03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا حکم
84334جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

مجھے کرپٹو کے بارے میں بتا دیں، کیا وہ اسلام میں جائز ہے ؟اور اس کی ڈیزائن پر بنی ہوئی ویب سائٹ جو آپ کو ٹریڈنگ کے لیے سگنل دیتی ہے ،کیا اس کا استعمال کرنا اور اس میں انویسٹمنٹ کرنا جائز ہے؟ویب سائٹ کا نام (میگا انویسٹمنٹ2139 )ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کرپٹو کرنسی کے متعلق علماء  کرام کی تین طرح کی آراء ملتی ہیں۔ پہلی رائے اس کے مطلقا ناجائز ہونے کی ہے۔ دوسری رائے توقف کی ہے یعنی جب تک اس کے متعلق تمام تر صورتحال واضح نہیں ہوجاتی  اس کو جائز یا ناجائز نہیں کہا جاسکتا۔ اور تیسری رائے کے مطابق کرپٹو کرنسی کا استعمال اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ حکومتی قوانین کے تحت ہو۔

کرپٹو کرنسی اور دوسری ڈیجیٹل کرنسیوں کا کوئی حسی وجود نہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی قانونی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس لیے بحالتِ موجودہ اس کے لین دین سے احتراز لازم ہے۔

مذکورہ ویب سائٹ (میگا انویسٹمنٹ2139 ) بنیادی طور پر فاریکس اور کرپٹو ٹریڈنگ کے لئے درمیانی واسطہ  کے طور پر کام کرتی ہے، کرپٹو کے حوالہ سے حکم اوپر تحریر کر دیا گیا ہے ، جب کہ آن لائن فاریکس ٹریڈنگ  کا اصولی جواب یہ ہے کہ  کموڈٹیز اور کرنسیز میں آن لائن فاریکس ٹریڈنگ درج ذیل شرائط کےساتھ جائز ہے :

1.        فاریکس ٹریڈنگ  کی  کمپنی    متعلقہ ملک کے مجاز  اور نگران  ادارے کےپاس رجسٹرڈ ہو ۔واضح رہے کہ یہ بات اس ملک میں شرط ہوگی ،جس میں اس کا رجسٹرڈہونا قانونا لازمی ہو،  بصورت دیگر  فراڈ سے بچنے کےلیے  اس کا اہتمام کرنا چاہیے، لازمی نہیں۔

2.       چیز کا لین دین حقیقی ہو ، صرف اکاونٹ میں ظاہر نہ کی  جاتی ہو ۔

3.       چیز  بیچنے والا اس کا حقیقتا مالک   ہو اور  بیچنے سے پہلے اس پر قبضہ بھی کیا ہو ۔

4.        ایک ملک کی کرنسیز اوررقم کے بدلے سونے  کا لین دین کرنے میں یہ بھی شرط ہےکہ عقد کی مجلس میں ہی کسی ایک کرنسی پر حقیقتا یا حکما  قبضہ کر لیا جائے۔

5.        بیع فوری ہو ، فیوچر  یا  فارورڈسیل نہ ہو۔

 ہماری معلومات کےمطابق فاریکس ٹریڈنگ کےموجودہ ماڈل میں ان شرائط  کا عملا خیال نہیں رکھا جاتا ،اس لیے  اس سے احتراز لازم اور اس پر کام کرنا ناجائز  ہے ۔

حوالہ جات

القرآن الکریم (النساء 59):

یۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505):

 وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 561):

ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

17/ محرم/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب