| 84741 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
اس دور میں جہاں تصاویر کو زوم کرکے اور چلتی ویڈیو کو روک کر اپنی مرضی کی چیز بار بار دیکھنے کا امکان ہو، وہاں با پردہ عورت کا بے پردہ چہرہ یا بے پردہ عورت کی تصاویرنیک مقصد سے نشر کرکے نیک پیغام پہنچانے کی شرعاً کس حد تک اجازت ہوگی؟ جبکہ بعض مذاہب میں چہرے کے پردے کو شرعاً ضروری نہیں سمجھا جاتا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صحیح پیغام پر مبنی ویڈیوز میں بلاضرورت خواتین کے چہرے کی تصاویر لگانا جائز نہیں ہے،اس میں بہت سے مفاسد
اورخرابیاں ہیں،عورت کی صنفی کشش کو لوگوں کی رغبت کھینچنے کے لیے استعمال کرنا حرام عمل ہے۔
اگر یقینی ضرورت ہو،مثلاً :گم شدہ یا جرائم پیشہ خواتین کی نشان دہی وغیرہ تو اس وقت گنجائش ہوسکتی ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تبارک وتعالی:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا [الأحزاب: 59[
أحكام القرآن للجصاص486/3 )):
"يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ "قال أبو بكر: في هذه الآية دلالة على أن المرأة الشابة مأمورة بستر وجهها عن الأجنبيين وإظهار الستر والعفاف عند الخروج لئلا يطمع أهل الريب فيهن. وفيها دلالة على أن الأمة ليس عليها ستر وجهها وشعرها ؛لأن قوله تعالى:" وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ "ظاهره أنه أراد الحرائر، وكذا روي في التفسير، لئلا يكن مثل الإماء اللاتي هن غير مأمورات بستر الرأس والوجه، فجعل الستر فرقا يعرف به الحرائر۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
25/صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


