمة صونا لهم عن العبث والإيذاء بلا سبب.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

25/12/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب