03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل فون پر نکاح کا حکم
85481نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

میں گھر والوں سے چھپ کر ایک لڑکے سے فون پر بات کر رہی تھی ۔ایک دن  اس نے مجھ سے نکاح کا پوچھا تو میں نے ہاں بول دیا۔ پھر اس نے مجھ سے کہا، "ایسے نہیں، اللہ کو حاضر و ناظر جان کر اپنے پورے ہوش و حواس میں بولو"، تو جیسے اس نے کہا ،میں نے بول دیا ۔ اب مجھے یہ یاد نہیں کہ میرے پاس میری کزن اور اس کے پاس اس کا ایک بھائی تھا یا دو بھائی تھےاور  وہ ہماری بات سن رہے تھے یا نہیں،لیکن شک ہے کہ لڑکے کے پاس جو تھے وہ سن رہے ہوں اور میری کزن بھی سن رہی ہو، کیا یہ نکاح منعقد ہو چکا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح کے  منعقد ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ   ہےکہ لڑکا ، لڑکی یا ان کے وکیل ایک ہی مجلس میں ہوں ، اور اسی مجلس میں گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول ہو ۔ گواہی کے لیے شرعا ضروری ہے کہ گواہ بنتے وقت مشاہدہ ہو اور گواہی ادا کرتے وقت بذات خود گواہی ادا کی جائے،جبکہ فون پر نکاح کرنے  میں مشاہدہ کے بجائے فون یا ویڈیو پر گواہ بن جانے کی صورت ہوتی ہے، ویڈیو کی گواہی معتبر نہیں ہےاور نتیجتا نکاح بغیر شرعی گواہی کے قرار پاتا ہے۔لہذا ان وجوہات کی بناء پر  فون پر کیا جانے والا نکاح فاسد ہے۔اگر اس لڑکے کا نمبر ہو تو اسے بتا دیں کہ میں وہ نکاح فسخ کرتی ہوں ، اگر نمبر نہ ہو تو اسے بتائے بغیر بھی آپ زبانی طور پر    نکاح فسخ کر سکتی ہیں۔

اسلام نے ہمیں حیا اور پاکدامنی کا درس دیا ہے،کسی غیر محرم کے ساتھ فون پر باتیں کرنا  گناہ کبیرہ ہے، اگر آپ اس سے توبہ کر چکی ہیں تو  اللہ کا شکر ادا کریں، لیکن اگر آپ اس گناہ میں ملوث ہیں تو جلد از جلد اس گناہ سے توبہ کریں  ۔ سچی توبہ کے لیے ضروری ہے  کہ اس گناہ پر نادم ہوں ، آئندہ نہ کرنے کا عزم ہو اور  فورا اس گناہ کو چھوڑ دیا جائے۔  

حوالہ جات

المحيط البرهاني (3/ 29):

رجلٌ ‌زوج ‌ابنته ورجل في بيت وقوم في بيت آخر يسمعون التزويج، ولم يشهدوهم، إن كان من هذا إلى ذلك البيت كوّة رأوا الأب منها تقبل شهادتهم، وإن لم يروا الأب لم تقبل شهادتهم.

مجلة مجمع الفقه الإسلامي (6/ 958 ):

قرار رقم : 52 (2/6) بشأن حكم إجراء العقود بآلات الاتصال الحديثة

بعد ما قرر المجمع جواز إجراء العقود بآلات الاتصال الحديثة قال :"إن القواعد السابقة لا تشمل النكاح لاشتراط الإشهاد فيه" .

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 181):

والمراد بالنكاح الفاسد النكاح الذي لم تجتمع شرائطه كتزوج الأختين معا والنكاح ‌بغير ‌شهود ونكاح الأخت في عدة الأخت ونكاح المعتدة والخامسة في عدة الرابعة والأمة على الحرة ويجب على القاضي التفريق بينهما كي لا يلزم ارتكاب المحظور.

حاشية ابن عابدين (3/ 132):

)و) يثبت (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بها أو لا) في الأصح خروجا عن المعصية.

)قوله في الأصح) وقيل بعد الدخول ليس لأحدهما فسخه إلا بحضرة الآخر كما في النهر وغيره.

محمد سعد ذاكر

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

08/جمادی الاولی/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب